پاکستان کا ایک اور امتحان

Pakistan Ka Aik Or Imtehan

پاکستان نیوزی لینڈ کے درمیان 21 ویں ٹیسٹ سیریز نیوٹرل وینیو پر کھیلی جا رہی ہے۔ اس سے قبل کھیلی جانے والی 20 سیریز میں سے13 میں پاکستان ٹیم نے اور صرف 2 سیریز نیوزی لینڈ ٹیم جیت سکی ہے

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر 2 فروری 2015

چودھری محمد اشرف: پاکستان کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف امارات میں ٹیسٹ سیریز میں تاریخی کامیابی کے بعد قومی ٹیم کا ایک اور امتحان امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 9 نومبر سے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم ابوظہبی ٹیسٹ سے ہو گیاہے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کو برقرار رکھنے کی منظوری دیدی ہے جو خوش آئند بھی ہے کیونکہ فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں پر بورڈ کا اعتماد کرنا ضروری تھا دوسری جانب اب نوجوان کھلاڑیوں کو سینئرز کی موجودگی میں اچھا پرفارم کرنا ہوگا تاکہ ان کا مستقبل روشن ہو سکے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیم کا ٹریک ریکارڈ اچھا ہے اس کے باجود پاکستان ٹیم کو ہوم سیریز کو آسان نہیں لینا چاہیے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اس سیریز میں بھی کامیابی حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترنا ہوگا۔

(جاری ہے)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ٹیسٹ کے لیے جن کھلاڑیوں کے ناموں کی منظوری دی ہے ان میں احمد شہزاد، اسد شفیق، اظہر علی، احسان عادل، حارث سہیل، عمران خان، مصباح الحق (کپتان)، محمد حفیظ، محمد طلحہ، راحت علی، سرفراز احمد (وکٹ کیپر) ، شان مسعود، یاسر شاہ، یونس خان اور ذوالفقار بابر شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے جس کا کریڈٹ یونس خان اور کپتان مصباح الحق سمیت ٹیم مینجمنٹ میں وقار یونس، گرانٹ فلاور، مشتاق احمد، شاہد اسلم، براڈ روبنسن اور گرانٹ لڈن کو جاتا ہے۔ ہم اب اس سیریز کی کامیابی کو بھول کر نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے نئے اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور کوشش کرینگے کہ کامیابیوں کا تسلسل برقرار رہے۔

یقینی طور پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک اور موقع ہے۔ اسی وجہ سے سلیکشن کمیٹی نے نیوزی لینڈ کے خلاف شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی کے ٹیسٹ کے لیے بھی برقرار رکھا ہے۔ معین خان جن کے بارے میں کرکٹ حلقوں میں بہت زیادہ تحفظات پائے جا رہے تھے چیئرمین پی سی بی کی جانب سے انہیں عہدے سے فوری ہٹانے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ٹیم اچھا فارم کر چکی ہے ایسے میں ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلیوں سے منفی عنصر جنم لے سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب کرکٹ حلقوں میں سابق چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر حیرانگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک سال تک پاکستان کرکٹ بورڈ میں عدم تسلسل کی وجہ سے قومی کرکٹ کو کافی نقصان ہو چکا ہے۔

شہریار خان کے چیئرمین پی سی بی منتخب ہونے سے پاکستان کرکٹ میں تسلسل آنا شروع ہو گیا ہے لہذا سابق چیئرمین کو اب تنقید کرنے کی بجائے کرکٹ کا ساتھ دینا چاہیے۔ پاکستان نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لوگو کی تقریب رونمائی دو روز قبل لاہور میں منعقد ہوئی جس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں الیکٹرانک کی اشیا بنانے والے ہائر کمپنی نے مین ٹائٹل سپانسر شپ حاصل کی جبکہ اس کے ساتھ شوان پراپرٹیز، زونگ اور برائیٹو پینٹس والے اداروں نے بھی کو سپانسرز کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دیا۔

اس مقوع پر چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ہمیں انٹرنیشنل سے زیادہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے سپانسر شپ چاہیے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ کسی بورڈ کے سربراہ نے گراس روٹ لیول پر کھلاڑیوں کی مالی حالت کو بہتر کرنے کے لیے کوئی مثبت اور ٹھوس اقدام اٹھایا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نیوزی لینڈ سیریز کے سپانسرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بھی ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرینگے۔

پاکستان نیوزی لینڈ ٹیسٹ سیریز ریکارڈ کے آئینے میں پاکستان نیوزی لینڈ کے درمیان 21 ویں ٹیسٹ سیریز نیوٹرل وینیو پر کھیلی جا رہی ہے۔ اس سے قبل کھیلی جانے والی 20 سیریز میں سے13 میں پاکستان ٹیم نے اور صرف 2 سیریز نیوزی لینڈ ٹیم جیت سکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 5 سیریز بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوئی ہیں۔ پہلا موقع ہے کہ دونوں ٹیمیں کسی نیوٹرل وینیو پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے جا رہی ہیں۔

اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان 50 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے 23 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان ٹیم نے جبکہ 7 ٹیسٹ میچوں میں کیوی ٹیم نے کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 20 ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ ٹیم نے آخری بار پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز 1984-85ء میں جیتی تھی جب پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ کے دورہ پر تھی۔

اب تک کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچز میں پاکستان ٹیم نے ایک اننگز میں سب سے زیادہ 643 رنز کا مجموعہ حاصل کر رکھا ہے جبکہ کیوی ٹیم کا پاکستان کے خلاف زیادہ سے زیادہ سکور 563 رہا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کیوی ٹیم کا پاکستان کے خلاف کم سے کم سکور70 رہا ہے جبکہ پاکستان ٹیم 102 رنز پر آوٴٹ ہو چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کو سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

انہوں نے18ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ہزار نو سو انیس رنز سکورکر رکھے ہیں۔ سابق کپتان آصف اقبال17 ٹیسٹ میچوں میں 1113 رنز کے ساتھ دوسرے جبکہ سابق کپتان انضمام الحق ایک ہزار59 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ انضمام الحق کو کیوی ٹیم کے خلاف ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے329 رنز بنا کر ٹرپل سنچری کر رکھی ہے۔

جاوید میانداد271 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ جاوید میانداد جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں24 سنچریاں سکور کر رکھی ہیں ان کی 7 سنچریاں کیوی ٹیم کے خلاف ہیں۔ شعیب محمد5 سنچریوں کے ساتھ دوسرے جبکہ نیوزی لینڈ کے جوئے رائیڈ 3 سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ جاوید میاندادکو نیوزی لینڈ کے خلاف سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

ان کے ریکارڈ میں 13 نصف سنچریاں نیوزی لینڈ کے خلاف ہیں۔ ماجد خان 8 نصف سنچریوں کے ساتھدوسرے مارٹن کرو بھی 8 نصف سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ صفر پر ہونے والے کھلاڑی کا اعزاز نیوزی لینڈ کے کرس مارٹن کے نام ہے جو 9 ٹیسٹ میچوں میں 7 مرتبہ صفر پر آوٴٹ ہوئے۔ پاکستان کے شعیب محمد کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

شعیب محمد نے 1990-91ء میں منعقدہ سیریز کے 3 ٹیسٹ میچوں میں3 سنچریوں کی مدد سے 507 رنز بنا رکھے ہیں۔ جاوید میانداد بھی اتنے ٹیسٹ میچوں میں 2 سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 504 رنز بنا چکے ہیں۔ باوٴلنگ کے شعبہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ وقار یونس نے 13 ٹیسٹ میچوں میں 70 شکار کر رکھے ہیں۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے 60، سابق کپتان انتخاب عالم نے 54 کیوی کھلاڑیوں کو آوٴٹ کر رکھا ہے۔

نیوزی لینڈ کے رچرڈ ہیڈلی نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری کر رکھی ہے۔ ان کے ریکارڈ میں 51 وکٹیں شامل ہیں۔ سابق کپتان جاوید میانداد نیوزی لینڈ کے خلاف ہمیشہ ہیرو رہے ہیں۔ بیٹنگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے علاوہ سب سے زیادہ 20 کیچ پکڑنے کا ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے۔ ماجد خان 18 کیچز کے ساتھ دوسرے اور مشتاق محمد 17 کیچز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے بڑی پارٹنر شپ کا ریکارڈ پاکستان کے مشتاق محمد اور آصف اقبال کے پاس ہے جنہوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 350 رنز بنا رکھے ہیں جبکہ وقار حسن اور امتیاز احمد نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 308 رنز کی دوسری بڑی پارٹنر شپ قائم کر رکھی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں 15 کپتان قومی ٹیم کی قیادت کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ آخری مرتبہ 2011ء میں منعقد ہونے والی دو میچوں کی سیریز میں مصباح الحق نے قومی ٹیم کی قیادت کی تھی جس میں ایک میچ میں کامیابی اور ایک میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان 21 ویں سیریز امارات میں کھیلی جا رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس سیریز میں مزیز کتنے ریکارڈ بنتے ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments