شاہد آفریدی کی ناراضگی درست ہے؟

Shahid Afridi Ki Narazgi Durust Hai

شاہد آفریدی وہی فصل کاٹ رہے ہیں جس کے بیج انہوں نے دوسروں کیخلاف بوئے تھے۔۔۔۔ نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستانی ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ٹیم میں موجود اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ محمد حفیظ واقعی اَن فٹ تھے یا گزشتہ میچ میں ساتویں نمبر پر بھیجے جانے کے باعث انہوں نے ”احتجاجاً“ خود کو میچ سے دستبردار کروایا؟

Farhan Nisar فرحان نثار جمعہ 25 مارچ 2016

نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستانی ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ٹیم میں موجود اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ محمد حفیظ واقعی اَن فٹ تھے یا گزشتہ میچ میں ساتویں نمبر پر بھیجے جانے کے باعث انہوں نے ”احتجاجاً“ خود کو میچ سے دستبردار کروایا؟کیا احمد شہزاد اور عمر اکمل نے جان بوجھ کر سست بیٹنگ کرتے ہوئے گرین شرٹس کو شکست کے گڑھے میں دھکیلنے کی کوشش کی؟شعیب ملک کی موجودگی میں آخری پانچ اوورز کے دوران ایک بھی باوٴنڈری کیوں نہ لگ سکی؟ اور پہلے چار اوورز میں ففٹی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم اگلے 16اوورز میں آٹھ کی اوسط سے مطلوبہ ہدف تک رسائی حاصل کیوں نہ کرسکی؟یہ تمام سوال ایسے ہیں جن کے جواب وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ملنا شروع ہوجائیں گے کیونکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی یہ ”پریکٹس“ کی جاتی رہی ہے جو موہالی کے میدان پر دکھائی دی۔

(جاری ہے)

شاہد آفریدی اپنے کیرئیر کا آخری ایونٹ کھیل رہے ہیں اور فاتح کپتان کی حیثیت سے کیرئیر کا اختتام کرنا ایک فطری خواہش ہے جس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ بیس سالہ کیرئیر میں شاہد آفریدی ایک مرتبہ بھی بطور کپتان کوئی بڑا ٹائٹل نہیں جیت سکے اس لیے ورلڈ ٹی20کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کیلئے وہ پرعزم تھے مگر میگا ایونٹ کے دوران انہیں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا جبکہ ان کی ٹیم اپنی صلاحیت سے کم پرفارم کررہی ہے بلکہ اس ٹیم کیلئے اگر ”انڈر پرفارم“ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو بے جانہ ہوگا۔

شاہد آفریدی کا ٹیم کی کارکردگی پرپریشان ہونا اور پھر ناراض ہونا بھی فطری عمل ہے مگر اپنے ساتھیوں سے اظہار ناراضگی کرنے سے قبل شاہد آفریدی کو صرف اتنا سوچ لینا چاہیے کہ کیرئیر کے آخری کنارے پر کھڑے ”لالہ“ کو وہی فصل کاٹنا پڑرہی ہے جس کا بیج انہوں نے کئی برس پہلے بویا تھا اور فوقتا فوقتا وہ اسے پانی بھی لگاتے رہے۔ شاہد آفریدی کی انٹرنیشنل کرکٹ میں آمد دھماکہ خیز انداز میں ہوئی مگر 1998ء میں ان کی بیٹنگ میں قدرے ٹھہراوٴ پیدا ہوا اور 1999ء کے آغاز میں انہوں نے مشکل کنڈیشنز میں بھارت میں ٹیسٹ سنچری اسکور کرڈالی تو اس کا کریڈٹ کوچ جاوید میانداد کو جاتا تھا جنہوں نے ”بوم بوم“ کی بیٹنگ میں بہتری پیدا کی لیکن 1999ء کے ورلڈ کپ سے قبل جب سینئرز نے جاوید میانداد کو کوچ سے ہٹانے کی ٹھان لی تو اُس وقت شاہد آفریدی بھی اپنے سینئرز کیساتھ اُس کوچ کیخلاف کھڑا تھا جس نے اُس کی بیٹنگ میں بہتری لانے کی کوششیں کیں۔

1999ء کے عالمی کپ میں شاہد آفریدی بری طرح ناکام ہوا تو کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آفریدی کو مکافات عمل کا نشانہ بننا پڑا ہے! 2005ء کے دورہ ویسٹ انڈیز پر برج ٹاوٴن ٹیسٹ کیلئے جب کپتان انضمام الحق دستیاب نہیں تھے تو نائب کپتان یونس خان کپتانی کررہے تھے اور چوتھی اننگز میں جب پاکستان کو 573رنز کا پہاڑ جیسا ہدف ملا تو کپتان نے شاہد آفریدی سے درخواست کی وہ اننگز کا آغاز کریں جو پہلی اننگز میں بھی اوپننگ کرچکے تھے مگر شاہد آفریدی نے صاف انکار کرتے ہوئے ون ڈاوٴن بیٹسمین یاسر حمید کو پیڈ کرنے کیلئے کہہ دیا ۔

یونس خان کا یہ مطالبہ غلط نہیں تھا کیونکہ آفریدی اس ٹور سے قبل بھارت میں اوپننگ کرتے ہوئے چار اننگز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرچکے تھے۔ اگرچہ اس اننگز میں آفریدی نے چھٹے نمبر پر کھیلتے ہوئے برق رفتار سنچری اسکور کی مگر اس میچ میں کپتان کی بات ماننے سے انکار کرکے شاہد آفرید ی نے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی تھی جس کا نتیجہ پاکستان کی شکست کی صورت میں نکلا۔

2007ء کے ورلڈ کپ کے بعد جب یونس خان نے کپتانی لینے سے انکار کیا تو کپتان بننے کیلئے جن سینئرز کی رال ٹپک رہی تھی ان میں شاہد آفریدی بھی شامل تھے اور جب شعیب ملک کو کپتان بنایا گیا تو اسے ناکام کرنے والے کھلاڑیوں کون تھے کیا یہ بھی مجھے بتانے کی ضرورت ہے؟ ایسے واقعات کی تعداد کم نہیں ہے جب کپتان کی ناکامی میں اہم ترین کھلاڑیوں نے اپنا کردار نبھایا اور شاہد آفریدی خود متعدد مرتبہ اس منصوبہ بندی کا حصہ رہے ہیں اس لیے اگر آج کھلاڑی انہیں ناکام کرنے کیلئے انڈر پرفارم کررہے ہیں تو اس پر آنسو بہانے کا کچھ فائدہ نہیں ہے کیونکہ شاہد آفریدی وہی فصل کاٹ رہے ہیں جس کے بیج انہوں نے دوسروں کیخلاف بوئے تھے۔

آج جو کھلاڑی شاہد آفریدی کی کپتانی میں پاکستان کو کامیابی سے دور رکھنے کی کوششیں کررہے ہیں انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ کچھ برس بعد ان پر بھی یہ وقت آسکتا ہے اور اس کی زندہ مثال شاہد آفریدی کی شکل میں ان کے سامنے موجود ہے!!

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments