UrduPoint Social

پاکستان ٹیم ۔۔ بھلا بدلہ بھی کوئی ایسے لیتا ہے۔۔۔۔

جس ٹیم کی عالمی سطح پرآٹھویں رینکنگ ہو۔۔ اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیلے آٹھ برس بیت چکے ہوں۔۔۔ اُس ٹیم کے ہاں کوئی دوسری ٹیم مہمان بننا گوارا نہ کرتی ہو۔۔ ایک ایسی ٹیم جو اپنی ہوم سیریز کسی تیسرے دیس میں جا کر پرائے دیس میں کرائے پر سٹیڈیم لیکر میزبانی کرتی ہو

جس ٹیم کی عالمی سطح پرآٹھویں رینکنگ ہو۔۔ اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیلے آٹھ برس بیت چکے ہوں۔۔۔ اُس ٹیم کے ہاں کوئی دوسری ٹیم مہمان بننا گوارا نہ کرتی ہو۔۔ ایک ایسی ٹیم جو اپنی ہوم سیریز کسی تیسرے دیس میں جا کر پرائے دیس میں کرائے پر سٹیڈیم لیکر میزبانی کرتی ہو

اُس ٹیم کا فائنل میں ٹکرا ایک ایسے ملک کی ٹیم سے پڑ جائے جس سے سرحدی، سفارتی اور ثقافتی تعلقات کشیدہ ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر 14 دن پہلے اس کیخلاف ناکامی بھی دیکھی ہو، 2003 کا ورلڈ کپ ، 2007 کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ، 2011 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی ناکامی ہوئی ہو اور ایک برس قبل 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں بھی شکست کا صدمہ سہنے والی ٹیم کی برداشت کا عالم اور طویل سفرکی مسافت تو دیکھئیے۔۔

(خبر جاری ہے)

۔۔
اوول میں 180 رنز کی ذلت آمیز شکست بھارت کی ناکامی نہیں پاکستان نے بدلہ چکایا ہے۔


دنیا کی بہترین بیٹنگ کہلوانی والی بھارتی بیٹننگ 50 اوورز کے میچ میں 30 اوورز میں ہی آؤٹ ہوگئی۔۔۔۔ اس میں باؤلرز کی شاندار کارکردگی تو ہے ہی۔۔۔۔ مگر پاکستانی بدلہ ایسے ہی لیتے ہیں کہ تاریخ ہی ادھیڑ کر رکھ دی۔۔۔۔
بھارت کیخلاف چیمپئنزٹرافی کی فتح کا رات بھرجشن
بھارتی کے ساتھ سرحدی اور سفارتی دشمنی ایک طرف ۔

۔۔ کرکٹ کے میدان کی دشمنی میں پاکستانی شائقین شاید برازیلین سپورٹس فینز سے زیادہ جوش و جنون کے حامل ہے۔۔۔۔ بھارت کیخلاف چیمپئنزٹرافی کی فتح کا جشن اوول کے میدان سے شروع ہوا اور کراچی سے لیکر خیبر تک نوجوانوں کی خوشی اور جشن ہی نظر آیا۔ جبکہ بڑے برزگ بھی اس فتح سے مسرور دکھائی دئیے کیونکہ 25 برس کے بعد پاکستان نے ون ڈے کرکٹ کا بڑا ٹائٹل جیتیا۔

۔۔۔
چیمپئنزٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارت کو دھول چٹانے والی قومی ٹیم آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں سے چھٹے نمبر پر آگئی اور اب ورلڈکپ 2019 میں براہ راست کوالیفائی کرنے والی ٹاپ ایٹ ٹیموں میں پاکستانی کی سیٹ تقریبآ کنفرم ہوگئی ہے۔۔۔۔۔
پاکستانی ٹیم نے روایتی حریف کو ایسی دھول چٹائی کہ کوہلی کی قابلیت پرسوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔

۔ کہ بھارت نے اس سے پہلے کبھی 180 رنز کے شرمناک مارجن سے کبھی شکست نہیں کھائی کیونکہ پاکستان نے بھارت کیخلاف آسٹریلیا کی ورلڈ کپ 2003 میں 125 رنز کی فتح کواس دھول میں اڑا دیا۔۔
کوہلی شاید یہ بھول گئے تھے کہ وہ ایک پرجوش ٹیم کیخلاف میدان میں اترنے جارہے ہیں کیونکہ کوہلی کو پہلے پاکستان سے بیٹنگ کروانے کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا
کوہلی کو اپنے باؤلرز پر اتنا غرو تھا کہ صرف دو ریگولر فاسٹ باؤلر کے ساتھ میدان میں اترے۔

جو کہ بھارت کو بہت مہنگا پڑا۔۔
کوہلی کو اپنے سنئیر باؤلر ایشون اور جدیجہ پر اس قدر اعتماد تھا کہ دونوں وکٹ کے چاروں طرف مار کھاتے رہے لیکن کوہلی نے انہیں اس وقت تک تبدیل نہ کیا جب تک انہوں نے اپنے کوٹے کے اوور مکمل نہ کیے۔۔۔۔
پاکستانی اوپنرز نے 128 رنز کی اوپننگ شراکت داری بناکر عامر سہیل اور سعید انور کی بھارت کیخلاف 1996 ورلڈ کپ کوارٹرفائنل میں جوڑی گئی پہلی وکٹ کی چوراسی رنز کی پارٹنرشپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

۔۔
چیمپئنزٹرافی میں پاکستان کی بھارت کیخلاف تاریخی فتح نے کشمیریوں کو بھی پاکستان سے اپنی محبت اور بھارت سے نفرت کے اظہار کا موقع دیدیا اور کشمیری پاکستان سے محبت کرنے اور بھارت سے نفرت کے اظہار کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔۔۔۔ لندن کے اوول میدان کے باہر کشمیریوں نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کیخلاف مظاہرہ کیا جس سوشل میڈیا پر پوری دنیا نے دیکھا۔

۔۔۔
ادھر مقبوضہ کمشیر میں حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق کی ٹوئٹ کے مطابق وادی کشمیر پاکستان کی فتح پر جھوم اٹھی اور بھرپور آتش بازی کرکے کشمیریوں نے پاکستان کی فتح کا جشن منایا۔۔۔ میرواعظ عمر فاروق نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ ایسا لگ رہا ہے جیسے وقت سے پہلے عید آگئی‘‘
میرواعظ کی ٹوئٹ پر مودی نواز بھارتی میڈیا چیخ اٹھا اور کئی روز تک بھارت اپنی شکست کا زخم بھی چاٹتا رہے گا اور کشمیریوں کی خوشی دیکھ کر اپنا خون بھی جلاتا رہے گا۔۔۔۔۔