سپین اگلے چار سال کیلئے عالمی فٹبال کا حکمران بن گیا

Spain Become World Champion

ورلڈکپ کے فائنل میں ہالینڈ کو شکست ،میڈرڈ میں جشن اور ایمسٹرڈیم میں سوگ طاری یورو گوئے کے ڈیاگو فورلان ٹورنامنٹ کے بہترین پلیئر، جرمن تھامس ملرکیلئے ٹاپ سکوررکا ایوارڈ میگا ایونٹ کا رنگینیوں، اداسیوں ،خوشیوں اور آنسوؤں کے ساتھ اختتام ،شکیرا کی آخری پرفارمنس نے سارے غم غلط کردئیے

پیر جولائی

Spain Become World Champion
اعجازوسیم باکھری: فیفا فٹبال ورلڈکپ 2010ء اپنی تمام تررنگینیوں، اداسیوں ،خوشیوں اور آنسوؤں کے ساتھ اختتام پذیرہوگیا ہے۔ فیورٹ سپین نے مضبوط حریف ہالینڈ کو طویل اور گھمسان کی جنگ کے بعد ایک صفرسے شکست دیکر اگلے چار سال کیلئے فٹبال کے نئے حکمران کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔جنوبی افریقی شہرجوہانسبرگ کے ساکر سٹی سٹیڈیم میں 85ہزار شائقین کی موجودگی میں سپین نے تاریخ میں پہلی بار فٹبال ورلڈکپ کی ٹرافی پر اپنا قبضہ جمایا۔

سپینش ٹیم 1930ء سے لیکر 2010ء تک صرف ایک بار ورلڈکپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئی اوراس نے چیمپئن بن کر ثابت کردیا کہ وہ نہ صرف یورپ کی بہترین ٹیم ہے بلکہ کراہ ارض کی بھی بہترین ٹیم ہے۔ 1974ء کے بعد پہلی بار کوئی یورو چیمپئن ٹیم عالمی چیمپئن بنی، آخری بار جرمنی نے یہ اعزاز حاصل کیاجبکہ حسن اتفاق دیکھیئے کہ جرمنی نے بھی فائنل میں ہالینڈ کو شکست دیکر یورپیئن چیمپئن بننے کے ساتھ ساتھ ورلڈ چیمپئن بننے کا کارنامہ سرانجام دیا اور اس بارسپینش ٹیم نے بھی ہالینڈ کو ہراکر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

(جاری ہے)

فائنل میچ میں شائقین کی دلچسپی دیدنی تھی اور فائنل کھیلنے والے دونوں ممالک کے شہریوں نے تو اپنا طرز زندگی ہی بدل لیا تھا اور ٹرافی کا فیصلہ ہوتے ہی سپین میں جشن اور ہالینڈ میں سوگ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ سپینش عوام پوری رات سڑکوں پر نچاتی رہی اور تاریخ میں پہلی بار چیمپئن بننے کا جشن بھرپور انداز میں منایاجارہا ہے۔ میچ کے مقررہ ٹائم تک دونوں ٹیمیں کوئی بھی گول نہ کرسکیں اور پھرایکسٹرا ٹائم کے پہلے حصے میں بھی گول سکور نہ ہوسکا تاہم پنالٹی شوٹ آؤٹ سے صرف چار منٹ قبل فرینڈو ٹورس کے شاندار پاس پر انڈریس انیسٹا نے گیند کو جال میں پہنچا کر تاریخ کا دھارا بدل ڈالا۔

فائنل میچ میں دونوں ٹیموں کے بارہ کھلاڑیوں کو ییلو کارڈ دکھائے گئے جبکہ میچ کے آخری لمحات میں ڈچ ٹیم کو ایک ریڈ کارڈ کا خسارہ بھی برداشت کرنا پڑا،سپین ورلڈکپ جیتنے کے بعد دنیا کا آٹھواں ملک بن گیا ہے جس نے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیااور سپینش ٹیم اس اعزاز کی مکمل طور پر حقدار بھی تھی کیونکہ پورے ٹورنامنٹ میں جس طرح سپینش ٹیم نے صفرسے سٹارٹ لیکر عروج تک کا سفر کیا وہ مکمل طور پر چیمپئن بننے کے حقدار تھے لیکن ہالینڈ کی ٹیم کی بھی کارکردگی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

ڈچ ٹیم پورے ٹورنامنٹ صرف ایک فائنل میچ ہاری جبکہ برازیل جیسی بڑی ٹیم کو ورلڈکپ سے آؤٹ کرنے کی سہرا بھی ہالینڈ کو جاتا ہے لیکن فائنل میں سلطان وہی ہوتا ہے جو فاتح کے روپ میں میدان سے باہر نکلتا ہے اور یہ کارنامہ سپین نے سرانجام دیا۔ ساؤتھ افریقہ میں ہونیوالا فٹبال کا انیسواں عالمی میلہ اپنے اختتام کوپہنچ گیا ہے ۔ایک ماہ تک جاری رہنے والے ایونٹ نے دنیا بھرکے فٹبال شائقین کو اپنے سحرمیں مبتلا کیے رکھا اور بالخصوص اُن ممالک کے شائقین ٹورنامنٹ کے دوران روتے اور خوش ہوتے رہے جن کی ٹیمیں ایونٹ میں شریک تھیں لیکن اس میگاایونٹ نے کراہ ارض پر ہرفٹبال شائق کو اپنے سحرمیں جکڑے رکھا اور شائقین کو ایونٹ میں تاریخی مقابلے دیکھنے کو ملے جن کا تذکرہ اگلے کئی برس تک ہوتا رہے گا۔

گوکہ برازیل اور ارجنٹائن کی ٹیمیں کوارٹرفائنل میں شکست کھاگئی لیکن ایونٹ کے آغاز میں جس قوت کے ساتھ ان ٹیموں نے اپنی مہم جوئی شروع کی وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے لیکن دونوں ٹیموں کا کوارٹرفائنل سے انخلاء بھی شائقین کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ہالینڈ کے ہاتھوں برازیل اور جرمنی کے ہاتھوں ارجنٹائن کی شکست ہیڈلائن سٹوری کے طور پر نشرہوئی تو جرمنی کی آکٹوپس کی پیشگوئی کے بعد سپین کے ہاتھوں شکست نے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا کیونکہ جرمن ٹیم ارجنٹائن کو شکست دینے کے بعد عالمی کپ کیلئے ہارٹ فیورٹ سمجھی جارہی تھی لیکن سیمی فائنل میں سپین نے جرمن قوم کے آرمان خاک میں ملا دئیے۔

فائنل میچ کیلئے بھی آکٹوپس نے سپینش ٹیم کی کامیابی کی پیشگوئی کی تھی جوکہ سچ ثابت ہوئی اور اب آکٹوپس بابا کا دور شروع ہوگیا ہے اور دنیا اب آکٹوپس کی پیشگوئیوں کی منتظر رہنے کے ساتھ ساتھ ان پر اندھا یقین بھی کریگی لیکن سچ تو یہ ہے کہ آنے والے کل کی خبر صرف اور صرف خدا وند کریم کوہے لیکن عصر حاضر میں لوگ پیشگوئیوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور جب آکٹوپس کی طرح پیشگوئیاں سچ ثابت ہوتی ہیں تو لوگوں کا یقین مزید بڑھ جاتا ہے ۔

ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے عالمی شہرت حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں سپین کے ڈیوڈ ویا ، ہالینڈ کے ویسلے سنائیڈر، جرمنی کے تھامس ملر اور یوروگوئے کے ڈیاگوفولان نے ٹورنامنٹ میں پانچ پانچ گول کرکے عالم گیر شہرت حاصل کی جبکہ جرمنی کے کلوزے اور شوئنز ٹائیگر،گھانا کے گیان،ہالینڈ کے روبن اور سپین کے فرینڈوٹورس نے ایونٹ میں شاندار کھیل پیش کرکے اپنی ٹیموں کو فتوحات دلائیں۔

ورلڈکپ کے فائنل کے فوری بعد فیفا نے پرفارمنس ایواڈر کا بھی اعلان کردیا ۔یوروگوئے کے ڈیاگو فورلان کو ٹورنامنٹ کا بہترین سٹرائیکر قرار دیا گیا اور گولڈن بال اُن کے حصے میں آئی جبکہ جرمنی کے تھامس ملر کو ٹورنامنٹ کا ٹاپ سکورر ہونے کے ساتھ ساتھ ینگ پلیئر کا ایوارڈبھی دیا گیا ۔حالیہ ورلڈکپ جن بڑے کھلاڑیوں کیلئے بھیانک خواب ثابت ہوا اُن میں پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، انگلینڈ کے وائن رونی ، برازیلین سٹار کاکا،فرانس کے تھری ہنری اور ارجنٹائن کے سٹار لیوئنل میسی کے نام نمایاں ہیں۔

یہ کھلاڑی دنیا بھر میں عالم گیر شہرت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ فین فالوئنگ کے مالک ہیں لیکن حالیہ ایونٹ میں اپنی ٹیموں کیلئے کچھ بھی نہ کرسکے ۔ٹورنامنٹ کے آغاز سے انگلینڈ، برازیل ، ارجنٹائن اور پرتگال کو فیورٹ قرار دیا جارہا تھا لیکن یہ چاروں ٹیمیں سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہ کرسکیں ۔ ایونٹ میں سب سے بری ترین کارکردگی کا مظاہرہ 2006ء کے ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے والی دفاعی چیمپئن اٹلی اور رنراپ فرانس نے کیا اور یہ دونوں ٹیمیں پہلے راؤنڈ سے باہر ہوگئیں۔

ورلڈکپ میں گھانا ، یورو گوئے ، پیراگوئے ، جاپان ،ہالینڈ،سلواکیہ اور سوئٹرزلینڈ کی ٹیموں نے توقعات سے بڑھ کر کھیل پیش کیا جبکہ پہلی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم ایونٹ کی واحد ٹیم تھی جسے کسی میچ میں شکست نہیں ہوئی ، نیوزی لینڈ کے تینوں میچ برابری پر اختتام پذیر ہوئے۔مجموعی طور پر حالیہ ورلڈکپ ا پ سیٹ کی وجہ سے چھوٹی ٹیموں کے نام رہا کیونکہ بلند و بانگ دعوئے کرنے والی ٹیمیں بری طرح پٹ گئیں۔

فٹبال کا اگلا عالمی میلہ 2014ء میں برازیل میں ہوگا جہاں میزبان ٹیم عالمی چیمپئن کے ہمراہ ایک بار پھر فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اترے گی اور سپین کے پاس عالمی چیمپئن کے اعزاز اور حیثیت کو بھی انجوائے کرنے کیلئے صرف چار سال ہی ہیں کیونکہ یہ فٹبال ورلڈکپ کی تاریخ ہے کہ دفاعی چیمپئن ٹیم اگلے ٹورنامنٹ میں ٹائٹل کا دفاع تو درکنار اپنی عزت کا بھی دفاع نہیں کرپاتی تاہم سپینش ٹیم نے جس طرح حالیہ ورلڈکپ میں لوگوں کی رائے کو غلط ثابت کیا ممکن ہے آئندہ ورلڈکپ میں یہ ٹیم ایک بار پھر تاریخ کا دھارا بدل ڈالے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments