مصباح الحق کی کپتانی نیک شگون ثابت ہوئی

Pakistan Vs Bangladesh

پاکستان بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ مئی

Pakistan Vs Bangladesh

بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کرکے جہاں شکستوں کا ازالہ کیا وہیں کپتان مصباح الحق کی عظمت بھی ایک بار پھر ثابت ہوگئی، مصباح الحق حقیقت میں پاکستانی ٹیم کیلئے نیک شگون کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ مصباح الحق کی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد قومی ٹیم تاریخ کے بدترین دور میں چلی گئی، بنگلہ دیش نے پہلے ون ڈے سیریز میں پاکستان کو کلین سوئپ کیا پھر واحد ٹی ٹونٹی میچ میں قومی ٹیم شکست کھا کر ٹرافی ہار گئی اس کے بعد ٹیسٹ سیریز کے پہلے معرکے میں قومی ٹیم ہاتھ میں آیا ہوا میچ گرا بیٹھی اور پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوا۔ دوسرے ٹیسٹ میں اظہرعلی، اسد شفیق کی بیٹنگ کی بدولت قومی ٹیم کو تاریخی کامیابی ملی۔ اس 328 رنز سے فتح کا کریڈٹ باؤلرز کوبھی جاتا ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کیخلاف اپنی پوری آب و تاب کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

قومی ٹیم نے میرپور ٹیسٹ میں بنگلادیش کو جیت کے لئے 550 رنز کا ہدف دیا جس کے تعاقب میں بنگال ٹائیگرز 221رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ میرپور کے شیر بنگلا نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے تیسرے روزبنگلا دیش کی پوری ٹیم 203 رنز پر پویلین لوٹ گئی جس کے بعد پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 6 کھلاڑیوں کے نقصان پر 195 رنزپراننگز ڈکلئیر کردی جس کے بعد قومی ٹیم نے بنگال ٹائیگرز کو جیت کے لئے 550 رنز کا ہدف دیا۔ بنگلادیش کے اوپننگ بلے باز تمیم اقبال اور امرالقیس نے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا لیکن 48 کے مجموعی سکور پر امرالقیس 16 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔تیسرے روز کھیل کے اختتام تک بنگلہ دیش نے ایک وکٹ پر 63 رنز بنالئے جب کہ تمیم اقبال 32 اور مومن الحق 15 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹیم نے ہدف کے تعاقب کیلئے کوشش بھی نہیں کی کیونکہ 550رنز کے ہدف تک ان کی رسائی مشکل تھی اس لیے بنگالی بلے باز اپنی وکٹیں آسانی سے گنواتے رہے۔ پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ ایک بار ٹیم کیلئے مفید ثابت ہوئے اور انہوں نے اس جیت میں اہم کردار ادا کیا، یاسر شاہ کو ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی انتظامیہ نے مناسب استعمال نہیں کیا، اُسے بھارت کیخلاف مشکل میچ میں کھلایا گیا جہاں وہ توقعات کے مطابق کھیل پیش کرنے میں ناکام رہا اور اس کے بعد چیف کوچ وقاریونس کا یاسر شاہ سے اعتبار اٹھ گیا، بنگلہ دیش کیخلاف سیریز میں سعید اجمل کو واپسی کا موقع دیا گیا لیکن اجمل نئے ایکشن کے ساتھ غیرمؤثر نظر آئے جس پر ٹیم انتظامیہ کو یاسر شاہ کی یاد آگئی قومی ٹیم اس کی شاندار باؤلنگ کی وجہ سے ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب رہی۔ میرپور ٹیسٹ میں تیسرا دن اہم رہا اور اس کیو جہ سے میچ کا نقشہ تبدیل ہوا، کھیل کے تیسرے روز بنگلادیشی ٹیم نے اپنی نامکمل اننگز 5 وکٹوں کے نقصان پر 107 رنز سے شروع کیا تو کوئی بلے باز پاکستانی بولنگ لائن کے سامنے کھل کر نہ کھیل سکا اور 113 کے مجموعے پر سومیا سرکار 3 رنز بنانے کے بعد وہاب ریاض کی گیند پر اظہرعلی کو کیچ دے بیٹھے جس کے بعد شوواگاتا ہوم بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے اور تیج الاسلام بھی 15 رنز بناسکے جب کہ دوسرے ہینڈ سے شکیب الحسن بولروں کے سامنے مزاحمت کرتے رہے۔ پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض اور یاسر شاہ نے 3،3 جب کہ جنید خان نے 2 اور محمد حفیظ نے ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں ایک مرتبہ پھر اوپننگ بلے بازبنگالی بولنگ لائن کے سامنے مزاحمت میں ناکام رہے، محمد حفیظ بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹے جب کہ سمیع اسلم بھی اسی ڈگر پر چلتے ہوئے صرف 8 رنز بنا سکے۔ پہلی اننگز میں ڈبل سنچری جڑنے والے اظہر علی دوسری اننگز میں صرف 25 رنز بنا کر 49 کے مجموعے پر سومیا سرکار کا شکار بنے جب کہ یونس خان39، اسد شفیق 15 اور کپتان مصباح الحق 82 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بنگلادیش کی جانب سے محمد شاہد نے 2، سومیا سرکار،شوواگاتا ہوم اور تیج الاسلام نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔واضح رہے کہ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں اظہر علی کے شاندار 226 رنز کی بدولت 557 رنز پراننگز ڈکلئیر کی جب کہ یونس خان 148 اور اسد شفیق نے بھی شاندار 107 رنز بنائے۔ بنگلا دیش کی جانب سے تیج الاسلام نے 3، محمد شاہد اور شواگتا ہوم نے 2، 2 جب کہ شکیب الحسن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments