اقتدار کی ہوس، پاکستان میں فٹبال کا کھیل ٹھوکریں کھانے لگا

Pakistan Main Football Ka Khail Thokrain Khane Laga

فیصل صالح حیات کے 12بدترین برسوں کے بعد قبضہ گروپ متحرک، فیفا ہاؤس پر قبضہ کرلیا۔۔۔۔۔ لاہور پولیس تماشائی بن گئی، حکومت چور دروازو ں سے آنیوالوں کی پشت پناہی میں مگن، فیفا کی پابندی لگنے کا خطرہ

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر جون

Pakistan Main Football Ka Khail Thokrain Khane Laga

یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کی تنظیمیں چلانے والے یا تو اپنے دفاتر کے باہر دست و گربیاں نظر آتے ہیں یا عدالتوں میں کیسز کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں مگر گراؤنڈز کو آباد کرنے اور کھلاڑیوں کی فلاح کیلئے جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو سب بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ایک کرکٹ کا کھیل ایسا ہے جو انتظامی تنازعات سے بچا ہوا ہے مگر اس کے علاوہ دیگر تمام کھیلوں کا حشرنشر ہوچکا ہے۔ ملک میں فٹبال کا کھیل بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے لیکن اس کھیل کو کھلانے والے آج ایسی کھیل سے کھیلواڑ کرنے پر اترے ہوئے ہیں۔پاکستان میں آج اقتدار کی ہوس کی وجہ سے دنیا کا مقبول ترین کھیل فٹبال ٹھوکریں کھانے لگا ہے، فیصل صالح حیات گزشتہ 12برسوں سے پاکستان فٹبال فیڈریشن چلارہے ہیں اور ہربار الیکشن کے بعد بات کورٹ تک جاپہنچتی ہے مگر پاکستان میں سٹے آرڈر لیکر وقت گزارنا قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے اوریہی کچھ فیصل صالح حیات کرتے آئے۔

(جاری ہے)

اب فٹبال کے الیکشن سرپہ آئے تو حالات بگڑنا شروع ہوگئے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ مخالف گروپ جسے ارشد لودھی چلارہے ہیں فیصل صالح حیات کے سامنے کھڑا ہوااور اسلام آباد میں مخالف گروپ نے ایک گانگریس کا اجلاس بلا کر فیصل صالح حیات کے خلاف قرارداد منظور کی اور فٹبال فیڈریشن پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت بھی فٹبال ہاؤس لاہور پر ارشدلودھی گروپ کا قبضہ برقرار ہے ۔ارشد لودھی گروپ کی جانب سے قبضے کے بعد دوسرے روز بھی پاکستان فٹبال فیڈریشن کے دفتر کی بلڈنگ فیفاہاوٴس نوگو ایریا بنی رہی ،میڈیا کو بھی فیفا ہاوٴس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔قومی فٹبال بھی اب اقتدار کے بخار میں مبتلا ہوچکا، رواں سال اپریل میں ہونے والے پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے انتخابات میں پی ایف ایف کے صدر سردار نوید حیدر صدر منتخب ہوئے تو حریف گروپ نے الزام عائد کیاکہ الیکشن سرے سے کروائے ہی نہیں گئے اور رسمی کارروائی بھی پوری نہ کرتے ہوئے من پسند شخص کو نواز دیا گیا،متوازی گروپ نے پنجاب میں ایک الگ باڈی قائم کرکے اس کے آئینی ہونے پر اصرار کیا، دونوں گروپوں کی جانب سے تنقیدی محاذ کھولے جانے کیساتھ صدارت کے الیکشن میں کامیابی کے لیے دعوے بھی شروع ہوئے،اس کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ گزشتہ ہفتے آیا جب ارشد لودھی کی سربراہی میں ایک گروپ کی پی ایف ایف کانگریس کا اجلاس بلا گیا جس میں مالی بدعنوانی، الیکشن میں دھاندلی اور فیڈریشن آئین میں جعل سازی کرنے پر فیصل صالح حیات کو معطل، سیکرٹری جنرل کرنل (ر) احمد یار لودھی کو برطرف کر دیا، کشمالہ طارق کو پی ایف ایف ویمنز کمیٹی کی چیئر پرسن، تصور عزیز کو ڈپٹی چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا۔پی ایف ایف کانگریس کے رکن و متوازی پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اشرف نے کشمالہ طارق اور تصور عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں دعوٰی کیا کہ اجلاس میں 26 ارکان میں سے 18 نے شرکت کی، عبوری طور پر پی ایف ایف کے نائب صدر محمد ارشد خان لودھی کو صدر اور کرنل (ر) فراست علی شاہ کو جنرل سیکرٹری نامزد کردیا گیا ہے، انتخابات 30جون کو شانگلہ گلی کی بجائے پاکستان فٹ بال ہاوٴس لاہور میں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ فیڈریشن میں کی گئی کرپشن کا کیس ایف آئی اے کو دیا جائے گا۔
تاز ہ صورتحال یہ ہے کہ نشترپارک سپورٹس کمپلیکس فیروزپورروڈ پر واقع پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ہیڈکوارٹرفیفا ہاوٴس پر بدستور ارشد لودھی گروپ کا قبضہ ہے، مذکورہ گروپ نے ہفتہ کی رات فیفا ہاوٴس پر قبضہ کرکے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے تمام دفاتر کے تالے توڑ کر دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں اس پر لاہور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اس پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اتوار کے روز بھی مسلح افراد فیفا ہاوٴس کے اندر موجود رہے اور قبضہ گروپ کے علاوہ کسی بھی شخص کو فیفا ہاوٴس داخلے کی اجازت نہ دی۔ ارشد لودھی گروپ نے فیروزپورروڈ اور پنجاب سٹیڈیم کی طرف سے فیفا ہاوٴس آنیوالے راستوں کے مرکزی گیٹ بند کردئیے جبکہ میڈیا کوبھی فیفا ہاوٴس تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یوں ہی برقرار رہی تو فیفا کی جانب سے پاکستان کی رکنیت معطل کردی جائے گی جس سے دنیا بھرمیں ملک کی بدنامی ہوگی۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر مخدوم فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ فیفا ہاؤس پر قبضہ کیخلاف ہر قانونی اور آئینی چارہ جوئی کی جائیگی۔پارک پلازہ ہوٹل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا کہ فیفا ہاؤس پر دھاوا بولنا کھیلوں پر دہشت گردی کے مترادف ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ اس ساری کاروائی میں حکومت شامل ہے اور سیاسی مخالفت کھیلوں میں بھی شامل کر لی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پی ایف ایف کے انتخابات تیس جون کوہونا ہے اور اس میں اے ایف سی اور فیفا کے آبزرور آئیں گے ، انتخابات شیڈول کے مطابق ہی ہونگے، جن افراد نے فیفا ہاؤس پر قبضہ کیا ہے وہ کھیل کے فروغ کا نہیں بلکہ تباہی کا ایجنڈہ لیکر آئے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ فیفا پاکستان کے پابندی لگائے لیکن وہ ایسا نہیں ہونے دینگے اور ہر اس کھیل کو بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرینگے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments