”پاکستان کرکٹ بورڈ میں سینئر کھلاڑیوں کی تذلیل کا سلسلہ جاری “

Pcb Mian Senior Crickets Ki Tazlil

ظہیرعباس،وقار یونس اورجاوید میانداد جیسے عظیم کرکٹرز کو بے عزت کرکے عہدوں سے برطرف کیا گیا اپنے دورکے ناکام ترین کھلاڑیوں کو سرآنکھوں پر بٹھاکر چلنے والا بورڈ بوکھلاہٹ کا شکار

جمعہ 20 جون 2008

اعجازو سیم باکھری: کرکٹ ہم پاکستانیوں کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے۔گھریلو حالات خراب ہوں یا ملکی،پاکستانی قوم کرکٹ مقابلے انتہائی ذوق شوق سے دیکھتی ہے لیکن اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ جنون ماند پڑرہا ہے جس کے بہت سے عوامل ہیں۔اوّل توجب سے قومی ٹیم پے درپے شکستیں کھانا شروع ہوئی ہے لوگوں نے کرکٹ میں دلچسپی لینا کم کردی اس کے علاوہ کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی ہیروز کیساتھ کیا جانیوالاناروا سلوک بھی شائقین کو کرکٹ سے دورکرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ مسوائے عمران خان کے دیگر تمام تر کھلاڑی اپنے عروج میں یا ریٹائرمنٹ کے کرکٹ بورڈ کی ستم ظریفی کا شکار بنے۔ قارئین:یہ گزشتہ ہفتے کا ایک واقعہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر سلیم الطاف کو یہ کہہ کر ڈائریکٹرپراجیکٹ کے عہدے سے برطرف کردیا کہ وہ بورڈ کے اندرہونیوالی مالی بے عنوانیوں کو میڈیا میں بے نقاب کرتے رہتے ہیں جس سے ان کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں لہذا ان کی چھٹی ناگزیر ہوچکی تھی۔

(جاری ہے)

پاکستان کی جانب سے 21ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کرنے والے سلیم الطاف کے کمرے میں جا کر نسیم اشرف نے بدتمیزی کی اور سیکورٹی گارڈزسے کہاکہ وہ سلیم الطاف کو باہر نکال دیں لیکن اس سے قبل یہ نوبت آتی گزشتہ کئی سالوں سے کرکٹ بورڈ میں اپنے فرائض سرانجام دینے اور بین الاقومی سطح پر پاکستانی کی نمائندگی کرنے والے سلیم الطاف خاموشی سے باہر نکل آئے۔

باہر آکر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ انہوں نے قوم کوحقائق سے آگاہ کرکے کوئی غلط کام نہیں کیاسابق ٹیسٹ کرکٹر نے ساتھ یہ بھی کہاکہ وہ بورڈ کے اس فیصلے کے خلاف کورٹ میں بھی جاسکتے ہیں۔ سلیم الطاف اپنے دور کے بااثر ڈائریکٹر آپریشنز رہ چکے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اپنے کیرئیر میں ملک کیلئے عظیم کارنامے سرانجام دینے والے سنیئر کھلاڑیوں کو بے عزت کرکے نوکریوں سے نکالا جاچکا ہے تو وہ کیسے ”نان کرکٹرز“میں بیٹھ کر کرکٹ بورڈ کے امور چلاسکتے تھے۔

جب تک وہ خاموشی کے ساتھ سارا منظر دیکھتے رہے تب تک وہ ٹھیک تھے اور ان میں کوئی خرابی نہیں تھی لیکن جب انہوں نے ملکی خزانے کو بے دردی سے خرچ ہوتے ہوئے دیکھا اور لب کشائی کی توان کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھاگیا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی روایات ہے۔دنیا کی دوسری قومیں اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیں اور انہیں یاد کرکے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فخرمحسوس کرتی ہیں لیکن یہاں پاکستان میں عظیم کھلاڑیوں کورسوا کرکے فخرمحسوس کیا جاتا ہے۔

ماضی میں کرکٹ بورڈ کی ستم ظریفی کا شکار رہنے والوں میں دنیا کرکٹ کے عظیم بیٹسمین جاوید میانداد کا نام سرفہرست ہے جو تین بار کوچ کے عہدے سے برطرف کیے جاچکے ہیں جبکہ وسیم اکرم کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے وقار یونس بھی گزشتہ برس حج کرنے کے جرم میں اپنے عہدے سے برطرف ہوئے تھے جبکہ پاکستان کرکٹ کو بام عروج پر لیجانے والے ایشین بریڈ مین ظہیرعباس کو اس لیے قومی ٹیم کے منیجر کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا کہ انہوں نے باب وولمر کی موجودگی میں قومی ٹیم کے بلے بازوں کو بیٹنگ کے گربتائے تھے اور اوول کیس میں جہاں نسیم اشرف اور شہریارخان خود موجود تھے ظہیرعباس جیسے عظیم کھلاڑی کو جرم دار ٹھہرا کر فارغ کردیا گیا۔

اس سے قبل وسیم اکرم ،سعید انوراور معین خان جیسے بڑے کھلاڑیوں کو قبل ازوقت ریٹائرمنٹ پر مجبورکیا گیا جن میں وقاریونس بھی شامل تھے۔انضمام الحق جیسا عظیم بیٹسمین جو پاکستان کی جانب سے بیٹنگ کے ہربڑے ریکارڈ کامالک ہے کو ورلڈکپ 2007ء میں ناکامی کا اکیلا ذمہ دار ٹھہراکر پوری دنیا میں تماشہ بنایاگیا اور انتہائی بے دردی کے ساتھ انہیں کرکٹ سے رخصت سے کیا گیا۔

اس سے قبل حنیف محمد ،مشتاق محمد جیسے لیجنڈز کے ساتھ بھی ناروا سلوک رکھا گیا اور ایک وقت ایسابھی پاکستان کرکٹ میں آیا جب 2004ء میں بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر آرہی تھی تو اس کے وقت کے کرکٹ بورڈ نے اوول کے ہیرواور پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ دلانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں پاکستان کو متعارف کرانے والے فضل محمود کو 150روپے والے ٹکٹ تھماکر ان کی تذلیل کی گئی۔فضل محمود نے اس موقع پر کہاتھا کہ وہ ایسی تذلیل کے ساتھ میچ دیکھنے سے گھر بیٹھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔جس ملک میں اپنے دور کے ناکام ،نااہل اورناکارہ کرکٹرز کو ان کی حیثیت سے بڑھ کر عزت اور ربتہ دیا جاتا ہووہاں عظیم کھلاڑیوں کی قدر کرنے اور عزت دئیے جانے کی توقع رکھنا بھی بیکار ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments