پہلے ٹی ٹونٹی میں بلے باز، دوسرے میں باؤلرز لے ڈوبے

Pehle T20 Mian Balle Baaz Dosre Main Bowlers Ley Dobe

شاہدآفریدی طویل عرصہ بعد فارم میں لوٹ آئے مگر ٹیم کو فتح نہ دلا سکے

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ 28 نومبر 2015

انگلینڈ نے پاکستان کو ون ڈے کے بعد ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی شکست دیدی ہے۔ انگلش ٹیم کے اس دورے میں پاکستان کو صرف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی ملی اور اس ٹیسٹ سیریز میں جیت کی بڑی وجہ کپتان مصباح الحق تھے، مصباح الحق کی قیادت میں انگلش ٹیم کیلئے پاکستان کے واہ سہنے مشکل ہوگیا تھا مگر ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں پاکستان کیلئے برطانوی وار سہنا مشکل ہوگیا۔ پہلے ٹی ٹونٹی کپتان سمیت کوئی بھی بیٹسمین امیدوں پر پورا نہ اتر سکا ، دوسرے ٹی ٹونٹی میں باؤلرز امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔ دوسرے ٹی ٹونٹی میں پاکستان کے پاس تمام گیارہ کھلاڑی بیٹنگ کرنے والے تھے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اب تک پاکستانی ٹیم کا یہ سب سے بہترین کمبی نیشن تھا لیکن کمزور قیادت ، غلط فیصلے اور غیرذمہ داری ٹیم کو لے ڈوبی اور پاکستان کو سیریز میں شکست ہوگئی۔

(جاری ہے)

پہلے ٹی ٹونٹی میں ناقص کارکردگی دکھانے پر شاہد آفریدی ناقدین کی تنقید کی زد میں تھے مگر دوسرے معرکے میں ایک عرصے کے بعد شاہد آفریدی کو مکمل آل راوٴنڈ کارکردگی پیش کرتے ہوئے دیکھا گیا،مگر کپتان کی باؤلنگ اور پھر بیٹنگ کارکردگی پاکستان کو شکست سے نہ بچاسکی۔بیٹنگ میں پوری ٹیم نے پوری قوت کا مظاہرہ کیا اور پورے ملک کے شائقین ٹی وی سکرین کے سامنے جڑے بیٹھے رہے کہ شاید ٹیم کی کامیابی سے ان کو خوشی میسر آجائے لیکن پوری قوت کا مظاہرہ کرنے کے باوجود پاکستان کو تین رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دبئی میں کھیلے گئے دو سرے ٹی ٹونٹی میں دبئی کا انٹرنیشنل سپورٹس سٹی سٹیڈیم شائقین سے کچھا کھچ بھرا تھا کیونکہ جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے شائقین نے ٹی ٹونٹی معرکے سے لطف اٹھانے کافیصلہ کیا مگر شکست کی وجہ سے چھٹی بے مزہ ہوگئی اور موڈ بھی خراب ہوگیا۔اگر میچ کے اعداد و شماراور کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو 20اوورز کی 120گیندوں پر 173 رنز کا مشکل ہدف درپیش تھا لیکن ابتدائی 5 اوورز میں احمد شہزاد اور رفعت اللہ مہمند کی 51 رنز کی ابتدائی شراکت داری بھی اسے کامیابی کی راہ پر گامزن نہ کر سکی۔ انگلستان کے سپن گیندبازوں کی عمدہ باوٴلنگ اور پاکستان کے مڈل آرڈر کی غیر ذمہ داری بلے بازی نے مقابلے کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ یہاں تک کہ آخری تین اوورز میں پاکستان کو 47 کی ضرورت تھی۔ یہاں شاہد آفریدی آئے اور آتے ہی پہلی گیند کرس ووکس کی تھی جس پر آفریدی آ تے ہی برس پڑے۔پھر آفریدی نے ایک ہی اوور میں تین چھکے لگائے اور محض 8 گیندوں پر 24 رنز بنائے۔ اگر وہ لیام پلنکٹ کے ایک عمدہ کیچ کا شکار نہ بنتے تو بلاشبہ پاکستان جیت جاتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ آفریدی آؤٹ ہوئے تو وکٹ پر سرفراز احمد موجود تھے جن کے بارے میں ہمارے چند میڈیا کے دوستوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ کبھی دھوکہ نہیں دے گا۔ سرفراز احمد بھی پریشر گیم میں خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ سرفراز احمد کے بارے میں یہ رائے درست ہے کہ وہ میچ ونر ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر میچ ونر میچ فینشر بھی ہو۔آخری اوور میں 11 رنز کے لیے جب سرفراز نے اڑے ترچھے انداز میں کیپر کے سر کے اوپر سے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تو گیند سیدھی وکٹوں میں جاگھسی جس سے سرفراز کا سربھی نیچا ہوگیا۔ آخری گیند پر چار رنز درکار تھے اور سامنے انور علی تھے، انور علی اچھے آل راؤنڈ ہیں لیکن وہ آخری گیندپر میچ جتوانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے او ر نہ ہی جاوید میانداد بن سکے۔ تیسرے میچ کا نتیجہ کچھ بھی ہو پاکستان کو سیریز میں ملنے والی بدترین شکست سے قومی ٹیم کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی ہے اور کپتان شاہد آفریدی کو بھی ورلڈکپ سے پہلے بہت کچھ سیکھنے اور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے شاہد آفریدی اپنی کارکردگی بہتر کریں کیونکہ وہی دستہ کامیاب ہوتا ہے جس کا کپتان فرنٹ پر جاکر لڑے۔ آفریدی کو اپنی کارکردگی مزید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ باؤلرز کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی تلاش کرنا ہوگی کیونکہ وہ اب سیکھنے کی عمر سے آگے نکل چکے ہیں اس لیے انہیں باؤلرز کو مناسب وقت پر تبدیل کرنے اور استعمال کرنے کے طریقے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ورلڈکپ ٹی ٹونٹی میلہ تین ماہ دور ہے ، ایسے حالات میں کپتان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ دنیا کی دیگر ٹیمیں ٹی ٹونٹی میں بھرپور مہارت حاصل کرچکی ہیں اور پاکستانی ٹیم الٹے قدموں پر چل رہی ہے۔ ایسے حالات میں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments