پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی، دنیا کی نظریں پھر لاہور پرلگ گئی

Pakistan Main International Cricket Ki Wapsi

پونے 6برس بعد کینیا پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی کرکٹ ٹیم بن گئی ہفتہ کو کینیا اور پاکستان کے مابین قذافی سٹیڈیم میں پہلا معرکہ ہوگا، سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعرات جنوری

Pakistan Main International Cricket Ki Wapsi
اعجازوسیم باکھری: تین مارچ 2009ء کا دن پاکستان کرکٹ کی تاریخ کیلئے سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن لبرٹی گول چکر میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر صرف حملہ نہیں ہوا تھا بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر بھی کاری ضرب تھی جس کے گھاؤ پونے چھ سال گزرنے کے باوجود نہیں بھر سکے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ جس طرح محض مہمان ٹیم پر حملہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ پر بھی حملہ تھا اسی طرح یہ حملہ شہرلاہور کے تقدس پر بھی ہوا کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی غیرملکی ٹیم کو لاہور میں نشانہ بنایا گیا جس پر ہرشہری شرمندہ اور دکھی تھی تھا کہ اُس کے شہر میں مہمان کرکٹ ٹیم پردن دیہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی تھی۔

پونے چھ سال کرکٹ شائقین اور پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے انتہائی تکلیف کے عالم میں گزرے اور ہرگزرے سال پی سی بی نے امید دلائی کہ اگلے سال غیرملکی ٹیمیں واپس آئیں گی لیکن پی سی بی کی تسلیاں مخص تسلیاں ہی رہیں کیونکہ بات پی سی بی کی تسلیوں سے آگے نکل چکی تھی۔

(جاری ہے)

بنگلہ دیش، زمبابوے، سری لنکا اور بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا تو امیدیں دم توڑنے لگی لیکن پھر کینیا کرکٹ بورڈ نے پاکستانی شائقین کے اترے چہروں پر خوشی بکھرنے کے حامی بھری اورتین دن پہلے رات ایک بجے کینیا کرکٹ ٹیم لاہور ائیرپورٹ پر پہنچی تو کرکٹ شائقین اور پی سی بی کے چہروں پر اداسی کم ہوئی۔

اس بات میں تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ کینیا ایک کمزور ٹیم ہے اور آئی سی سی میں ان کا بورڈ فل ممبر بھی نہیں ہے اور نہ ہی اب اس ٹیم کے پاس ٹیسٹ سٹیٹس کا درجہ ہے لیکن پاکستان کرکٹ پر چھائی مایوسی اور اداسی کو کم کرنے کیلئے کینین ٹیم کی آمد کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہے۔ شم نگوچ کی قیادت میں کینین ٹیم لاہور میں ڈیرے ڈال چکی ہے اور قذافی سٹیڈیم میں دو دن سے لگاتار پریکٹس میں بھی مصروف ہے۔

کینیا ٹیم کی آمد کے پیش نظر قذافی سٹیڈیم اور نشترپارک میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، اس بار غیرملکی ٹیم کیلئے سکیورٹی اس قدر سخت ہے کہ نشترپارک اور قذافی سٹیڈیم کے اطراف پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، بے مثال حفاظتی انتظامات دیکھ کر بے ساختہ یہ الفاظ لبوں سے نکلتے ہیں کہ کاش تین مارچ2009ء کو گورنرراج کے دوران بھی ایسے انتظامات کیے جاتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

بہرحال، ماضی میں جو کچھ ہوا اس پر محض افسوس ہی کیا جاسکتا ہے، کینیا ٹیم پاکستان آچکی ہے اور تمام پانچ ون ڈے میچز کی میزبان قذافی سیڈیم کو سونپی گئی ہے۔ قذافی سٹیڈیم کے باہر نشترپارک کے مرکزی دروازوں کو بند کرکے عام ٹریفک کا داخلہ ممنوع قراردیدیا گیا ہے جبکہ سٹیڈیم کے اطراف موجود ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور شاپش کو بھی دس دن کیلئے بند کردیا گیا ہے جبکہ عام افراد کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

میچ کیلئے سکیورٹی اس قدر سخت ہوگی کہ میچ ڈے پر قذافی سٹیڈیم کی طرف صرف ان افراد کو آنے دیا جائیگا جن کے ہاتھ میں میچ کے ٹکٹ ہونگے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سکیورٹی ادارے پر مکمل طور پر حرکت میں نظرآرہے ہیں اور پی سی بی سمیت پنجاب حکومت اور وقافی حکومت بھی اس سیریز کی کامیاب انعقاد کیلئے تمام تراقدامات بروئے کار لانے کی خواہشمند ہیں تاکہ آئی سی سی سمیت دیگر کرکٹ بورڈز کو یہ پیغام دیا جائے پاکستان غیرملکی ٹیموں کیلئے محفوظ ملک ہے اور یہاں سکیورٹی کی صورتحال اب وہ نہیں جو چند سال پہلے تھی۔

یہ بات سچ ہے کہ کینیا کیخلاف سیریز اور حفاظتی انتظامات کی بدولت دنیا پاکستان کا امیج دیکھے گی اور اندازے لگائے جائیں گے کہ کیا اب صورتحال حقیقت میں بہتر ہوگئی یا بہتری کی گنجائش ابھی بھی باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی سی بی سیمت تمام سکیورٹی ادارے پوری قوت اور ہوش مندی کے ساتھ اس سیریز کے کامیاب انعقاد کیلئے کوشاں ہیں۔لاہوری کو بھی اس بات کی خوشی ہے کہ چاہے نچلے درجے کی سہی مگر ایک غیرملکی ٹیم ان کے شہر میں واپس تو آئی، اس سیریز کے بعد سب کو توقع ہے کہ 2015ء میں مزید غیرملکی ٹیمیں واپس آئیں گی اور جلد ٹیسٹ ٹیموں کی واپسی شروع جائیں گی۔

کینیا کیخلاف سیریز جہاں سکیورٹی اداروں کا ٹیسٹ ہے وہیں یہ پی سی بی کا بھی کڑا امتحان ہے کہ وہ کرکٹ ورلڈ متاثر کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments