مصباح الیون نے تو کمال کردیا، ہاٹ فیورٹ جنوبی افریقہ کو شکست

Pakistan Vs South Africa

پاکستان کی پیس بیٹری نے ڈی ویلیئرز الیون کے بلے بازوں کیلئے وکٹ پر ٹھہرنا محال کردیا ٹورنامنٹ کی مضبوط ٹیم کو شکست دیکر پاکستان کوارٹرفائنل تک رسائی کے مزید قریب پہنچ گیا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ 7 مارچ 2015

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ ایک بائی چانس کھیل ہے۔ اس کھیل کے بارے میں کوئی بھی رائے حتمی طور پر نہیں دی جاسکتی ہے۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے میچ کے بارے میں عمومی طور پر پروٹیز کو فیورٹ کی حیثیت حاصل تھی لیکن کھیل پر گہری نظر رکھنے والے پنڈتوں کو احساس تھا کہ پاکستان اس میچ میں باؤنس بیک کرسکتا ہے اس لیے کسی بھی ناقد نے اس میچ کے بارے میں حتمی رائے دینے سے گریز کیا۔

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو شکست تو دیدی اور یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ پاکستان جنوبی افریقہ سے بھی مضبوط یابڑی ٹیم ہے، ایسا نہیں ہے البتہ یہ سچ ہے کہ قومی ٹیم اگر ایک یونٹ کی طرح کھیلے اور فاسٹ باؤلرز پوری آب و تاب کا مظاہرہ کریں تومصباح الیون سب سے بھاری سائیڈ ہے۔ پاکستانی ٹیم کی جنوبی افریقہ کیخلاف فتح اس لیے بھی ناقابل یقین ہے کیونکہ مصباح الیون بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد نہ صرف تنقید کی زد میں تھی بلکہ ٹیم پہلے راؤنڈ سے واپسی کے خوف کی بھی زد میں تھی۔

(جاری ہے)

جنوبی افریقہ کیخلاف بلے بازوں نے قدرے بہتر کھیل پیش کیا کیونکہ بارش کے باعث گیلے وکٹ پر کھیلنا مشکل تھا جس کے باعث پاکستانی ٹیم 47اوورز میں بڑا ٹوٹل سکور بورڈ پر سجانے میں کامیاب نہ ہوسکی لیکن اس کے باوجود آکلینڈ کے ایڈن پارک کی وکٹ پر 232رنز کا ہدف اگر مشکل نہیں توکم از کم فائٹنگ ٹوٹل ضرور تھا جس کا پاکستانی پیسر نے کامیابی کے ساتھ دفاع کیا۔

ورلڈکپ سے پہلے پاکستانی ٹیم کو جنید خان کی انجری سے جھٹکا ملا اور یہ بھی خیال تھا کہ محمد عرفان مکمل فٹ نہیں ہیں اور سہیل خان بھی شاید کلک نہ کرسکے لیکن تمام آرا منفی ثابت ہوئیں اور باؤلرز نے ہی پاکستان کو زمبابوے اور جنوبی افریقہ کیخلاف فتوحات دلا کر ٹیم کو کوارٹرفائنل کی ریس میں دوبارہ نمایاں پوزیشن میں لاکھڑا کیا۔ جنوبی افریقہ نے اس ورلڈکپ میں دو مرتبہ چارسو زائد رنز کا ہندسہ عبور کیا لیکن پاکستان کی پیس بیٹری کے سامنے ڈی ویلیئرز سائیڈ کافی محتاط انداز میں بیٹنگ کرتی نظر آئی اور کپتان کے سوا کوئی بھی بلے باز عرفان، وہاب ، سہیل اور راحت کے سامنے مزاحمت نہ کرسکا۔

جنوبی افریقہ کیخلاف فتح میں کپتان مصباح الحق کا بھی کلیدی کردار ہے ، پہلے وہ مشکل حالات میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا ہدف قابل عزت ہندسوں تک لے گئے پھر بطور کپتان مصباح نے ثابت کیا کہ وہ میچورقائد ہیں اور مناسب وقت پر صحیح فیصلے کرکے حریف ٹیم کو بند گلی میں دھکیلنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ مصباح الحق نے دو مرتبہ اہم مواقع پر باؤلنگ تبدیل کی ، پہلی بار وہ مڈل اوورز میں عرفان کو لائے اور عرفان نے دو اہم بلے بازوں کو واپسی کاٹکٹ تھمایا ، بعد میں وہ سہیل خان کو لائے جنہوں نے ڈی ویلیئرز کی قیمت وکٹ حاصل کرکے ٹیم کی جیت کیلئے راہموار کی۔

کپتان وہاب ریاض کو بھی بہترین استعمال کیا ، حالانکہ وہاب کو آخری اوورز میں کافی سکور پڑا لیکن مصباح الحق نے وہاب کو بھرپور اعتماد دیا اور لفٹ آرم سپیڈ سٹار نے اہم موقع پر کوالٹی باؤلنگ کرکے ٹیم کوسرخرو کیا۔ جنوبی افریقہ کیخلاف اہم میچ میں پاکستان دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اترا، طویل عرصے سے سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ تھا اور سرفراز احمد نے اپنی شمولیت کو درست ثابت کرتے ہوئے نہ صرف 49رنز بنائے بلکہ وکٹوں کے پیچھے 6 کیچز لیکر ریگولر وکٹ کیپر کی افادیت بھی ثابت کی۔

سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ یونس خان کو بھی ایک بار پھر موقع دیاگیا لیکن سابق کپتان ایک بار پھر بڑے میچ میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ یونس خان بڑے بلے باز ہیں لیکن یہ ورلڈکپ ان کیلئے یاد گار ثابت نہیں ہورہا، جنوبی افریقہ کیخلاف یونس کو دوبارہ چانس ملا ہے اور شاید یہ مستقل چانس ہے کیونکہ اگلے میچ میں آئرلینڈ کیخلاف مصباح الحق وننگ کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے کی ترجیح دیں گے۔

یونس خان ایک ایسے بلے باز ہیں جن پر اعتبار کیا جاسکتا ہے اور توقع ہے کہ شاید وہ کسی بڑے میچ میں بڑی اننگز کھیل کر اپنے بڑے کھلاڑی ہونے کا ثبوت پیش کریں اس لیے ٹیم مینجمنٹ نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن یونس کے مقابلے میں جس کھلاڑی کو ڈراپ کیا گیا یعنی حارث سہیل وہ بھی ٹمپرامنٹ اور تجربے کے لحاظ سے قابل اعتبار بلے باز ہیں لیکن ورلڈکپ میں وہ کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے اس لیے ٹیم مینجمنٹ نیف حارث سہیل کو باہر بٹھا کر یونس کو پھر موقع دیا۔

جنوبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے پوائنٹ ٹیبل پر 6پوائنٹس ہوگئے ہیں اور اس فتح سے کوارٹرفائنل تک رسائی کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں ، اب آئرلینڈ کیخلاف میچ میں قومی ٹیم کو ایک بار پھر ذمہ داری سے کرکٹ کھیلنا ہوگی کیونکہ پاکستانی ٹیم کو جیت کیلئے تب زیادہ محنت تت نہیں کرنا پڑتی جب کارکردگی میں یگانگت ہو، صرف ایمانداری اور جذبے سے کھیلیں تو نتائج پاکستان کا حق میں آنا شروع ہوجاتے ہیں اس لیے اب آخری میچ میں ایک بار پھر قوم فتح کی امیدیں لگائے گی اور مصباح الحق کیلئے آخری میچ میں کامیابی ایک اور امتحان ہے۔

پاکستان اگر آئرلینڈ کیخلاف 50رنز کے مارجن سے کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو قومی ٹیم اپنے گروپ میں تیسرے نمبرپر آ جائے گی اور کوارٹرفائنل میں متوقع طورپاکستان کا سامنا آسٹریلیا سے ہوسکتا ہے۔ اگر پوائنٹس ٹیبل پر بھارت پہلے نمبر پر رہا تو بھارت کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوسکتا ہے جبکہ پاکستانی ٹیم دوسرے نمبر پر آگئی تو مقابلہ سری لنکا سے متوقع ہے۔

پاکستانی ٹیم گروپ میں چوتھے نمبر پر آئی تو کوارٹرفائنل میں نیوزی لینڈ کے ساتھ جوڑ پڑیگا جو کہ ایک مشکل میچ ہوگا۔ پاکستان کو کوارٹرفائنل میں کامیابی کیلئے کسی بھی صورت میں پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن حاصل کرنا ہوگی کیونکہ چوتھی پوزیشن میں نیوزی لینڈ سے جوڑ پڑسکتا ہے اور یہ کوارٹرفائنل نیوزی لینڈ میں ہی کھیلا جائیگا اس لیے پاکستانی ٹیم کو آخری راؤنڈ میچ میں بھی محنت کے ساتھ کھیلنا ہوگا اوربیٹنگ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹاپ آرڈرزکی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments