پاکستان کی اوول میں جیت ۔۔سیریز برابر۔۔جشنِ آزادی کا تحفہ

Pakistan Ki Oval Main Jeet

اوول میں آخری ٹیسٹ کے پہلے دِن کپتان مصباح الحق نے واضح کہا تھا کہ اوول ٹیسٹ پاکستان کیلئے اور اُنکے اپنے لیئے بہت اہم ہے ۔ اُنھیں اپنی ٹیم سے اُمید تھی کہ اس ٹیسٹ میں وہ جان لڑا کر بہتر نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر اگست

Pakistan Ki Oval Main Jeet
لٹل ماسٹر حنیف محمد کو خراج ِتحسین:
پاکستان انگلینڈ کے درمیان ہونے والے اوول ٹیسٹ کے پہلے دِن 11اگست2016ء کو پاکستان کے ماضی کے مایہ ناز و لیجنڈ بلے باز حنیف محمد کی وفات کی خبر آئی تو ساری قوم کی طرف سے اور بین الاقوامی سطح پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا اور اُنکے کرکٹ کا دور ،ریکارڈ جو پاکستان کی پہچان بنے اور ذاتی زندگی پر اُنھیں خصوصی طور پر خراج ِتحسین پیش کیا گیا۔


سیریز کا مختصر خاکہ:
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ٹیسٹ سیریز 2016ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم لارڈز میں شاندار جیت کے بعد جب اولڈ ٹر یفرڈ اور ایجبسٹن میں ٹیسٹ میچ ہار گئی تو ٹیسٹ ٹیم کے چند کھلاڑی تنقید کی زد میں آگئے ۔ لہذا پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں جتنے والی ٹیم کو ہی دوسرے ٹیسٹ میں کھیلایا ۔

(جاری ہے)

لیکن تیسرے ٹیسٹ میں دو تبدیلیاں کر کے اوپنر شان مسعود اور فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کی جگہ اوپنر سمیع اسلم اور فاسٹ باؤلر سہیل خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔


دونوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن تیسرے ٹیسٹ میں بھی شکست کے بعد اوول گراؤنڈ میں ہونے والے چوتھے اور سیریز کے آخری ٹیسٹ میں ایک دفعہ پھر ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں ۔ محمد حفیظ کی جگہ آل راؤنڈ افتخار احمد کو شامل کیا گیا اور راحت علی کو آرام کروا کر ایک دفعہ پھر وہاب ریاض کی فاسٹ باؤلنگ سے استفادہ کرنے کا سوچا گیا۔
جشن ِآزادی کا تحفہ:
آخری ٹیسٹ کانتیجہ خوب رہا اورپاکستان کرکٹ ٹیم اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

یو نس خان پر اس کامیابی کا سہرا سجا اور مین آف دِی میچ بنے۔ پاکستان کی طرف سے مین آف دِی سیریز کپتان مصباح الحق ہوئے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق ،ہیڈ کوچ میکی آرتھر اور کپتان مصباح الحق بمعہ پوری کرکٹ ٹیم کو مبارک دی گئی ۔ ساتھ میں14ِاگست2016ء کو اس کامیابی کو پاکستان کے جشن ِ آزادی والے دِ ن پاکستانیوں کیلئے ایک انتہائی یادگار تحفہ قرار دیا گیا۔


اوول اورفاسٹ باؤلر فضل محمود:
لندن کا ڈسٹرکٹ کننگٹن جن اپنے3مقامات کی وجہ سے وجہ شہرت رکھتا ہے اُن میں امپریل وار میوزیم،کننگٹن پارک اور اوول کرکٹ گراؤنڈ شامل ہیں ۔لہذا اوول گراؤنڈ کا نام آئے اور پاکستان کے تاریخ ساز میڈیم فاسٹ باؤلر فضل محمود کا نام و بہترین پرفارمنس یاد نہ آئے ایسا پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ہو ہی نہیں سکتا۔

اُنھوں نے 1954ء میں انگلینڈ کے دورے کے آخری ٹیسٹ اوول میں پہلی اننگز میں 6/53 اور دوسری اننگز میں6/46 (میچ میں کُل 12/99) وکٹیں لے کر پاکستان کو انگلینڈ کے اپنے ملک میں پہلی دفعہ شکست دینے میں اہم کردار ادا کیااور سیریز 1-1سے برابر ہو گئی۔
اوول میں کامیابی کا ریکارڈ :
اوول کے گراؤنڈ میں اس میچ میں کامیابی کے بعد اب تک اس میدان میں دونوں ممالک کے درمیان10کرکٹ کے میچ ہوئے ہیں جن میں سے 5پاکستان ،3انگلینڈ نے جیتے ہیں اور 2برابر رہے ہیں۔

لہذا اس گراؤنڈ میں پاکستان کا ریکارڈ بہتر رہا ہے۔
چوتھا ٹیسٹ اوول میں:
11ِ اگست تا15ِاگست2016 تک اوول گراؤنڈمیں ہونے والے سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں پیچ سپورٹنگ بنائی گئی تھی جس کے متعلق بلے بازوں اور باؤلرز کیلئے معاون ہونے کا کہا جارہا تھا لیکن چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنے میں مشکلات آسکتی تھیں۔ لہذا وہاں کی صورت ِحال کے مطابق دونوں ٹیمیوں کے کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے۔

پاکستان نے دو تبدیلیاں کیں اور انگلینڈ نے تیسرے ٹیسٹ والی ٹیم سے ہی میدان میں اُترنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی طرف سے دو تبدیلیوں کے ساتھ جن 11کھلاڑیوں کو ٹیم میں منتخب کیا گیا اُن میں (کپتان) مصباح الحق سمیت سمیع اسلم،اظہر علی،یونس خان،اسد شفیق ، افتخار احمد، سرفراز احمد،سہیل خان،محمد عامر ،یاسر شاہ اور وہاب ریاض ۔(محمد حفیظ و راحت علی کی جگہ افتخار احمد و وہاب ریاض)
انگلینڈ کی ٹیم میں ایلسٹر کک (کپتان) ، ایلکس ہیلز،جوروٹ،جمیز وینس،گرے بالانس،جونی بیئر سٹو،معین علی،کرس ووکس ویگن،سٹورٹ براڈ، جیمز اینڈریسن اور سٹیفن فِن۔


ٹاس انگلینڈ نے جیتا اور ایلسٹر کک اور ہیلز اوپنگ کرنے آئے۔لیکن آغاز میں پاکستان کے فاسٹ باؤلرز محمد عامر، وہاب ریاض اور سہیل خان کی باؤلنگ کے سامنے بے بس ہوگئے ۔ محمد عامر و سہیل خان کے ہاتھوں دونوں اوپنرز کے جلد آؤٹ ہو نے کے بعد جوروٹ ، جمیز وینس،گرے بالانس نے بھی جلد ہی پویلین کی راہ لی اور اُن تینوں کو آؤٹ کرنے والے وہاب ریاض تھے جنہوں نے اس ٹیسٹ میں اپنی واپسی کا حق ادا کر دیا ۔

لیکن ایک دفعہ پھر اُنکے وکٹ کیپر جونی بیئر سٹو اور سپین باؤلر معین علی نے میدان سنبھالا اور مجموعی اسکور کو ایک بہترین اشتراکت سے بڑھاتے ہوئے ٹیم کی پوزیشن کچھ مستحکم کر دی۔
بیئر سٹو 55رنز بناکرآؤٹ ہوئے اور پھر ووکس آئے اور 44رنز بنا کر واپس گئے ۔ براڈ اور فِن بھی جلدی آؤٹ ہو گئے لیکن اس دوران معین علی نے اپنی سنچری بنا لی اور 108رنز بنا کر آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی بنے۔

اینڈریسن ناٹ آؤٹ گئے اور انگلینڈ نے پہلی اننگز میں مجموعی اسکور328رنز کیا۔پاکستان کی طرف سے سہیل خان نے ایک دفعہ پھر 5وکٹیں حاصل کیں اور وہاب ریاض نے 3اور محمد عامر نے2۔ایک دفعہ کیچ ڈراپ کرنے کی روایت پھر قائم رکھی گئی اور معین علی کی سنچری بھی اُسکا کیچ ڈراپ کرنے کا نتیجہ ثابت ہوئی۔
پہلے دِن کے اختتام میں چند منٹ باقی تھے کی پاکستانی اوپنر اظہر علی و سمیع اسلم بیٹنگ کیلئے آئے ۔

سمیع اسلم 3رنز بنا کر براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور پھر آئے نائٹ واچ مین لیگ سپین باؤلر یاسر شاہ۔
اوول ٹیسٹ کا دوسرا دِ ن پاکستان بلے بازوں کیلئے واقعی ایک امتحان کا دِ ن تھا۔ لہذا3رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر پاکستان نے بیٹنگ شروع کی اور یاسر شاہ نے بہترین ذمہداری نبھاتے ہوئے 26رنز بنائے اورفِن نے اُنھیں آؤٹ کیا۔اگلے کھلاڑی تھے اسد شفیق جن پر اُنکی صلاحیتوں کے مطابق بہت ذمہداری تھی جسکو اُنھوں نے نبھانے میں کوئی کسر نہ رکھی اور اظہر علی کے 49رنز پر آؤٹ ہو نے کے بعد ٹیم کے سینئر بلے باز یونس خان کے ساتھ مل کرایک شاندار و یادگار اننگز کھیلی اور109رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔


یونس خان جو اپنے ریکارڈ و صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے باوجود اس سیریز میں تنقید کا باعث بنے ہوئے تھے نے واقعی ایک بڑے بلے باز کی حیثیت میں ایک دفعہ پھر سنچری کر ڈالی جو اُنکی 32ویں سنچری تھی۔ اس دوران کپتان مصباح الحق اور افتخار احمد جلد آؤٹ ہوئے تو پاکستان کی ٹیم ایک دفعہ پھر کچھ مشکلات میں نظر آئی کیونکہ اسکو ربرابر کرنا نہیں جیت کیلئے ایک بڑی رنز کی برتری کی ضرورت تھے۔

بہرحال دِن کے اختتام پر پاکستان کے 340رنز پر 6کھلاڑی آؤٹ تھے ۔ یونس خان 101اوروکٹ کیپر سرفراز 17رنز پر کھیل رہے تھے۔
تیسرا دِ ن دونوں ٹیموں کیلئے اہم تھا لیکن یونس خان کی شاندار اور تاریخی اننگز نے میچ کا پانسہ کا فی حد تک پاکستان کی ٹیم کے حق میں کردیا اور اُنکا پہلے ساتھ دیا سرفراز احمد نے44رنز کر کے ۔وہاب ریاض جلد آؤٹ ہوگئے تواُنکے ساتھ ذمہداری سنبھالی محمد عامر نے ۔

یونس خان نے اپنے کیرئیر کی 6ویں ڈبل سنچری بنائی اور218رنز بنا کر اینڈریسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ آخری کھلاڑی آؤٹ ہوئے سہیل خان۔ محمد عامر نے 39رنز بنا ئے اور ناٹ آؤٹ واپس گئے۔ کیچ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے بھی چھوڑے۔
پاکستان کی ٹیم542 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی اور انگلینڈ کے پہلے اننگز کے اسکور پر214رنز کی برتری حاصل کرلی ۔

انگلینڈ کی طرف سے ووکس اور فِن نے 3,3معین علی نے2اور اینڈیسن وبراڈ نے1,1کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ لیکن پھر جب انگلینڈ کے بلے باز دوسری اننگز میں کھیلنے آئے تو دِن کے اختتام تک88کے مجموعی اسکور پر4ابتدائی وکٹیں گنوابیٹھے۔یاسر شاہ نے 3اور وہاب ریاض نے 1وکٹ لی۔پاکستان کو ابھی 126رنز کی برتری اور انگلینڈ کے پاس 6وکٹیں بقایا تھیں۔
آخری ٹیسٹ کے چوتھے دِن کا کھیل شروع ہوا تو گرے بالانس اور بیئر سٹوانگلینڈ کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دینے آئے اور احتیاط سے بیٹنگ شروع کی ۔

بالانس تو آؤٹ ہوگئے لیکن بیئر سٹو اور معین علی پھر اسکور آگے بڑھانے لگے۔اس دوران معین علی32رنز بنا کر اور بیئر سٹو81رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے ۔ ووکس کو وہاب ریاض نے رَن آؤٹ کر دیا اور آخری کھلاڑی اینڈریسن کو افتخار احمد نے آؤٹ کر کے ٹیسٹ میں اپنی پہلی وکٹ بھی حاصل کر لی۔یاسر شاہ نے5، وہاب ریاض نے2، سہیل خان اور افتخار احمد نے 1,1وکٹ حاصل کی ۔


انگلینڈ نے دوسری اننگز میں253رنز بنائے تھے جسکے بعد پاکستان کوجتنے کیلئے 40رنز درکار تھے جو پاکستان کے اوپنرز اظہر علی اور سمیع اسلم نے بنا کر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ اظہر علی نے چھکا لگا کر مطلوبہ ٹارگٹ پورا کیا۔
ٹیسٹ میچ یونس خان کے نام سیریز مصباح الحق کے :
اوول میں آخری ٹیسٹ کے پہلے دِن کپتان مصباح الحق نے واضح کہا تھا کہ اوول ٹیسٹ پاکستان کیلئے اور اُنکے اپنے لیئے بہت اہم ہے ۔

اُنھیں اپنی ٹیم سے اُمید تھی کہ اس ٹیسٹ میں وہ جان لڑا کر بہتر نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا میچ کے آغاز میں ہی لارڈز کے ٹیسٹ والا ولولہ نظر آیا اور پہلے ہی دِن انگلینڈ کی ٹیم کو آؤٹ کر کے اُنکے خلاف ایک بڑا اسکور کرنے کیلئے بلے بازوں کو میدان میں اُتارا۔ جن میں سے نوجوان اسد شفیق اور سینئر یونس خان نے بالترتیب سنچر ی اور ڈبل سنچری بنا کر میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔

ساتھ میں اظہر علی،سرفراز اور محمد عامر نے بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہر ہ کیا۔
پہلی اننگز میں سہیل احمد اور وہاب ریاض کی باؤلنگ اور پھر دوسری اننگز میں یاسر شاہ اور وہاب ریاض کی باؤلنگ و فیلڈنگ نے انگلینڈ کی ٹیم کے پاؤں اُکھاڑ دیئے ۔ جس کے بعد فتح پاکستان کے گلے کا ہار بنی اور شکست انگلینڈ کامقدر۔
ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے صاف کہا کہ یونس خان کی بیٹنگ نے اُنکی کامیابی کا راستہ روکا۔

لہذا اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اوول ٹیسٹ کی کامیابی کے ہیرو واضح طور پر یونس خان ہی ہیں ۔کپتان مصباح الحق نے بھی یونس خان کو حقیقی چیمپیئن قرار دیا۔جبکہ یونس خان کہا کہ اُنھوں نے پوری سیریز میں جد وجہد کی اور آخری ٹیسٹ سے پہلے بھارت کے نامور بلے باز اظہر الدین کا فون آیا کہ کریز پر کھڑے رہنا۔مشورہ کام آیا اور میچ وننگ اننگز کھیل ڈالی۔

15سال سے سُن رہا ہوں کہ میرا کیرئیر ختم ہو رہا ہے ابھی کتنا کھیلنا ہے معلوم نہیں۔
پاکستان کی ٹیم ایک قدم آگے:
پاکستان انگلینڈ کی اس سیریز کو نتائج کے مطابق اگر کو متوازن کہا جائے تو غلط ہو گا کیونکہ انگلینڈ کا جسطرح ایک مدت سے کامیابیوں کا سفرجاری تھا خصوصی طور پر اُنکے اپنے ملک میں اُس میں پہلی دراڑ پاکستان کی ٹیم نے لارڈز ٹیسٹ میں ڈالی اور اوول میں شکست دے کر اُنکو گِرا ہی دیا۔

لہذا مصباح الحق نے بحیثیت کپتان ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور ساتھ میں سیر یز برابر کرنے باوجود پاکستانی ٹیم اُنکی ٹیم سے ایک قدم آگے نظرآئی۔
اہم واقعا ت اور ریکارڈز:
﴾ حنیف محمد کے انتقال پر اوول ٹیسٹ کے دوران پاکستان پویلین پر پاکستانی جھنڈا سر نگوں رکھا گیا۔
﴾ 8 ِاگست2016ء کوکوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کے سانحہ پر اوول ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے گراؤنڈ میں 1منٹ کی خاموشی
اختیار کی گئی۔


﴾ انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر کرس ووکس نے پاکستان کے خلاف 4ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں26وکٹیں لیکر جیمز اینڈریسن کا اتنے ہی میچوں میں 23وکٹیں لینے کا ریکارڈ توڑدیا۔ انگلینڈ کی طرف سے ووکس مین آف دِی سیریز قرار پائے۔
﴾ یونس خان نے 6ویں ڈبل سنچری کر کے پاکستان کے مشہور ِزمانہ بلے باز جاوید میاں داد کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ساتھ میں اس سیریز میں 340رنز بنا پاکستانی ٹیم میں سب زیادہ اسکور بھی کیا۔
﴾ 4ٹیسٹ میچوں میں سے 3ٹیسٹ میچ چار دِنوں میں ہی ختم ہو گئے۔صرف ایجبسٹن والا ٹیسٹ پانچ دِن جاری رہا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments