پہلا کوارٹرفائنل، جنوبی افریقہ آج سری لنکا اور بدقسمتی دونوں کو شکست دینے کیلئے پرعزم

Pehla Quarter Final

سری لنکن بیٹنگ اور جنوبی افریقی باؤلنگ کے مابین سخت مقابلہ متوقع، افریقہ فیورٹ

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری بدھ مارچ

Pehla Quarter Final

کرکٹ ورلڈ کپ کا ناک آؤٹ مرحلہ آج سے شروع ہورہا ہے جس میں دنیا کی آٹھ بہترین ٹیمیں آپس میں مدمقابل ہیں۔ عالمی کپ کے پہلے کوارٹرفائنل میں فیورٹ اور مضبوط حریف جنوبی افریقہ کا فتح کی بھوکی اور متحد ہوکر حریف ٹیموں پر جھپٹنے والی سری لنکن ٹیم سے مقابلہ ہے۔آسٹریلیا کے سڈنی کرکٹ گراوٴنڈ میں کھیلا جانے والا میچ پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح ساڑھے 8 بجے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے پول میچز میں 4،4 میچز جیتنے میں کامیاب رہیں اور رن ریٹ کے اعتبار سے جنوبی افریقہ کو سری لنکن ٹیم پر سبقت حاصل ہں ہے۔ پول اے میں شامل سری لنکن ٹیم نے6 میں سے 4 میچز میں کامیابی حاصل کر کے0.371 نیٹ رن ریٹ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ پول بی میں جنوبی افریقہ بھی4 میچز جیت سکی لیکن آٹھ پوائنٹ کے ساتھ اپنے پول میں نیٹ رن ریٹ 1.707 حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہی اور یوں پروٹیز کو رن ریٹ کے اعتبار سے سری لنکن ٹیم پرسبقت حاصل ہے۔

(جاری ہے)

جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف مثبت کھیل پیش کرتے ہوئے ٹیم پر برسوں سے لگے چوکر کے دھبے کو صاف کریں گے اور تمام کھلاڑیوں کی توجہ اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز ہوگی اور ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کو دباوٴ میں لینے کی کوشش کریں گے۔جنوبی افریقہ کو بیٹنگ کے شعبے میں تجربہ کار بلے باز ہاشم آملہ، ریلے روسو، اے بی ڈی ویلیئرز، فاف ڈپلوسی اورڈیوڈ ملرکا ساتھ حاصل ہے اور بولنگ کے شعبے میں ڈیل سٹین اور عمران طاہرسری لنکا کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔دوسری جانب بیٹنگ کا شعبہ سری لنکن ٹیم کا ہتھیار ہے جس میں سرفہرست میگاایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے وکٹ کیپر بلے باز کمار سنگاکارا ہیں جو ایونٹ میں اب تک 4 سنچریاں داغ چکے ہیں اور سری لنکن شائقین بھی کوارٹرفائنل میں انہی سے توقعات لگائے بیٹھے ہیں جب کہ بولنگ کے شعبے میں سری لنکا کو لیستھ ملنگا، انجیلو میتھیوز اور سرنگا لکمل جیسے تجربہ کار بولرز کی خدمات حاصل ہیں جو کسی بھی وقت میچ کو اپنے حق میں کرنے کا گر جانتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس ورلڈکپ میں جنوبی افریقہ ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اتری اور افریقی ٹیم کا آغاز بھی شاندار تھا۔ پاکستان اور بھارت کیخلاف پول میچز میں شکست کھانے کے باوجود جنوبی افریقہ عالمی کپ کی فیورٹ ٹیموں کی فہرست سے نہیں نکل سکی۔ اس وقت بھی جنوبی افریقہ فیورٹ ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کے میچ میں جنوبی افریقہ ہی کامیابی کیلئے فیورٹ ہے۔ جنوبی افریقی ٹیم ہر بڑے ایونٹ میں فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اترتی ہے اور افریقی کھلاڑیوں نے بڑے ایونٹس کی ابتداء میں تمام حریفوں کو بری طرح روندا ہے لیکن کوارٹرفائنل اور سیمی فائنل میں آکر یہ ٹیم بدقسمتی کے آسیب کے سائے میں آجاتی ہے اور ماضی میں یہی سب کچھ جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوتا آیاہے۔ 1992ء کے ورلڈکپ میں جنوبی افریقہ ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیم تھی لیکن بارش آڑے آگئی،99ء کے ورلڈکپ میں کلوزنر اور ڈونلڈ رن آؤٹ ہوگئے اورسیمی فائنل ٹائی ہوگیا، اس کے بعد بھی جنوبی افریقی ٹیم کوارٹرفائنل تک آتی رہی لیکن اس سے آگے نہ بڑھ سکی۔ گزشتہ ورلڈکپ میں گریم سمتھ کی قیادت میں جنوبی افریقی ٹیم کوارٹرفائنل میں نیوزی لینڈ کیخلاف شکست کھا گئی حالانکہ اس میچ میں جنوبی افریقی ٹیم ہی فیورٹ تھی۔آج کے میچ میں سری لنکا کرکٹنگ پوائنٹ آف ویو سے گوکہ فیورٹ ہے لیکن قوت اور تسلسل دیکھا جائے تو جنوبی افریقہ کو برتری حاصل ہے۔ سری لنکن ٹیم کے پاس ایسے باؤلرز نہیں ہیں جو ان فارم جنوبی افریقی ٹیم کا مقابلہ کرسکیں لیکن بدقسمتی کے آسیب کا شکار جنوبی افریقہ کیلئے یہ ورلڈکپ خوش قسمت ثابت ہوگا یا نہیں اس کا فیصلہ آج شام تک ہوجائیگا۔ 

سری لنکن ٹیم کی بات کی جائے تو میتھیوز الیون فتح کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی بنیادی قوت بیٹنگ ہے۔ جنوبی افریقہ کے پاس سٹین اور مورکل جیسے بڑے باؤلر ہیں لیکن جے وردھنے اور سنگاکارا جیسے تجربہ کار بلے باز بھی سری لنکن ٹیم کے پاس ہیں جو ورلڈکپ میں بھرپور انداز میں اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں۔ رواں ورلڈکپ کے چاروں کوارٹرفائنل میں سے یہ واحد کوارٹرفائنل ہے جس میں دونوں ٹیمیں آن پیپر ہم پلہ ہیں اور ایک دلچسپ اور اعصاب شکن کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ آج کے میچ میں فاسٹ باؤلرز کی جنگ بھی متوقع ہے جس میں سٹین اور مورکل کا مقابلہ مالنگا کی کارکردگی سے کیا جائیگا اور مالنگا کیا کرتا ہے کتنا مئوثر ثابت ہوگا یہ تو آملا اور ڈی ویلیئرز جب سامنا کرینگے تب ہی اندازہ ہوگا۔ بہرحال آج کا پہلا کوارٹرفائنل ممکنہ طور پر ایک یادگار میچ ہوگا اور جو ٹیم کامیابی حاصل کریگی وہ سیمی فائنل میں رسائی کی خوشیاں منائے گی اور شکست خوردہ ٹیم کے پاس سوائے واپسی کے ٹکٹ کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments