پاکستان ہاکی ٹیم آسٹریلیا میں ہمت ہار گئی

پیر اپریل
پاکستانی ہا کی ٹیم نیوزی لینڈکی ٹیم کو 5ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2۔1سے اُنکے ملک میں شاندار شکست دے کر آسٹریلیا میں 4ٹیسٹ میچوں کی سیرز کھیلنے پہنچی تو وہ جانتی تھی کہ اب اُس کا مقابلہ اس وقت کی دُنیا کی نمبر 1پر رینکنگ والی ٹیم آسٹریلیا سے ہے۔ لہذا مقابلہ بھرپور کرنا پڑے گا۔ لیکن آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم نے یہ بھی موقع نہ دیا ا
پاکستانی ہا کی ٹیم نیوزی لینڈکی ٹیم کو 5ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2۔1سے اُنکے ملک میں شاندار شکست دے کر آسٹریلیا میں 4ٹیسٹ میچوں کی سیرز کھیلنے پہنچی تو وہ جانتی تھی کہ اب اُس کا مقابلہ اس وقت کی دُنیا کی نمبر 1پر رینکنگ والی ٹیم آسٹریلیا سے ہے۔ لہذا مقابلہ بھرپور کرنا پڑے گا۔ لیکن آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم نے یہ بھی موقع نہ دیا اور4۔

0سے ہاکی ٹیسٹ سیریز کلین سویپ کر لی۔
مختصر جائزہ:
آسٹریلیا کی طرف سے سیریز میں پاکستان کے خلاف کُل 16گول ہوئے اور پاکستان اُنکے خلاف صرف4گول کر سکا۔ وہ بھی پہلے میچ میں ایک اور آخری میچ میں 3۔ ایسے محسوس ہوا کہ پاکستانی ہاکی ٹیم آسٹریلیا میں ہمت ہار گئی۔ ایسا کیوں ہوا ؟ ایک دفعہ پھر یہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کیلئے سوالیہ نشان بن جائے گا۔

(خبر جاری ہے)

گو کہ فیڈریشن کی طرف سے یہ ایک اچھی کوشش تھی کہ دو بڑے ممالک میں پاکستانی ہاکی ٹیم کو کھیلنے بھیجا اور چند نوجوان کھلاڑی سامنے بھی آئے ہیں لیکن کیا اُنکو تربیت دینے والے شاید اُنھیں آسٹریلیا کے مقابلے میں نفسیاتی طور پر تیار نہ کر پائے یا پھر آسٹریلیا کی تکنیکی مہارت کا بھرپور دفاع نہ کر پائے جو پاکستان ہاکی ٹیم کیلئے شکست کا باعث بن گئی۔


اس کے باوجود آخری میچ میں ایک زوردار مقابلہ کر کے پاکستانی ہاکی ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں نے واضح کر دیا کہ اُن میں جوش ہے ۔ لہذا اگر اُنھیں مزید بہتر مواقع فراہم کیئے جاتے رہیں تو جلد ہی پاکستان ایک دفعہ پھر ہاکی کی صف ِاول کی ٹیموں میں شامل ہو جائے گا۔یہاں کپتان عبدالحسیم خان کی اہمیت کو بھی نظر ا نداز نہیں کیا جاسکتا جن میں مقابلہ کروانے کی بہترین صلاحیت مو جود ہے۔

صرف مزید کچھ ہاکی کے کھیل پر حکومت اور الیکٹرونک میڈیا کی توجہ چاہیئے تاکہ نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔ اگر غو ر کیا جائے اس دورے کے دوران دونوں شعبوں کی دِلچسپی کا فقدان واضح نظر آیا۔ نہ نیوزی لینڈ میں جیت پر حکومت کی طر ف سے حوصلہ افزائی کا کوئی خاص بیان جاری ہوا اور نہ ہی دونوں ممالک کے خلاف سیریز پر میڈیا نے خصوصی توجہ دی۔


ہاکی کا پہلا ٹیسٹ :
پاکستان و آسٹریلیا کے درمیان 28مارچ2017ء کو ڈاورن کے مراراہا کی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔اس میچ کے چار کوارٹرز کے پہلے کوارٹر میں ہی آسٹریلیا نے پاکستان پر 2گول کر دیئے ۔ پھر تیسر ے کوارٹر کے آغاز میں ایک اور گول کر کے3۔0کی برتری حاصل کرلی۔ چوتھے کوارٹر میں آسٹریلیا نے مزید 3گول کیئے اور میچ کے آخری لمحات میں پاکستان کی طرف سے کپتان عبدالحسیم خان بھی 1گول کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔

لیکن کھیل آسٹریلیا کے حق میں رہا اور پاکستانی ہاکی ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میں 1۔6سے شکست ہو گئی۔آسٹریلیا کی طرف سے بین گریک نے2گول کیئے جبکہ ٹرینٹ مٹن ،ٹام ویکہم،میٹ ڈوسن اور جیرمی ہیورڈ نے بالترتیب ایک ایک گول کیا۔
دوسرا ہاکی ٹیسٹ میچ:
اگلے ہی روز اُس ہی مقام پر کھیلا گیا جہاں پاکستان کو آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم سے ایک دِن پہلے شکست ہو ئی تھی ۔

اُمید تھی کے مقابلہ سخت ہو گا اور کچھ نظر بھی آیا ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ آسٹریلیا کی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے گول پر حملے کرتی نظر آئی اور اس دوران ٹا م ویکہم،ٹرینٹ میٹن اور ایرونایک ایک بار گیند کو جال میں پھینکنے میں کامیاب بھی ہو گئے ۔ جبکہ اُنکے برعکس پاکستانی ٹیم کی فارورڈ لائن کو جو مواقع میسر آئے اُن سے وہ فائدہ نہ اُٹھا سکے اور دوسرا ٹیسٹ بھی آسٹریلیا نے3۔

0سے جیت لیا۔
تیسرا ہاکی ٹیسٹ:
میچ 31مارچ 2017ء کو مرارا اسٹیڈیم میں بہت زور شور سے شروع ہوا اور اس دفعہ کھیل کے دوران پاکستانی ٹیم کا یہ عزم ضرور نظر آیا کہ اس میچ میں کامیابی حاصل کی جاسکے ۔ لہذا میزبان ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا اور دفاعی حملے ناکام بھی بنائے لیکن اُس کے باوجود 25ویں منٹ میں آسٹریلیا کی طرف سے جیرمی ہیورڈ نے پینلٹی کارنر پر پہلا گول اور50ویں منٹ میں پینلٹی کارنر پر ہی ٹرینٹ مٹن دوسرے گول نے آسٹریلیا کو پاکستان پر 2۔

0صفر کی برتری دلوا دی جو میچ کے آخر تک قائم رہی اور پاکستانی ہاکی ٹیم کو شکست ہو گئی۔
آخری ٹیسٹ میچ:
یکم اپریل2017ء کو آسٹریلیا کے شمالی علاقے کے دارلخلافہ شہر ڈارون کے مرارا اسٹیڈیم میں ہی کھیلا گیااور اس آخری ٹیسٹ میں بھی آسٹریلیا کی ہاکی ٹیم نے پاکستان کی ہاکی ٹیم کو 5۔3گولز سے شکست دے کر ہاکی ٹیسٹ کی پوری سیریز کلین سویپ کر لی۔


میچ کا پہلا ہاف بہت دلچسپ اور مقابلہ دونوں ٹیموں میں سخت رہا۔ پاکستان کی طرف سے پہلا گول پاکستان کی طرف سے ابو محمود نے کیا جسکے بعد آسٹریلیا کی طرف سے پہلا گول کیرن ارونسلام نے پینلٹی کارنر پر اور پھر چند منٹ بعد پینلٹی اسٹاوک پر مارک نوولز نے گول کر کے برتری حاصل کر لی۔21ویں منٹ میں پاکستانی کھلاڑی عمر بُھٹہ نے دوسرا اور پھر دو منٹ بعد ہی ابومحمود نے تیسرا گول کر دیا ۔

لیکن یہ برتری اُس وقت جلد ہی ختم ہو گئی جب پہلے ہاف کے آخری منٹ میں آسٹریلیا کی طرف سے ٹرینٹ مٹن نے بھی تیسرا گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔
دوسرے ہاف میں ایرن کیلن شمیڈ اور فلائن اوگیلیو نے بالترتیب ایک ایک گول کر کے آسٹریلیا کی ٹیم کو 2گول کی برتری دِلوا دی جو میچ کے اختتام تک قائم رہی گو کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے اُس برتری کو ختم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔