پاکستان میں فٹ بال کا بڑھتا ہوا جنون

Pakistan Main Football Ka Bharta Hua Rohjaan

فیفا ورلڈ کپ کے گہرے اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دیئے جہاں روز بروز فٹ بال کے کھلاڑیوں اور چاہنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس میں یقینا میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری منگل فروری

Pakistan Main Football Ka Bharta Hua Rohjaan
اعجاز احمد شیخ: فٹ بال یقینی طور پر بین الاقوامی سطح پر مقبول ترین کھیل ہے۔ کروڑ ہا افراد اس کے نہ صرف بین الاقوامی بلکہ کلب کی سطح کے مقابلوں میں گہری دلچسپی لیتے ہیں جس کے نتیجے میں معروف کلبز اور کھلاڑیوں کے مداحوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس کا مشاہدہ گذشتہ دنوں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ برازیل کے دوران بخوبی ہوا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کے گہرے اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دیئے جہاں روز بروز فٹ بال کے کھلاڑیوں اور چاہنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

جس میں یقینا میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی موثر حکمت عملی اور فٹ بال کے فروغ کیلئے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا جانا چاہیے کہ قومی ادارے جہاں اپنی خامیوں کی بنا پر تنقید کا سامنا کرتے ہیں وہیں اگر ان کے مثبت کاموں پر انہیں داد دی جائے تو ان کی کارکردگی میں مزید نکھار آتا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان بہت سے مسائل میں گھری ہوئی ریاست ہے۔

جس میں پے درپے مشکلات اور بحرانوں نے ادارہ سازی کے عمل کو سست روی کا شکار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن جوکہ پاکستان کے بننے کے ساتھ ہی وجود میں آگئی تھی اور جس کے پہلے پیٹرن انچیف قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ بنے تھے آج سے لگ بھگ دس سال قبل تک اپنی کمزور شناخت کے باعث اس کھیل کے فروغ میں موثر کردار ادا کرنے سے کلیتہً قاصر تھی۔

2003 کے اواخر میں فٹ بال کو ایک پاکستان کے مخدوم سید فیصل صالح حیات کی صورت میں نئی قیادت ملی جنہوں نے پاکستان میں اس دم توڑتے کھیل کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے سیاسی قد کاٹھ کا فٹ بال کو بھرپور فائدہ بہم پہنچایا۔ 2004ء کے بعد پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی قیادت میں ٹھہراوٴ کی بدولت تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوئی۔ سید فیصل صالح حیات نے فیڈریشن کی قیادت سنبھالتے ہی جو کام سب سے پہلے کیا وہ فٹ بال فیڈریشن کیلئے ایک ایسے سیکرٹریٹ کا قیام تھا جہاں سے ملک بھر میں اس زوال پذیر کھیل کی تعمیر نو کی جائے۔

اس سوچ کے تحت فیفا جوکہ فٹ بال کی بین الاقوامی طور پر گورننگ باڈی ہے کے ساتھ بہتر کوارڈنیشن قائم کیا گیا جس کے نتیجہ میں لاہور میں پہلا فیفا گول پراجیکٹ شروع کیا گیا جہاں پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے باقاعدہ بین الاقوامی سطح کے سیکرٹریٹ نے فٹ بال کے کام کا جدید انداز میں آغاز کیا۔ گول پراجیکٹ فیفا فٹ بال اکیڈمی کی عمارت نہ صرف فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرتی ہے بلکہ فیفا فٹ بال اکیڈمی کے طور پر اس میں تقریباً 100 کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے رہائش اور کھانے پینے سمیت جدید ترین بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید فیصل صالح حیات نے فیفا ہاوس کی اہمیت اور بے پناہ مثبت نتائج کو دیکھتے ہوئے، فیفا اور اے ایف سی کی اتھارٹیز کے ساتھ ہر میٹنگ میں پاکستان میں ایسے مزید منصوبوں کیلئے کوششیں شروع کردیں۔ اس ضمن میں ان کے اے ایف سی کے صدور کے ساتھ ذاتی مراسم نے بھی اس کام کو آگے بڑھانے میں مدد کی اور ان کی مسلسل کاوش کے نتیجہ میں فیفا نے پاکستان میں ایسے مزید 7 منصوبوں کی منظوری دے دی۔

2006ء میں شروع کیے جانے والے یہ 8 منصوبے جن میں سے لاہور ، کراچی ، پشاور میں یہ اکیڈمیز اوپر مذکورہ تمام سہولیات سے آراستہ مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ کوئٹہ ، سکھر ، جیکب آباد، ایبٹ آباد اور خانیوال میں یہ اکیڈمیز تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہیں۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ان اکیڈمیز کے ساتھ سٹینڈرڈ سائز کے فٹ بال گراوٴنڈ کی موجودگی نے ان کی افادیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ فیڈریشن کے ذمہ دار ہر فورم پر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان اکیڈمیز کی تکمیل سے فٹبال کے کھیل کو پاکستان میں بے پناہ فروغ حاصل ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں بھی فیڈریشن خطیر رقم سے بننے والے ان انفراسٹرکچر سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments