جنوبی افریقہ میں ایک روزہ سیریز و سرفراز احمد کا معاملہ

Pakistan Tour Of South Africa

آئی سی سی کی طرف سے ایکشن سخت بھی لیا جا سکتا ہے اور معافی کی وجہ سے نرمی بھی ہو سکتی ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل ہفتہ جنوری

Pakistan Tour Of South Africa
پاکستان جنوبی افریقہ سے 5 ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز میں سے2ہار چکا ہے اور ایک میں کامیابی حاصل کی ہے۔مختصر تجزیہ چند الفاظ میں ہی مکمل سمجھ آجاتا ہے کہ چند روز پہلے ٹیسٹ سیریز میں بیٹنگ ناکام نظر آئی اور ایک روزہ سیر یز میں باﺅلنگ بالکل ۔کیوں ؟ کیا کپتان اور ٹیم میں اختلاف ہے؟یا مینجمنٹ کارکردگی کا تعین نہیں کر پا رہی ؟ یا آخری فرق دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا فرق اور اُوپر سے اُنکا ہی ہوم گراﺅنڈ۔

آخری والے کو مان لیں تو زیادہ بہتر ہے۔کیونکہ باڈی لیگنویج میں ٹیم ایک نظر آتی ہے اور موریل بھی ہے۔ آخری 2میچ27ِ جنوری اور30ِجنوری کو ہیں۔ دیکھتے ہیں پاکستان کیا سیریز میں واپس آسکتا ہے۔یعنی چوتھا میچ اہم ہے۔ پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ میچوں کی سیریز کے پہلے 3میچ: تیسرا میچ 25ِجنوری 2019ء : پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 5ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ 25ِجنوری 2019ءکو سنچورین میں کھیلا گیا۔

(جاری ہے)

ٹاس پاکستان نے جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا اور 50اوورز میں6کھلاڑی آﺅٹ پر316مجموعی اسکور بنانے میں کامیاب ہو گئے۔امام الحق کی سنچری اور بابر اعظم اور محمد حفیظ کی نصف سنچریاں اس اننگز میں اہم رہیں۔سٹین اور ربادا نے 2,2کھلاڑی آﺅٹ کیئے۔ جنوبی افریقہ نے318رنز کے جیت کے ہدف کیلئے سفر شروع کیا لیکن جلد ہی 2بلے باز آﺅٹ ہو نے کے بعد اُن کے کپتان ڈیپلوسی نے ہینڈرکس کے ساتھ محتاط انداز میں کھیلنا شروع کیا اور ٹیم کا مجموعی اسکور بڑھنا شروع ہو گیا جسکے دوران بارش کی وجہ سے میچ بھی روکنا پڑا۔

جب دوبارہ میچ شروع ہوا تو وہ دونوں جان گئے تھے ڈک ورتھ لوئیس فارمولا لگنے کی وجہ سے اوسط بڑھانا پڑے گی جس میں وہ کامیاب ہوگئے اور پاکستان باﺅلنگ مکمل ناکام۔ لہذا وہی ہوا جب دوبارہ بارش شروع ہو ئی تو میچ روک دیا گیا ۔ اس وقت جنوبی افریقہ کا 33.5 اوورز میں 2کھلاڑی آﺅٹ ہو نے پر 187اسکور تھا جو ڈک ورتھ لوئیس فارمولا کی اوسط کے مطابق جنوبی افریقہ کی جیت ثابت ہوا۔

ہینڈرکس نے ناقابلِ شکست83رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ جبکہ امام الحق کی سنچری ضائع ہوگئی۔ اسطرح 5میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ 2میچ جیت چکا ہے اور پاکستان ایک۔ اہم بات : ٭ امام الحق ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں دُنیا کے دوسرے تیز ترین1000رنز کرنے والے بلے باز بن گئے۔اُنھوں نے یہ کارنامہ 19اننگز کھیل کر انجام دیا ۔ جبکہ فخر زمان پہلے نمبر پر 18اننگز کھیل کر ہیں جنہوں نے ماضی کے مشہور بلے باز ویوین رچرڈ کا 21اننگز کا ریکارڈ توڑ کر اپنے نام کیا تھا۔

پہلا میچ 19ِجنوری 2019ء : کو پورٹ الزبتھ میں کھیلا گیا ۔جس میں جنوبی افریقہ نے ٹا س جیت کر پہلے بیٹنگ کی اورصرف 2بلے باوزں کے آﺅٹ ہو نے پر 50اوورز میں266رنز بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ہاشم آملہ نے ناقابل ِشکست108رنز بنائے اور ون ڈاﺅن آنے والے بلے باز ڈوسین 93کے انفرادی اسکور پر آﺅٹ ہوگئے۔پاکستان کی طرف سے حسن علی اور شاداب خان نے 1,1وکٹ لی۔

پاکستان کی بیٹنگ لائن میں محمد حفیظ کے تجربے نے کام کیا اور وہ امام الحق کے 86رنز اور بابر اعظم کے49رنز کے سِرے کو لیکر آگے بڑھے اور71رنز کی شاندار ناقابل ِشکست اننگز کھیلتے ہوئے پاکستان کو پہلا ایک روزہ میچ 5وکٹوں سے جیتا دیا۔پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سریز میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے اولیور اپنا پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیل رہے تھے اور اُنھوں نے 2کھلاڑی آﺅٹ کیئے۔

مین آف دی میچ محمد حفیظ ہوئے۔ اہم بات : ٭ جنوبی افریقہ پہلے ایک روزہ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے صرف 2وکٹوں پر 266رنز کا کمتر مجموعی اسکور بنانے والی دوسری ٹیم بن گئی۔پہلے نمبر کا" ان چاہے" ریکارڈکا مالک پاکستان ہے جو 1992ءکے عالمی کپ میں پاکستان نے2کھلاڑی آﺅٹ220پر قائم کیا تھا۔ویسٹ انڈیز کے خلاف۔ دوسرا میچ 22ِجنوری2019ء : کو ڈربن میں جنوبی افریقہ کے ٹاس جیتنے کے بعد پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دینے سے شروع ہوا اور پاکستان کی شکست پر ختم ہوا۔

پاکستان کے 8کھلاڑی صرف 112کے مجموعی اسکور پر آﺅٹ ہو گئے ۔جس کے بعد کپتان سرفراز احمد کے ساتھ حسن علی نے مِل کر عمدہ بیٹنگ کی اور 90 رنز کی شراکت قائم کر کے نویں وکٹ کیلئے پاکستان کا نیا ریکارڈ بنا دیا۔حسن علی نے 59 رنزبنائے اور آل ٹیم203کے مجموعی اسکور پر آﺅٹ ہو گئی۔گو کہ پاکستانی فاسٹ باولر شاہین آفریدی نے 3اور سپنئر شاداب خان نے 2اہم بلے باز آﺅٹ کر کے جنوبی افریقہ کے بھی 80رنز پر 5کھلاڑی آﺅٹ کر دیئے۔

لیکن پھر پاکستانی کھلاڑیوں پر اُس وقت مایوسی کے سائے چھانے شروع ہو گئے جب ڈروسان کے ساتھ اینڈائل فیلکو ایو جو میچ میں 4وکٹیں بھی لے چکے تھے نے جنوبی افریقہ کو فتح کے قریب کر نا شروع کر دیااور پاکستانی باﺅلنگ اُن کے سامنے ناکام نظر آناشروع ہو گئی۔ 42میں اوور میں دونوں بلے باز اس میں کامیاب ہو گئے اور دونوں نے بالترتیب ناقابل ِشکست 80اور69رنز بناتے ہوئے جنوبی افریقہ کا مجموعی اسکور207بنا کر فتح دلوا دی۔

مین آف دی میچ اینڈائل فیلکو ایو ہوئے۔5ایک روزہ میچوں کی سیریز 1۔1سے برا برہو گئی۔ اہم بات: ٭ پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیل کر 100 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اہم با ت پہلے 3میچوں کی: سرفراز احمد کا جملہ اور طوفان ِبدتمیزی: پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے دوسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں جنوبی افریقہ کی بیٹنگ کے دوران اُس وقت اُنکے بلے باز اینڈائل فیلکو ایو پر نسل پرستانہ جملے بول دیئے جب وہ بلے باز اپنی ٹیم کو جیت کی طرف لیکر جارہا تھا۔

پاکستان کے سابق کرکٹر و کمنٹیٹررمیض راجہ نے اُس وقت نہایت دانشمندی سے اپنے دوسرے کمنٹیٹر ساتھیوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جملے کا ترجمہ لمبا ہے۔ لیکن پاکستان کے پرنٹ میڈیا،الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نے سرفراز احمد کے خلاف اُنکے جملے سے زیادہ طوفان ِبدتمیزی کھڑا کر دیا ۔ پہلے تعریف کے قابل ہیں رمیز راجہ جو جانتے ہیں کھیل کے میدانوں میں دوستوں میں ہو جاتا ہے جب وقتی طور پر مخالفت میں مقابلہ ہو رہا ہو۔

تعریف کے قابل ہیں کپتان سرفراز احمد جنہوں نے غلطی کا احساس کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور سب سے زیادہ تعریف کے قابل ہیں جنوبی افریقہ کے کپتان ڈیپلوسی جنہوں نے سرفراز احمد کی معافی کا جواب مُثبت انداز میں دے کر سب کے دِل جیت لیئے۔ اگلے چند روز میں اس خبر کی باز گشت سُنائی دے رہی ہے کہ آئی سی سی کی طرف سے ایکشن سخت بھی لیا جا سکتا ہے اور معافی کی وجہ سے نرمی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن پاکستان کرکٹ کے شائقین اور مداح میڈیا کے رویئے پر پریشان ہیں جسکی خواہش ہے اپنے ہی ملک کے کھلاڑی کےخلاف کاروائی کی جائے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments