سکواش کا بے تاج بادشاہ… جہانگیر خان،وہ دس سال سکواش کے عالمی چیمپئن رہے

Squash Ka Betaj Badshah Jahangir Khan

وہ پیدائشی ہرنیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کی بولنے کی صلاحیت بھی کم تھی، ان کے معالج نے انتہائی سختی کے ساتھ انہیں سکواش کھیلنے سے منع کر رکھا تھا

پیر جنوری

Squash Ka Betaj Badshah Jahangir Khan
احسن بٹ: سکواش کے بے تاج بادشاہ جہانگیر خان کا تعلق چیمپئنز کے خاندان سے ہے۔ ان کے والد روشن خان اور بھائی طورسم خان مرحوم سکواش کے سدابہار کھلاڑی تھے۔ وہ جونیئر کے ساتھ ساتھ عالمی چیمپئن بھی بنے۔ وہ دس سال سکواش کے عالمی چیمپئن رہے۔سکواش سے ریٹائرمنٹ کے بعد سکواش کی عالمی فیڈریشن کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی سکواش کیلئے گراں قدر خدمات پر حکومت پاکستان انہیں ہلال امتیاز سے نواز چکی ہے۔

جہانگیر خان 1963ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی ہرنیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کی بولنے کی صلاحیت حاصی کم تھی۔ انہیں بارہ سال کی عمر تک دو مرتبہ آپریشن کے عمل سے گزرنا پڑا۔ ان کے معالج نے انتہائی سختی کے ساتھ سکواش کھیلنے سے منع کر رکھا تھا۔ جہانگیر خان اپنی فیملی سے چھپ کر گھر کی بالکونی میں والد کے دئیے چھوٹے ریکٹ سے سکواش کھیلتے تھے۔

(جاری ہے)

دوسرے ہرنیا کے آپریشن سے قبل گرمیوں کی چھٹیوں میں انہوں نے والد سے کلب جانے کی فرمائش کی جہاں وہ کلب کی کوچنگ کرتے تھے۔ انہیں نہ کھیلنے کی شرط پر جانے کی اجازت مل گئی۔ یوں ان پر سکواش کے دروازے کھول گئے۔ اتفاق سے ایک روز روشن خان نے بیٹے کو چھپ کر کھیلتے ہوئے دیکھ لیا ۔وہ بیٹے کی سکواش میں مہارت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ بیٹے سے بازپرش کرتے انہیں ہرنیا کے دوسرے آپریشن سے گزرنا پڑا ، آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں مکمّل صحت یاب قرار دے دیا ۔

والدہ کے گھریلو ٹوٹکوں سے آہستہ آہستہ ان کے سننے کی صلاحیت بھی بہتر ہو گئی۔ 14 سال کی عمر میں پی آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ قومی جونیئر چیمپئن بن چکے تھے۔ 15 سال کی عمر میں وہ اعلٰی تعلیم اور سکواش کھیلنے کیلئے انگلینڈ چلے گئے جہاں ان کے بھائی طورسم خان پہلے ہی پروفیشنل سکواش کھیل رہے تھے۔ چند ماہ کی تربیت میں وہ کم عمر ورلڈ ایمچیورچیمپئن بن گئے۔

اسی دوران انہیں زندگی کے سب سے بڑے حادثے سے گزرنا پڑا جب ان کے بڑے بھائی طورسم خان کی اچانک موت واقع ہو گئی۔ کئی ماہ تک وہ سکتے کی حالت میں سکواش سے دور رہے مگر بھائی کا خواب تھا پورا کرنا اور عالمی چیمپئن بننے کیلئے انہیں سکواش کورٹ میں دوبارہ آنا پڑا۔ اگلے دو سال کے دوران 17 سال کی عمر میں وہ سکواش کے عالمی چیمپئن بن چکے تھے۔ اب جہانگیر خان کی پوری توجّہ پروفیشنل سکواش پر مرکوز تھی۔

لندن میں مقیم ان کزن رحمت خان نے کوچنگ کی ذمّہ داری سنبھال لی تھی۔ جیف ہنٹ کو شکست دینے کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ ایک کے بعد ایک ٹورنامنٹ جیتتے چلے گئے۔ کرس ڈٹمار جیسے کھلاڑی کو شکست دینے کی آرزو لئے سکواش کورٹ سے رخصت ہو گئے۔ جہانگیر خان کا گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں ناقابلِ شکست رہنے کا طویل ترین ریکارڈ بھی ہے۔

وہ پانچ سال آٹھ مہینے 1981 سے 1986ء تک ناقابلِ شکست رہے۔555 میچز میں مسلسل کامیابی حاصل کی اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح قرار پائے۔ جہانگیر خان کو سب سے زیادہ دس مرتبہ (1982ء سے 1991ء) برٹش اوپن جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ 29 سال کی عمر میں انہوں نے سکواش سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس وقت وہ عالمی نمبرون اور ورلڈ ٹیم چیمپئن کے فاتح تھے۔ انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کا آج بھی کوئی افسوس نہیں ہے۔

جان شیر خان اور جہانگیر خان سکواش کورٹ میں ایک دوسرے کے زبردست حریف رہے۔ جان شیر خان کے ہاتھوں ہی جہانگیر خان کو ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ 1997ء میں جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان پچھلے 17 سالوں سے مسلسل عالمی چیمپئن اور عالمی درجہ بندی کی ٹاپ ٹین پوزیشن سے محروم چلا آ رہا ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments