فل ہیوز کی موت میں ہیلمٹ کا کتنا قصور ہے؟؟

Philip Hughes Ki Mott Main Helmat Ka Kitna Qasoor Hai

نوجوان آسٹریلوی بلے باز ک ناگہانی موت پر عالمی کرکٹ بدستور سوگ میں مبتلا عالمی کرکٹ میں باؤنسر کے خاتمے کیلئے بحث چھڑ گئی، فاسٹ باؤلرز باؤنسرز کے دفاع میں کود پڑے

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر 2 فروری 2015

اعجازوسیم باکھری : کسی بھی کھیل میں کھلاڑی کی موت واقع ہونا غیرمعمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ کرکٹ میں ایسے سانحات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں لیکن گزشتہ دنوں آسٹریلوی سٹائلش اوپنر فل ہیوز کی موت نے عالمی کرکٹ کو سکتے میں ڈال دیا۔ فل ہیوز کی ناگہانی موت پردنیائے کرکٹ اداس ہوگئی،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ،پاکستان ،بھارت،ویسٹ انڈیز،جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ،لارڈز اور سڈنی کرکٹ گراؤنڈز میں لگے پرچم سرنگوں رہے جبکہ مختلف اخبارات میں فل ہیوز کی موت پر بلیک پیجز خالی چھوڑ دئیے گئے جبکہ کرکٹ سے وابستہ ہرفرد نے ہیوز کی موت پر اپنے دکھ کا بھی اظہار کیا اور ہیوز کی فیملی سے اظہار ہمدردی کی۔

آسٹریلیا کے نوجوان بیٹسمین فل ہیوزکو شیلڈ میچ میں شون ابیٹ کا بونسر لگا جس کی وجہ سے وہ تین دن کوما میں رہنے کے بعد چل بسے اور ان عمر صرف پچیس برس تھی۔

(جاری ہے)

30 نومبر 1988ء کو آسٹریلوی ریاست نیو ساوٴتھ ویلز میں پیدا ہونے والے فلپ جیول ہیوز کا شمار آسٹریلیا کے کامیاب نوجوان کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ 18 برس کی عمر میں فرسٹ کلاس کیرئیر کے پہلے میچ میں ہی انہوں نے 51رنز کی اننگز کھیل کر اپنے روشن مستقبل کی نوید سنادی۔

فروری 2008ء میں وکٹوریہ کے خلاف116 رنز کی باری نے انہیں شفلیڈ شیلڈ پیورا کپ فائنل کا سب سے کم عمر سنچری میکر بنا دیا۔بریڈ مین ینگ کرکٹر کا ایوارڈ جیتنے کے بعد انہوں نے فروری2009ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ میں ڈیبیو کیا اور پہلی اننگز میں صفر پر آوٴٹ ہونے کے بعد دوسری باری میں75 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ ڈربن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر وہ میچ کی دونوں اننگز میں تھری فیگرز اننگز کھیلنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کرکٹر بن گئے۔

اس وقت ان کی عمر صرف 20 برس تھی۔2013ء میں آسٹریلین ڈومیسٹک پلئیر آف دی ائیر کا خطاب حاصل کرنے والے ہیوز نے 26 ٹیسٹ میں 1535رنز سکور کیے جس میں ان کی تین سنچریاں اور سات نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 25 ون ڈے میں دو سنچریوں اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے وہ826ء رنز بنانے میں کامیاب رہے۔پاکستان کے خلاف بارہ اکتوبر کو تیسرا ون ڈے ان کے کیرئیر کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا۔

انہوں نے ایک ٹی ٹوئٹی میچ میں بھی شرکت کی۔ کرکٹ کی تاریخ میں فل ہیوز سے قبل بھی کھیل کے دوران گیند لگنے سے6 کھلاڑیوں کی اموات بھی ہوچکی ہیں۔جن میں دو پاکستانی کرکٹر بھی شامل ہیں۔رمن لامبا ایک ہندوستانی بلے باز تھے جنہوں نے ہندوستان کے لئے چار ٹیسٹ اور 32 ون ڈے میچ کھیلے تھے۔جو فیلڈنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ وہ فارورڈ شارٹ لیگ پر فیلڈنگ کر رہے تھے، جب محراب حسین کی طرف سے کھیلے گئے ایک شاٹ میں گیند سیدھا ان کے سر پر لگی۔

رمن کی چوٹ دیکھنے میں معمولی لگی لیکن انٹرنل انجری ہونے کی وجہ وہ کوما میں چلے گئے تھے اور وینٹی لیٹر پر تین دنوں تک رہنے کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔17 دسمبر 2013 کے دن ایک اور کرکٹر کی میدان پر بال لگنے کی وجہ فوری طور موت ہو گئی تھی۔ پاکستان کے 22 سال کے نوجوان کرکٹر ذوالفقار بھٹی کی چھاتی پر گیند لگنے سے موت ہو گئی تھی۔پاکستان کے ہی ایک اور کرکٹر عبدالعزیز کی بھی موت گیند لگنے سے ہوئی تھی۔

عزیز اس وقت 17 سال کے تھے جب وہ چھاتی پر گیند لگنے کے بعد جانبرنہیں ہوسکے تھے لیکن اس معاملے میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ عزیز کی موت آف بریک گیندلگنے سے ہوئی تھی۔ڈیرین رینڈول ساوٴتھ افریقہ کے وکٹ بلے باز تھے، جن کی موت بھی میدان پر گیند لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی،اْن کی موت 27 اکتوبر، 2013 کو اس وقت ہوئی جب ایک تیز گیند ان کے سر پر آ کر لگی۔

کھیل کے دوران دو انگلش پلیئرز جارج سمرج اور الاعیان پھولے کی جان بھی میچ کے دوران گیند لگنے سے گئی تھی۔ دنیا میں سات کھلاڑی ایسے ہیں جن کا انتقال25 سال یا اس سے کم عمر میں ہوا۔ بنگلہ دیش کے منظور الاسلام رانا جان کی بازی ہارنے والے کم عمر ترین کرکٹر تھے۔ سولہ مارچ 2007 کو روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہونے والے منظور الاسلام کی عمر محض 22س اور 316ن تھی۔

انہوں نے 6 ٹیسٹ میں شرکت کی۔آٹھ ٹیسٹ کھیلنے والے آسٹریلیا کے آرچی جیکسن کا انتقال ٹی بی کے مرض میں ہوا۔ ان کی عمر23 برس164 دن تھی۔ انگلینڈ کے بین ہولیوک 24 برس اور132 دن کی عمر میں ایک کار حادثے کا شکار ہوگئے۔ وہ صرف دو ٹیسٹ ہی کھیل سکے تھے۔چار ٹیسٹ کھیلنے والے ویسٹ انڈیز کے سائرل کرسٹیانی کم عمری میں مرنے والے چوتھے ٹیسٹ کرکٹر تھے۔ چوبیس برس کی عمر میں ان کا انتقال ملیریا کے باعث ہوا۔

اس فہرست میں پانچواں نمبر زمبابوے کے ٹریور ماڈونڈو کا ہے۔ یہ بھی ملیریا کے مرض کا شکار ہو کر 24 برس اور دو سو ایک دن کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ وہ صرف تین ٹیسٹ کھیل سکے۔ ایک ٹیسٹ کھیلنے والے جنوبی افریقہ کے گز کیمپس کے موت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ وہ 24برس 288دن کی عمر میں انتقال کر گئے۔ فلپ ہیوز نے 26 ٹیسٹ کھیلے اور انتقال کے وقت ان کی عمر 25 برس اور362 دن تھی۔

عالمی کرکٹ میں فل ہیوز کی موت نے کرکٹ میں نئے مباحثہ کو جنم بھی دیدیا ہے۔ بعض کا خیال کہ باونسرز بیٹسمین کیلئے خطرناک ہے جبکہ بعض نے اسے کھیل کی خوبصورتی قرار دیدیا ۔ ویسٹ انڈیز کے سابق بیٹسمین برائن لارا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سر پرباونسر لگنے سے شدید چوٹیں لگتی ہیں جس سے پلیئرز کی یاداشت بری طرح متاثر ہوتی ہیں لیکن باونسر فاسٹ بولر کا خاص ہتھیا رہے۔

میرے خیال میں باونسر کو کرکٹ سے ختم کرنے سے کھیل کی خوبصورتی ماند پڑ جائیگی۔سابق آسٹریلوی سپنرشین وارن نے کہا کہ کھیل میں باونسر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔باونسر فاسٹ بولر کی ایک خاص حکمت عملی ہے جس سے بیٹسمین کو دباو میں رکھا جاسکتا ہے۔نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈ میک کولم نے کھیل میں کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی وقت انجری کا شکار ہوسکتا ہے اور اس طرح کے حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن باونسر کوکھیل سے ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

فل ہیوزکی حادثاتی موت نے کرکٹ ہیلمٹ سے سر کے تحفظ پر کئی بڑے سوال کھڑے کردیئے ۔ آسٹریلین کرکٹر گراہم یلپ پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے 17 مارچ 1978 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنی موٹر سائیکل ہیلمٹ کو بطور کرکٹ ہیلمٹ استعمال کیا۔ تیز سے تیز تر ہوتے کرکٹ کے کھیل کے نتیجے میں کھلاڑیوں کی انجریز بڑھنے لگیں توہیلمٹس کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا۔

یہ مختلف سٹائل کی ہیلمٹس پلاسٹک اور سٹیل سے بنتی ہیں جن میں وقت گزرنے کے ساتھ کاربن فائبر اور ٹیٹینئیم کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے تاکہ ہیلمٹ ہلکی رہے اور گیند لگنے کی صورت میں سر کو کشن فراہم کرے۔ آسٹریلوی کھلاڑی فل ہیوز نے زخمی ہوتے وقت برطانیہ کی میسوری کمپنی کی ٹیسٹ ہیملٹ پہن رکھی تھی جس میں گردن کی حفاظت نہ ہونے کے برابر تھی۔ کمپنی کے مطابق ہیوز کو ”نیو ویژن“ ہیلمٹ کے جدید ورڑن کا استعمال کرنا چاہیے تھا مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ کرکٹرز جدید ماڈلز کی ہیلمٹس کا استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور روایتی طرز کی ہیلمٹس پہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں جس سے کرکٹر کی ہیڈ انجریزمیں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments