قومی ٹیم کے دورہ زمبابوے کا شیڈول تیار، ٹیم 22ستمبر کو ہرارے روانہ ہوگی

Qoum Team K Dora Zimbabwe Ka Schedule Tiyar

پی سی بی نے اندورنی معاملات سلجھانے شروع کردئیے، سینٹرل کنٹریکٹ مسئلہ حل کرلیا۔۔۔ سپرلیگ کیلئے پی سی بی بدستور تذذب کا شکار، لیگ کہاں ہوگی قطر یا دبئی، فیصلہ تاحال نہ ہوسکا

ہفتہ اگست

Qoum Team K Dora Zimbabwe Ka Schedule Tiyar

فرخ عطاء بٹ :

سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز جیتنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں اور مکمل آرام کیلئے دو ہفتوں تک ہرطرح کی کرکٹ سرگرمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رکھا تاکہ کھلاڑی دوبارہ تروتازہ ہوجائیں۔ اس کے باوجود قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے آرمی کی جانب سے 14اگست کو کو اہتمام کیے گئے فیسٹیول کرکٹ میچ میں شرکت کی اور بھرپور جذبے کے ساتھ شرکت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی دورہ زمبابوے اور انگلینڈ کیخلاف یواے ای سیریز کیلئے تیار ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ زمبابوے کیلئے شیڈول کو بھی حتمی شکل دیدی ہے جہاں قومی ٹیم زمبابوے جاکر تین ون ڈے اور دو ٹونٹی میچزمیں شرکت کریگی۔ قومی کرکٹ ٹیم زمبابوے کے دورے پر 22ستمبر کو روانہ ہو گی۔

(جاری ہے)

سیریز میں دو ٹی 20 اور تین ایک روزہ میچز کھیلے جائیں گے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم زمبابوے کے دورے پر بائیس ستمبر کو روانہ ہو گی۔ سیریز میں دو ٹی 20 اور تین ایک روزہ میچز کھیلے جائیں گے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ زمبابوے کے مجوزہ شیڈول کے مطابق قومی ٹیم بائیس ستمبر کی شب زمبابوے کے لیئے روانہ ہو گی۔ سیریز کا آغاز ٹی 20 میچز سے ہو گا۔ شیڈول کے مطابق ٹی 20 میچز کے لیئے 27 اور 29 ستمبر کی تاریخیں تجویز کی گئی ہیں ،، جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے میچز یکم ، تین اور پانچ اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔ون ڈے ٹیم میں شامل ٹیسٹ سکواڈ کے کھلاڑی ہرارے سے متحدہ عرب امارات آئیں گے جہاں وہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں حصہ لینے والے دوسرے کھلاڑیوں کو جوائن کریں گے۔ دورہ زمبابوے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کیخلاف اہم سیریز کیلئے تیاری کی مدد ملے گی جبکہ اس دورہ میں قومی ٹیم نئے کھلاڑیوں کو بھی آزمائے گی کیونکہ انگلینڈ کیخلاف ہوم سیریز میں پاکستانی ٹیم کو ٹف ٹائم کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انگلش ٹیم نے رواں ایشز سیریز میں 3-1سے واضح برتری حاصل کررکھی ہے جس کی وجہ سے ان کا اعتماد پاکستانی ٹیم کے مقابلے میں کہیں بلند ہوگا لیکن دو سال پہلے ہونیوالی سیریز میں پاکستان نے انگلینڈ کو وائٹ واش کی بدترین شکست سے دوچار کیا تھا جس سے پاکستانی ٹیم کو بھی انگلینڈ کیخلاف نفسیاتی برتری حاصل ہوگی اور یقیناً پاک انگلنیڈ سیریز ایک بہترین اور دلچسپ سیریز ہوگی تاہم اس سے قبل زمبابوے کیخلاف بھی شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ زمبابوے نے حالیہ ہوم سیریز میں نیوزی لینڈ کوٹف ٹائم دیا ، کیویز کیخلاف اچھی کارکردگی سے زمبابوین ٹیم پاکستان کیخلاف بھی مئوثر کرکٹ کھیلنے کیلئے پرعزم دکھائی دے رہی ہے۔

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے اندورنی معاملات بھی سلجھانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ گزشتہ 45دن سے پی سی بی اور قومی کرکٹرز کے مابین سینٹرل کنٹریکٹ کے تنازع پر سرد جنگ چل رہی تھی جو اب صلح کے نتیجہ پر اختتام کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی نئی شقوں پر راضی کرنے کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ون ڈے ٹیم کے قائد اظہر علی کی معاونت حاصل کی جو مفید ثابت ہوئی اور پی سی بی اور قومی کرکٹرزکے درمیان جاری تنازعہ اختتام کو آن پہنچا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ وننگ بونس ختم کر کے سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم دگنی کرنے کی پیش کش کردی ہے، اعلان آئندہ ہفتے میں ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان سینٹرل کنٹریکٹ پر بات چیت اگرچہ آخری مرحلے میں ہے لیکن اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی طے نہیں پایا۔ کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے وننگ بونس ختم کرنے کی ضد میں ہے لیکن بدلے میں جن مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہیں وہ بھی آنکھیں کھول دینے کے لیئے کافی ہے۔ پی سی بی نے قومی کرکٹرز کی سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم کو دوگنا کرنے کی تجویز دی ہے جس پر بیشتر کھلاڑی راضی بھی ہوچکے ہیں۔ سینٹرل کنٹریکٹ طے پا گیا تو اے کیٹگری کے کھلاڑی کو ماہانہ 9لاکھ روپے ، بی کیٹگری والے کو ساڑھے 6 ، سی کیٹگری کو ساڑھے 3 اور ڈی کیٹگری میں شامل کرکٹرز کو 2 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ ان کی ماہانہ تنخواہیں بڑھائی جائیں اور اس سلسلے میں کھلاڑیوں نے کرکٹ بورڈ کو جو مطالبے بھیجے اس میں واضح الفاظ میں یہ شکوہ کیا گیا دنیا کے دیگر ممالک کے کھلاڑی پاکستانی کرکٹرز کے مقابلے میں کم میچ فیس کی مدمیں رقم حاصل کرتے ہیں جس پر کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچ فیس میں بھی پچاس فیصد اضافہ کا عندیہ بھی دیدیا ہے۔ اس سے پہلے سنچری سکور کرنے والے بلے باز اور پانچ وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کو اضافی رقم ملتی تھی جبکہ اپنے سے بہتر رینکنگ کی ٹیم کو ہرانے پر بھی ٹیم کو اضافی رقم دی جاتی ہے جو اب نہیں ملے گی لیکن چیئرمین پی سی بی کی صوبداید ہے کہ وہ اپنے طور پر انعام کا اعلان کر سکتے ہیں۔ 

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے انعقاد کے لئے قطر کرکٹ ایسوسی ایشن سے دوبارہ رابطہ کیا ہے۔پی سی بی نے پویلین اورمیڈیا سینٹر کواپ گریڈ کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔پی سی بی نے امارات کرکٹ ایسوسی ایشن سے بھی رابطہ کر کے پی ایس ایل کے انعقاد کے لئے حتمی جواب مانگ لیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے قطر کرکٹ حکام کوخط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سٹیڈیم میں بین الاقوامی سطح کی سہولتیں ناکافی ہیں جن کومکمل کیا جائے۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ کی جانب سے قطر حکام کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی قطر میں سپرلیگ کرانے کا خواہشمند ضرور ہے تاہم سٹیڈیم میں میڈیا سینٹر کو کشادہ بنایا جائے جبکہ کھلاڑیوں کیلئے پویلین کو بھی مزید بہترکیا جائے تاکہ انٹرنیشنل سٹارز سے مزین سپرلیگ کرانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ کرکٹ بورڈ نے ایمریٹس کرکٹ بورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے جہاں ان سے حتمی جواب مانگا گیا ہے۔کہ آیا سپرلیگ کیلئے دبئی سپورٹس سٹی دستیاب ہوگا یا نہیں، پی سی بی حکام نے ایمریٹس کرکٹ بورڈ کو واضح کیا ہے کہ ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں لیگ کرانے کا پی سی بی کو کوئی فائدہ نہیں ،اگر دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم نہ ملا تو سپر لیگ کو متحدہ عرب امارات سے منتقل کردیا جائیگا۔ پی سی بی کو اب بھی امید ہے کہ یواے ای حکام مایوس نہیں کرینگے کیونکہ پی سی بی آئندہ برس ٹونٹی 20 لیگ کرانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہے مگریہ بھی سچ ہے کہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں، اسے سابق کرکٹرز کی ماسٹرز لیگ کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں تین وینیوز حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، اسی لیے قطر سے رابطہ کیا گیا مگر وہاں سہولتوں کی کمی ہے، بورڈ نے قطر کرکٹ ایسوسی ایشن کو خط لکھ کر میڈیا سینٹر کی تعمیر اور پویلینز کو کشادہ کرنے کا کہا مگر وہ اپنی جانب سے رقم خرچ کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتا، کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی پی سی بی حکام قطر میں ایونٹ کا انعقاد نہیں چاہتے، اسی لیے ایک بار پھر یو اے ای کرکٹ حکام سے رابطہ کر لیا گیا ہے، ان سے کہا گیا کہ لیگ کے لیے دبئی سپورٹس سٹی ہی دے دیں۔ماسٹرز لیگ کا انعقاد تو شارجہ اور ابوظبی میں بھی ہو سکتا ہے، پاکستان نے اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر بھی کوششیں شروع کر دی ہیں، اماراتی حکام نے مشورہ دیا ہے کہ پی سی بی ازخود ماسٹرز لیگ کے منتظمین سے درخواست کرے، مگر ذرائع نے بتایاکہ ماضی میں اس قسم کی کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا تھا،مالی خسارے کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے ماسٹرز ایونٹ کے منتظمین کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے، ان کے نزدیک دبئی اہم ترین وینیو ہے وہاں میچز نہ کرانا درست نہیں ہو گا۔ حالیہ اقدامات کے باوجود بھی اگر بات نہ بنی تو پاکستان کو مجبوراً ایونٹ کا انعقاد دوحا قطر میں ہی کرنا ہوگا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments