تاریخ میں پہلی بارورلڈکپ میں 12ویں پوزیشن”پاکستان ہاکی کی موت ہوگئی“

Pakistan Hockey Ki Moot Ho Gaye

فیڈریشن نے ذمہ داری کھلاڑیوں پر ڈال دی، 18رکنی پوری ٹیم مستعفی ہوگئی،سلیکشن کمیٹی اورکوچزبرطرف پی ایچ ایف کے صدرقاسم ضیاء اور سیکرٹری آصف باجوہ کا استعفیٰ دینے سے انکار، مزید بیڑہ غرق کرنے کیلئے تسلیاں دینا شروع کردیں

جمعہ 12 مارچ 2010

اعجازوسیم باکھری: مجھے یہ لکھتے ہوئے کافی تکلیف محسوس ہورہی ہے کہ دہلی میں پاکستان ہاکی کی موت ہوگئی ہے۔یہ ہے تو ایک کڑوا سچ ہے لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نہ تو انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں۔تاریخ میں پہلی بارپاکستان ہاکی ٹیم نے ورلڈکپ مقابلوں میں 12ویں پوزیشن حاصل کی اور دکھ اور شرم کی بات تو یہ ہے کہ ورلڈکپ میں شریک ہی بارہ ٹیمیں تھی اور پاکستان جو دنیا میں سب سے زیادہ چار مرتبہ ورلڈکپ جیتنے کا عالمی ریکارڈ رکھتا ہے اُس کی ٹیم بارہ ٹیموں میں 12ویں نمبرپرآئی۔

ٹیم کی تیاری کیسی تھی یا حریف ٹیمیں کتنا مضبوط تھیں اس بارے میں کچھ کہنا فضول اور حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے مترداف ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کی دہلی میں موت واقع ہوگئی ہے جس کی اب تدفین کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے کیونکہ قاسم ضیاء نے تمام کوچز اور تمام سلیکٹرز کو برطرف کردیا ہے اور جہاں تک کھلاڑیوں کی بات ہے انہوں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہاکی چھوڑ نے کافیصلہ کرلیا ہے اورتاریخ میں پہلی بار پاکستان کی پوری ہاکی ٹیم نے استعفیٰ دیدیا ہے۔

(جاری ہے)

بلاشبہ جمعرات کا دن پاکستان ہاکی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، حیرانی کی بات یہ ہے کہ آخری پوزیشن کے میچ میں بھی قومی ٹیم کے کھلاڑی تھکے تھکے نظرآئے اور اُن میں وہ حوصلہ اور جذبہ نظرنہیں آیا جو پاکستانی ٹیم کی پہچان رہا ہے۔میں ذاتی طور پر ٹیم کی اس ناقص کارکردگی پر کھلاڑیوں کو ذمہ دار قراردینے کی بجائے پی ایچ ایف کی انتظامیہ کو ذمہ دار قراردونگا جس کی غلط پالیسیوں اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے یہ سب تباہی ہوئی ہے۔

آصف باجوہ اس تمام تباہی کا ذمہ دارہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ نہ تو اس نے مستعفی ہونا ضروری سمجھا اور نہ ہی قاسم ضیاء نے اُسے تبدیل کرنے کے زحمت گوارا کی، حالانکہ ٹیم کی سلیکشن پر آصف باجوہ جو کہ پی ایچ ایف کے سیکرٹری ہیں وہی سب چیزوں پر اثرانداز تھے ، کوچز پر اُس کا ہولڈ تھا اور کھلاڑیوں پر پریشر بھی آصف باجوہ کی وجہ سے تھا کیونکہ موصوف ون مین شو کے طور پر ہاکی فیڈریشن میں راج کررہے تھے اور چار حواریوں کو اپنے آفس میں بٹھا کر وہ خود کو بریگیڈئرایچ عاطف سمجھ بیٹھے تھے کہ ہاکی کی اُن سے زیادہ کوئی سمجھ نہیں رکھتا اور وہ جوفیصلہ کرتے ہیں وہ حرف آخرہوتا ہے۔

آصف باجوہ اور بریگیڈئرایچ عاطف کا کیا مقابلہ ، ایچ عاطف صاحب نے پاکستان ہاکی کو جو عروج بخشا باجوہ صاحب ساری زندگی میں اس کا ہاف بھی نہیں دے سکتے۔آصف باجوہ گزشتہ دس سال سے کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا حصہ رہے ہیں اور اُن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے دس سال ضائع ہوگئے ہیں۔ رہی بات قاسم ضیاء کی تو وہ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں ، یہ بات شاید قاسم ضیاء بھول گئے ہیں کہ 86ء کے ورلڈکپ میں جب وہ ٹیم کا حصہ تھے اور پاکستان کی گیارویں پوزیشن آئی تھی تو انہوں نے ہاکی چھوڑ دی تھی اور آج بھی وہ ہاکی فیڈریشن کے صدر ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 12ویں پوزیشن آئی ہے لیکن اس بار انہوں نے مستعفی ہونا ضروری نہیں سمجھا اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کے بڑے لیڈر ہیں اور اُن کی کون چھٹی کراسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف خود پی ایچ ایف میں ہشاش بشاش بیٹھے ہیں بلکہ تباہی کے کنگ میکر آصف باجوہ کا بھی دفاع کررہے ہیں۔

اگر قاسم ضیاء کو پاکستان ہاکی سے پیار ہے اور وہ اپنے قومی کھیل کو درست کرنا چاہتے ہیں اور جو حشر دہلی میں ہوا مستقبل میں ایسا نہ ہو تو انہیں آصف باجوہ جوکہ پاکستان ہاکی کیلئے کینسر کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں انہیں فارغ کرنا چاہیے ورنہ حالات جوں کے توں رہیں گے اور شفاف طریقے سے ٹیم کی شکست کی تحقیقات کی جائیں اور آصف باجوہ پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پابندی عائد کردی جانی چاہئے تاکہ پاکستان ہاکی دوبارہ تباہی کے کینسر سے دوچار نہ ہو۔

آج سے چند ہفتے پہلے سالٹا ارجنٹائن میں قومی ٹیم کے کھلاڑی اور مینجمنٹ کے لوگ نے ایک رات نائٹ کلب میں گزاری جس کا سیکنڈل اردوپوائنٹ پر شائع کیا گیا تو ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ نے اردوپوائنٹ کے ساتھ ٹکر لے لی اور پہلے آفیشل ایونٹ میں بلانے سے گریز کرنا شروع کردیا پھر میرا داخلہ ہاکی فیڈریشن کے آفس میں بند کردیا گیا لیکن جب بات وزارت کھیل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تک پہنچی تو نہ صرف دہلی میں ہونیوالے ورلڈکپ میں ٹیم کے ساتھ سرکاری خرچے پر بھارت جانے کی آفر کی گئی بلکہ آئندہ کیلئے فیڈریشن کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بہت ساری گزارشات بھی کی گئیں لیکن اردوپوائنٹ نے تمام چیزوں کو ٹھکرادیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ کا یہ وطیرہ رہا کہ جو بھی انہیں آئینہ دیکھنے کی کوشش کرتا تھا تو وہ اُسے چپ کرانے کیلئے غیرملکی دوروں پر لے جاکر تفریح فراہم کی جاتی رہی اور فیڈریشن کو جب اچھا برا بتانے والا کوئی نہیں تھا تو وہ تباہی کے جانب بڑھتے رہی جس کا انجام آج آپ نے دیکھ لیا ہے۔گزشتہ روز جب پاکستان کے خلاف کینیڈا نے میچ کا فیصلہ کن گول کیا تو اس وقت میں اپنے ساتھی رپورٹرز کے ساتھ قذافی سٹیڈیم میں موجود تھا تو دوستوں نے کہاکہ ہاکی فیڈریشن کو اعجاز کی بددعالگی ہے کیونکہ فیڈریشن نے مجھ پراُن کے کرتوت افشاں کرنے پر اپنے آفس میں داخلے پرپابندی عائد کردی تھی۔

میں نے دوستوں کو جواب دیا کہ مجھے کرکٹ سے زیادہ ہاکی سے عشق ہے اور ہاکی ایک زمانے میں میرا جنون ہوا کرتا تھا ، اس ورلڈکپ میں بھی جب بھارت کے خلاف پاکستان کا میچ جاری تھا تو یقین کیجئے دل کی دھڑکن تیزہوگئی تھی لہذا بطورپاکستانی میرا دل ہمیشہ پاکستانی ٹیم کیلئے دھڑکتا ہے اور بطور صحافی اگر میرے پی ایچ ایف سے اختلافات تھے تو وہ فیڈریشن کے غلط اقدامات ،غلط فیصلے اور غلط سوچ کی وجہ سے تھے جس کا خمیازیہ آج پوری ٹیم نے بھی بھگت لیا ہے اورپاکستان کا پرچم جو ہاکی کے میدانوں میں سب سے بلند لہراتا تھاآج سرنگوں ہوچکا ہے ۔

پوری قوم ہاکی ٹیم کی شکست پرصدمے میں ہے اور لوگوں کا غم و غصہ بجاہے ،کاش قاسم ضیاء اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ملکی ہاکی کے اصلی تباہ کاروں کوبرطرف کریں تاکہ جو ذلت آج سہنی پڑی مستقبل میں ایسی شرمندگی سے بچا جا سکے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments