پاکستان ٹی 20کرکٹ سیریزجیت کر نمبر1

پیر جنوری
126 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان پہلے اور نیوزی لینڈ 123پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر چلی گئی ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران "ایک روزہ میچوں" میں وائٹ واش ہونے کے بعد بحیثیت "شاہین " شاندار اُڑان بھری اور" ٹی"20 سیریز میں نہ کہ صرف نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اُنکی سر زمین پر 2 ۔1سے شکست دے کر پہلی دفعہ نیوزی لینڈ میں ٹی20 کی سیریز جیت لی بلکہ نیوزی لینڈ سے ٹی 20کی پہلی پوزیشن چھین کر پاکستانی کرکٹ ٹیم نے رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کر لی۔

126 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان پہلے اور نیوزی لینڈ 123پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔ مختصر تجزیہ: نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے ایک روزہ کرکٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش ہو نے کے بعد کرکٹ کے تمام حلقوں میں " پاکستان کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں کارکردگی پر سوال؟" زیر ِبحث تھا۔ظاہری بات تھی تنقید کا بازار گرم تھا اور خبر بیچنے والوں کے مطابق پویلین میں کھینچا تانی،آپسی اختلافات، ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹرکی کمزوریاں،تربیت و تیاری میں کمی،فلاں کو کیوں نہیں کھیلایا اور فلاں نے ایسا کیوں کھیلا جیسے پر تبصرے عام تھے ۔

(خبر جاری ہے)

"شاہین "کی پرواز نیچے تھی اورٹی 20 کا پہلا ہی میچ ہارنے کے بعد مزید شک و شبہات جنم لے چکے تھے۔ اِن سارے حالات میں کون ایسا لڑ تھا کہ مقابلہ جیتیں؟ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفرازاحمد۔قدرت مددگار ہوئی اور ٹی20 کے دوسرے میچ میں بیٹنگ ،باﺅلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں کمال کا نوجوان ٹیم ورک دیکھنے کو ملا جس کا سلسلہ تیسرے ٹی20میں بھی نظر آیا اور ٹرافی بھی پاکستان کی اور رینکنگ میں بھی نمبر1پاکستان۔

ایک ایسی فتح جسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم لیکن کیا وہ تمام بیانات و مسائل جو مسلسل شکست سے دوچار ٹیم کے کپتان سرفراز احمد پہلے دیتے رہے پس ِپُشت ڈال دینے چاہییں۔نہیں بالکل نہیں۔بلکہ اُنکو مُثبت انداز میں اہمیت دے کر خصوصی طور پر ٹیم کے بیرون ممالک کے دوروں سے پہلے حل کرنے چاہییں۔اگر موسم کا مسئلہ ہے تو پاکستان کے ایسے شہروں میں کرکٹ پریکٹس کا اہتمام کیا جائے کہ کچھ تو موسمی حالات سے وابستگی ہوجائے۔

وکٹیں بھی تیز بنائی جائیں۔بیٹنگ لائن پر توجہ دی جائے اور مبصر حضرات بے جا تنقید سے پرہیز کریں۔ تیسر ااہم ٹی20میچ میں جیت: 28ِجنوری کو ماﺅنٹ ماﺅنگا نوئی میں ہونے والے اس میچ میںپاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وکٹ بیٹنگ تھی لہذا ایک بہترین ٹیم ورک کے ساتھ بلے باز اپنے اپنے حصے کے رنز جوڑتے رہے اورمقررہ اوورز کے اختتام پر 6کھلاڑی آﺅٹ پر 181رنز بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

فخر زمان 46رنز بناکر پاکستان کی طرف سے ٹا پ اسکورر رہے۔پاکستان کے مجموعی اسکور میں اضافے کی وجہ چوتھے نمبر پر آنے والے عمر امین کے وہ 3چھکے بھی بنے جو اُنھوں نے سوڈی کو ایک اوور میں لگائے اور پھر اُسی اوور کی آخری گیند پر21رنز بنا کر آﺅٹ ہوگئے۔کپتان سرفراز احمد نے بھی 29 رنز بنائے۔نیوزی لینڈ کی طرف سے سوڈی اور مچلز نے2،2کھلاڑی آﺅٹ کیئے۔

1،1 کھلاڑی گرینڈ ہوم اوربولٹ نے آﺅٹ کیا۔ نیوزی لینڈ نے پاکستان کا ہدف182رنز کو حاصل کرنے کیلئے آغاز تو شاندار بیٹنگ سے کیا ۔لیکن پھر پاکستانی ٹیم ورک کے سامنے ایسے کمزور ہو نا شروع ہوئے کہ اُنکی باﺅلنگ اور فیلڈنگ نے رنز بنانے کی رفتار پر کنٹرول کر لیا اور نیوزی لینڈ کے بلے باز ناکام نظر آنا شروع ہو گئے۔ نتیجہ پاکستان کے حق میں نکلا اور وہ مقررہ اوورز میں6کھلاڑی آﺅٹ پر صرف 163اسکور بنا کر اپنے ملک میں پہلی دفعہ پاکستان سے ٹی20 سیریز ہار گئے۔

نیوزی لینڈ کے سب سے اہم بلے باز گپٹل جن سے سب سے زیادہ اُمید تھی کہ وہ کامیابی دلوا دیں گے 59رنز بنانے میں تو کامیاب ہوئے لیکن میچ جیتوانے میںناکام ہوئے۔پاکستان کی طرف سے شاداب خان نے باﺅلنگ کے دوران کافی حد تک میچ پر گرفت رکھی اور2اہم بلے باز جن میںگپٹل بھی شامل تھے آﺅٹ کیا۔محمد عامر،فہیم اشرف،عمر امین اور رومان رئیس نے ایک ایک کھلاڑی آﺅٹ کیا۔

اسطرح پاکستان نے یہ میچ18رنز سے جیت کر سیریز جیت لی۔ پہلے دو میچوں کی صورت ِ حال: اس میچ سے پہلے جو دو میچ کھیلے گئے اُن میں سے اگر پہلے میچ کی صورت ِحال دیکھی جائے توپاکستان کیلئے انتہائی نااُمیدی کی جھلک واضح تھی اور تسلسل تھا نیوزی لینڈ کے موجودہ دورے میں ایک روزہ میچوں میں شکست کا۔ لیکن پھر دوسرے میچ میں جیسے پاکستانی ٹیم نے کم بیک کیا اُسکی لڑی تیسرے میچ میں قائم رکھی جو ایک بڑی کامیابی کا باعث بن گئی۔

پہلا ٹی20میچ: 22ِجنوری 2018ءکو ویلنگٹن میں پہلا ٹی 20 میچ ایک دفعہ پھر نیوزی لینڈ نے آسانی سے جیت لیا۔ پاکستان کی شکست کی اہم وجوہات میں سے ایک دفعہ پھر بیٹنگ لائن کی ناکامی اور دوسرا کمزور فیلڈنگ۔حالانکہ پاکستانی باﺅلر رومان رئیس نے گپٹل اور فلپس کو جلد پویلین بھیج کر 8اسکور پر 2کھلاڑی آﺅٹ کر دیئے۔لیکن جس پھر جس بلے باز منرو کا پاکستانی فیلڈر عمر امین کے ہاتھوں کیچ ڈراپ ہوا اُس نے ہی سب سے زیادہ 49رنز بنائے اور ناٹ آﺅٹ بھی رہے۔

ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا ،پہلے بیٹنگ پاکستان نے کی اور 20اوور کی چوتھی گیند پر 105پر تما م ٹیم آﺅٹ ہو گئی۔صرف بابر اعظم سب سے زیادہ اسکور41 رنز بنانے میں کامیاب ہو ئے اور اُنکے ساتھ اہم کردار حسن علی نے 3چھکوں کی مدد سے 23رنز بنا کر دیا۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے باﺅلر ٹم ساﺅتھی اور سیتھ رینز نے3،3کھلاڑی آﺅٹ کیئے اور نیوزی لینڈ نے15.5 اوورز میں 3کھلاڑی آﺅٹ پر 106رنز بنا کر 7وکٹوں سے میچ جیت لیا۔

5ایک روزہ میچوں میں اور پہلے ٹی 20 کرکٹ میچ میں مسلسل ایک اور شکست کے بعد ٹیم کا موریل کیا ہو گا جو پاکستانی شائقین کا گر چکا تھا ۔لیکن وہ پھر بھی پُراُمید تھے کہ شاہین ٹی20کا دوسرا میچ جیتنے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔ دوسراٹی 20 میچ: 25 ِ جنوری کو آکلینڈ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور فخر زمان اور احمد شہزاد کی نئی اوپننگ جوڑی نے10اوورز میں94رنز بناڈالے۔

اُن دونوں کے آﺅٹ ہو نے کے بعد کپتان سرفراز احمد اور بابر اعظم نے بھی شاندار و ذمہدارانہ کھیل کھیلا جسکی وجہ سے پاکستانی ٹیم4وکٹوں کے نقصان پر مقررہ اوورز میں202رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ احمد شہزاد اور کپتان سرفراز احمد نے44 اور 41رنز بنائے۔جبکہ فخر زمان3چھکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد58رنز پر آﺅٹ ہو ئے ۔ بابر اعظم جو کہ ایک روزہ سیریز میں مکمل ناکام نظر آئے اور تنقید کا نشانہ بھی بنے اس فارمیٹ کے دوسرے میچ میں بھی اچھا کھیلے اور50ناقابل ِشکست رنز بنا کر نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔

نیوزی لینڈ بلے باز ہد ف مکمل نہ کر سکے اور 48رنز سے شکست کھا گئے۔ پاکستانی بیٹنگ کے بعد باﺅلنگ میں جارحانہ نظر آیا اور فیلڈنگ کے دوران اتنے تیز کے سٹمپ بھی کیا اور رن آﺅٹ کا موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔ یہی ٹیم ورک پاکستانی ٹیم کی کامیابی کا باعث بن گیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم18.3اوورز میں 153کے اسکور پر آﺅٹ ہو گئی اور پاکستان دورے کا پہلا میچ 48رنز سے جیت گیا۔ جسکے ساتھ ہی ایک خوف ختم ہوا ہے دوسرے فارمیٹ میں وائٹ واش ہونے سے بچ گئے۔پاکستانی باﺅلر فہیم اشرف 3بلے باز آﺅٹ کر کے نمایاں باﺅلر رہے۔