پاکستان کرکٹ میں کپتانی کا نیا تنازعہ طول پکڑنے لگا

Pakistan Cricket Captency

اظہرعلی سے ون ڈے کپتانی واپس لیکر ٹیسٹ کپتانی بھی نہ دینے کی مہم تیز کردی گئی کیا سرفراز احمد ٹیسٹ کے پہلے دن کے اختتام پر اگلے چار دن کی حکمت عملی بنانے کی اہلیت رکھتا ہے ؟؟

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری بدھ 1 فروری 2017

پاکستان کرکٹ کا ہرانداز نرالہ ہے۔ پیسے کی ریل پیل ہونے کے باوجود کرکٹ بورڈ کے فیصلے اور عموماً سست روی دیکھ کر اس قدر حیرانی ہوتی ہے کہ صرف اور صرف کرکٹ کے معاملات ڈیل کرنیوالے اس قدر سوچ بچار اور حکمت عملی سے عاری ہوسکتے ہیں کہ ایک بگڑے ہوئے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی بجائے اسے مزید بگاڑنے کی کوشش میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک عام کرکٹ شائق بھی جانتا ہے کہ اس وقت ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ بیٹنگ کا ہے اور یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ کبھی کبھار در پیش آتا ہو جس پر کہا جائے کہ یہ تومعمولی مسئلہ ہے تو پریشانی والی بات نہیں۔ تمام ذمہ دار اچھی طرح جانتے ہیں کہ اوپنرز سے لیکر لوئر آرڈر تک بلے بازوں نے ہمیشہ دھوکہ ہی دیا اور جب بلے باز ساتھ نہ دیتے ہوں تو ٹیم کو شکست کا ہی منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

آسٹریلیا میں تینوں ٹیسٹ میچز میں بری طرح ناکامی ہوئی اور پانچ ون ڈے میچز کی سیریز میں صرف ایک ہی میچ قومی ٹیم جیت سکی۔ قومی ٹیم کی کارکردگی اس قدر بری اور ناقابل برادشت تھی کہ سابق آسٹریلوی کپتان آئن چیپل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر پاکستانی ٹیم نے مقابلہ کیے بغیر ہی میچز میں شکست کھانا ہوتی ہے تو آسٹریلوی کرکٹ بورڈ آئندہ پاکستانی ٹیم کو دورہ آسٹریلیا کی دعوت ہی نہ دے۔ جی جناب ۔۔یہ دن بھی دیکھنا پڑا۔ جس کی تمام تر ذمہ داری قومی سلیکشن کمیٹی اور پی سی بی پر عائد ہوتی ہے اور آج کل تمام تر ملبہ ون ڈے کپتان اظہر علی پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ محمد حفیظ اور عمراکمل کو بھی قربانی کا بکرا بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہے اور اس میں ایک مخصوص طبقہ نہ صرف اظہرعلی کو کپتانی سے ہٹانے کی مہم شروع کرچکا ہے جبکہ ساتھ ساتھ سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹ کا کپتان بنانے کیلئے بھی میڈیامیں چھایا ہوا ہے۔
بطور کرکٹ مبصر مجھے 10 برس ہوگئے اس کھیل کو بہت قریب سے دیکھتے ہوئے اور مجھے سرفراز احمد کو کپتانی دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میرے چند سوالات ہیں جس میں نمایاں یہ کہ اگر سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا جاتا ہے تو کیا پانچ روزہ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام پر سرفراز احمد اگلے چار دن میچ کی صورتحال کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ یا اظہرعلی کی طرح وہ بھی سنیئر کھلاڑیوں پر امیدیں لگاکر رکھے گا اور سنیئر کھلاڑی دھوکہ دیتے رہیں گے اور ٹیم کی کارکردگی بد سے بدتر ہوتی چلی جائے گی؟۔ اس سوال کا کسی مضبوط منطق کے ساتھ جواب مل جائے تو میں اگلا آرٹیکل سرفراز احمد کو کپتان بنائے جانے کے حق میں لکھوں گا۔ کیونکہ ہمیں ایسا ہی کپتان چاہیے جو سمجھدار بھی ہو اور ذمہ دار بھی۔یہاں پاکستان میں ٹیلنٹ کی بجائے فیورٹ ازم کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر میری خواہش ہوگی کہ سرفراز کی بجائے کسی اور کو کپتان بنایا جائے اور آپ کی مرضی کچھ اور ہوگی، یہی سب پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہورہا ہے اور پھر سابق کرکٹرز جن کی بہت عزت و قدر ہے لیکن وہ بھی فیورٹ ازم کے فوبیا کا شکار ہیں اور آئے روز نئی سے نئی مہم جوئی کا حصہ بن جاتے ہیں اور کچھ دن بعد اپنے ہی پرانے بیانات سے انحراف کررہے ہوتے ہیں، اختلاف رائے سے اختلاف نہیں ہے لیکن اختلاف کی پیچھے ذاتی پسند ہو تو اس کا وقتی فائدہ تو مل جائیگا لیکن طویل المدتی ثمرات نہیں ملتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کپتان یا کھلاڑیوں کی گردن پر چھری چلانے سے پہلے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کی سیٹ پر کسی اہل کرکٹر کو تعینات کرے اورپھر ٹیم کیلئے ایک ڈائریکٹر بھی تعینات کرے جو ایک ویژن رکھنے والا سابق کرکٹر ہو جیسے انگلینڈ نے اینڈریو سٹراؤس اور بھارت نے روی شاستری سے کام لیا جو ٹیم اور کھلاڑیوں کے مسائل حل کرنے میں مگن رہے اور اس وقت دونوں ٹیموں کی کارکردگی قابل رشک ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ہمارے کلچر میں تین کپتان نہیں چل سکتے، بھارت میں ایک ہی کپتان ہے کوہلی اور اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ہی کپتان بنانا چاہیے، وہ چاہے سرفراز ہو یا اظہرعلی ، تینوں فارمیٹ کا ایک ہی کپتان اس وقت پاکستان کرکٹ کو مسائل سے نکال سکتا ہے ورنہ تین کپتان ہونگے ، تین حکمت عملی بنیں گی اور کوئی بھی شکست کی ذمہ داری نہیں لے گا۔ بہتر یہی ہے کہ ایک ہی لیڈر شپ میں تمام کھلاڑیوں کو دیا جائے۔ اور اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار یہ سمجھتے ہیں کہ صرف کپتان بدل دیا جائے تو جناب موجودہ حالات میں کپتان تبدیل ہونے سے کیا کچھ بدلے ہوگا،پی س بی کواپنا اور ٹیم کا کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ 2019ء کا ورلڈ کپ سرپہ ہے، کیا اس کی ٹیم تیار کرنی ہے یا نہیں، یہ وہ اہم باتیں ہیں جن پر پی سی بی کو غور کرنا ہوگا نہ کہ کپتان کو تبدیل کرکے حقیقت سے آنکھیں چرانے سے مسائل حل ہونگے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments