پرجوش شاہین آج کوارٹرفائنل میں فیورٹ کینگروز کے مدمقابل

Purjosh Shaheen Aaj Favorite Kangroos K Made E Muqabil

ماہرین نے آسٹریلوی فتح کی پیشگوئی کردی، مصباح الیون تمام پیشگوئی غلط ثابت کرنے کیلئے پر عزم۔۔۔۔ مصباح اور آفریدی ورلڈ کے بعد ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں، شکست کی صورت میں کیرئیر بھی ختم ہوجائیگا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعہ 20 مارچ 2015

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ میزبانی میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ میگا ایونٹ میں آج تیسرا کوارٹر فائنل ہے، جہاں پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا۔ میچ ایڈیلیڈ اول میں کھیلا جائے گا ۔ گرین شرٹس کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے آج کے میچ میں جیت کو اپنا ہدف بنا کر میدان میں اترنا ہے۔ کپتان گرین شرٹس مصباح الحق نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ ٹرافی لے کر جائیں گے، جو جیتنے آتے ہیں وہ کسی گیم کا پریشر نہیں لیتے۔ اس سے پہلے میگا ایونٹ میں ٹیم پاکستان اپنے گروپ میں 8پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ آسٹریلیا نے 9پوائنٹس کے ساتھ اپنے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

 پاکستانی کرکٹرز پر اعتما دہیں کہ ان کا جذبہ انہیں ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچا دے گا۔ تاہم پاکستان نے گذشتہ دس سال سے آسٹریلیا کے خلاف اس کی سر زمین پر کوئی ون ڈے انٹرنیشنل نہیں جیتا ہے۔

(جاری ہے)

30جنوری2005و پاکستان نے آسٹریلیا کو پرتھ کے مقام پر تین وکٹ سے شکست دی تھی۔ اس کے بعد آسٹریلیا نے ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کے خلاف سات لگاتار میچ جیتے ہیں جس میں 2010کی سیریز میں پانچ صفر کا وائٹ واش بھی شامل ہے۔کوارٹر فائنل میں اصل مقابلہ آسٹریلیا کی مضبوط بیٹنگ اور پاکستانی بولنگ کے درمیان ہے۔ عرفان کے ان فٹ ہونے کے بعد وہاب ریاض ،راحت علی احسان عادل اور سہیل خان کے ساتھ لیگ سپنر شاہد آفریدی اور آسٹریلوی بیٹنگ کے سامنے امتحان سے گزریں گے۔ پاکستان یاسر شاہ کو وکٹ دیکھ کر کھلانا چاہتا ہے لیکن وکٹ میں سپین بولنگ کے لئے مدد نہیں ہے۔ اس لئے مصباح پیس بولنگ سے اٹیک کریں گے۔ غیر مستقل مزاج کارکردگی دکھانے والی پاکستانی بیٹنگ کو آسٹریلیا کے فاسٹ بولروں مچل جانسن ،مچل سٹارک اور جیمز فالکنر کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو منوانا ہے۔ کوارٹر فائنل کے لئے تیا ر کی گئی وکٹ پر گھاس ہلکی گھاس موجود ہے۔ ایڈیلیڈ میں تین ڈراپ ان پچ بچھائی گئی ہیں۔ ان پر پیس بولنگ کے لئے زیادہ مدد نہیں ہے۔ مصباح کہتے ہیں کہ ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں۔ اب صرف جیت کا آپشن موجود ہے ، تمام ٹیموں کو ہرانا ہوگا۔ شکست کی صورت میں گھر کے لئے فلائی کرنا ہوگا۔ میزبان آسٹریلیا کے پاس ون ڈے کرکٹ کے کئی شہرہ آفاق کھلاڑی موجود ہیں۔ پاکستان نے ابتدائی دو میچوں میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد مسلسل چار میچ جیت کر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔ تاہم اسے اب اپنے خطرناک ہتھیار اور دنیا کے طویل قامت فاسٹ بولر محمد عرفان کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔ مصباح الحق اور شاہد آفریدی اس ٹورنامنٹ کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس لئے دونوں اپنے ممکنہ آخری میچ میں یادگار کارکردگی دکھانے کے لئے پرعزم ہیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم بھی ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست نہیں ہے۔ اسے گروپ میچ میں نیوزی لینڈ نے آکلینڈ میں ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔ پاکستان کو اس نے رواں برس عرب امارات میں ون ڈے سیریز میں تین صفر سے ہرایا تھا۔ پاکستان 1992کی ورلڈ کپ چیمپئن ہے، لیکن وہ اسی ٹورنامنٹ میں ایڈیلیڈ اوول میں74رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی جو آج بھی پاکستان کا ورلڈ کپ میں سب سے کم سکور ہے۔ تاہم انگلینڈ کے خلاف بارش کی وجہ سے ملنے والے ایک پوائنٹ نے پاکستان کو ورلڈ کپ میں فاتح بنوادیا۔ آسٹریلیا چار بار ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان1999میں لارڈز میں ورلڈ کپ فائنل ہوا تھا۔ وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم مایوس کن انداز میں132رنز پر اآؤٹ ہوکرفائنل میچ 8وکٹ سے ہار گئی تھی۔آ ج موقع ہے کہ قومی ٹیم تمام بدلے چکا دے تاہم تبصروں نگاروں کا خیال ہے کہ قومی ٹیم اس میچ میں کمزور ہے اور آسٹریلیا ہی فیورٹ ہے، آسٹریلیا فیورٹ ضرور ہے لیکن اسے ہرایا جاسکتا ہے اور اگر قومی ٹیم اس میچ میں کامیاب ہوگئی تو سیمی فائنل میں بھارت سے ٹاکرا ہوگا۔ آج کا میچ مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments