قومی ٹیم کو 234رنز سے ذلت آمیز شکست ،سری لنکا نے ون ڈے سیریز جیت لی

Srilanka Wins Odi Series

یونس ،سلمان،آفریدی،مصباح ،کامران اور شعیب ملک بھیگی بلی بنے نظر آئے ،75رنز پر پوری ٹیم ڈھیر ”کرکٹ واپس لوٹ آئی ہے“ کے نام پر پی سی بی اور قومی کرکٹرز نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا

اتوار 25 جنوری 2009

اعجاز وسیم باکھری : میں نے اپنی زندگی میں پاکستان کی تاریخ میں دوہی بڑی شکستیں دیکھی تھیں،ورلڈکپ 1999ء کا فائنل اورآئرلینڈ کے خلاف ورلڈکپ2007ء میں ملنے والی ناقابل برداشت ہار۔ ان دو حادثات کے بعد میرا خیال تھا کہ ہم نے اب کم از کم اتناتوترقی کرلی ہے اور اس قدر کھیل میں آگے نکل چکے ہیں کہ دوبارہ ایسے تاریخ کے ذلت آمیز مناظر نظر نہیں آئیں گے ۔

لیکن سچ کہتے ہیں کہ کل کس نے دیکھا ہے اور کل کیا ہوگا اس بارے میں کوئی بھی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ایک طویل عرصے بعد پاکستان میں کوئی کرکٹ سیریز کا آغاز ہوا تو ہم میڈیا والے بالخصوص میرے جیسے سپورٹس سے وابستہ افراد میں ایک خوشی کی لہردوڑ گئی کہ چلیں دیر سے ہی سہی کم از کم کرکٹ توپاکستان میں لوٹ آئی ہے۔مگر سری لنکا کے خلاف قذافی سٹیڈیم میں تین میچز کی سیریز کا فیصلہ کن میچ اختتام ہونے کے بعد جب میں میڈیا بکس سے اپنالیپ ٹاپ اور دیگر سامان سمیٹنے کے بعد اختتامی پریس کانفرنس کیلئے جارہا تھا تو میرے دوست رپورٹرز انتہائی غصے کے عالم میں ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے کہ ”ایسی شکست دیکھنے کیلئے اگر یہ سیریز یہاں منعقد ہوئی تو اس سے تو بہتر ہی تھا کہ پاکستان میں کرکٹ دوبارہ شروع ہوتی ہی نہ۔

(جاری ہے)

مگر وہاں پر موجود سینئرز رپورٹرز اور تجزیہ نگاروں نے نوجوان رپورٹرز کو حوصلہ دیا کہ کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔لیکن بجائے نوجوان رپورٹرز اس بات پر خاموش ہوجاتے انہوں نے ایک ایک کرکے تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی سینئر تجزیہ نگاروں کے سامنے رکھ دی تو صبر کی تلقین کرنے والے بھی بھڑک اٹھے ۔میں نے اپنی زندگی میں بے شمار میچز میڈیا بکس میں بیٹھ کر کور کیے اور بدقسمتی سے بیشتر مقابلوں میں پاکستان کو شکست ہوئی لیکن ایسا پہلی بار ہورہاتھاکہ میڈیا سے وابستہ افراد پاکستانی ٹیم کی شکست پرحد سے زیادہ برہم دکھائی دئیے۔

اس ذلت آمیز شکست پر برہم ہونیوالے افراد میں ایک میں بھی شامل تھا کیونکہ پاکستان کی 62سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ پاکستان کو 234رنز سے شکست کا سامنا کرناپڑا۔پاکستان کو اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف 224رنز کی بدترین شکست سہنی پڑی تھی مگر وہ اتنا بدترین شکست نہیں تھی کیونکہ وہ غیرملکی سرزمین پر ملی تھی مگر یہ تو پاکستان کو اس کے دل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ملی اور وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے سامنے ملی۔

غریب عوام کے ”محبوب“وزیر اعظم میچ کے اختتام پر فاتح ٹیم کو ٹرافی دینے آئے تھے اور ابھی وہ سٹیڈیم میں پہنچے نہیں تھے کہ پاکستانی ٹیم 310رنز کے جواب میں صرف22.5اوورز میں 75رنز پر ڈھیر ہوگئی۔اہم میچ میں پاکستان نے شعیب اختر اور اورسہیل تنویر کو ڈراپ کرکے سہیل خان کو شامل کیا لیکن اس کے باوجود کوئی بہترنتائج اخذنہ ہوسکے۔سری لنکن بلے بازوں نے انتہائی بے رحمی سے پاکستانی بولنگ لائن اپ کا حلیہ بگاڑا۔

فیصلہ کن معرکے میں پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی انتہائی غیر معیاری رہی جس کا واضح ثبوت قومی پیسرز کے خلاف بننے والے رنز کا انبار ہیں۔ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے شعیب اختر اور سہیل تنویر کو ڈراپ کرنے کافیصلہ بھی زیادہ مثبت تنائج نہ دے سکا۔سارادن پاکستانی باؤلرز کی سخاوت اپنے عروج پر رہی ۔شعیب اختر کے متبادل کے طور پر کھیلنے والے پیسر سہیل خان نے 10اوورز میں52رنزدیکر ایک وکٹ حاصل کی جبکہ سہیل تنویر کی جگہ ٹیم میں کھیلنے والے سعید اجمل نے بغیر کوئی وکٹ حاصل کیے 9اوورز میں 51رنزدئیے ،عمرگل نے ایک بار پھر متاثر کن بولنگ کا مظاہرہ کیا اور9اوورز میں تین وکٹیں حاصل کرکے 45رنز دئیے۔

شاہدآفریدی نے 10اوورز میں خوب مارکھاتے ہوئے60رنز دئیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے اسی طرح کپتان شعیب ملک نے 7اوورز پھینکے وہ بھی وکٹ حاصل کرنے کی کوشش میں 43رنز دے بیٹھے لیکن وکٹ نصیب نہ ہوئی۔ جواب میں پاکستان نے اپنی باری شروع کی تو نجانے کیا سوچ کر ٹیم مینجمنٹ نے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کی اور یونس خان کو سلمان بٹ کی جگہ اوپنر بھیج دیا ۔

خان صاحب 4رنز بنانے کے بعد انتہائی پریشانی کے عالم میں آؤٹ ہوکر واپس آگئے حالانکہ وہ بطور ون ڈاؤن جب کھیلتے ہیں تواوپنرکے آؤٹ ہونے پر ڈیڑھ اوور کے بعد وکٹ پر آ ہی جاتے ہیں لیکن نجانے اس بار وہ کیوں کوئی کرشمہ نہ دیکھا سکے۔یونس خان کی واپسی کے بعد سلمان بٹ بطور ون ڈاؤن بیٹسمین وکٹ پر آئے اور بغیر کوئی رنز بنائے وہی ماضی کی غلطی دہراتے ہوئے سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔

مصباح الحق اور کامران اکمل بھی چند ہی منٹوں میں واپس لوٹ گئے ۔شاہدآفریدی گراؤنڈ میں داخل ہوئے تو شائقین سمیت پنجاب پولیس کے جوان بھی چوکنا ہوئے لیکن وہ سب غلطی پر تھے ۔اس وقت پانچواں اوور چل رہا تھا اور خان صاحب نے انتہائی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سیدھی گیند کو چھوڑنے کی گستاخی کی اور بال وکٹوں پر جا لگی ۔”بڑے بے آبروہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے “کے مصداق آفریدی گراؤنڈ سے باہر نکلے تو شائقین نے سٹیڈیم سے باہر نکلنا شروع کردیا۔

عمرگل نے کپتان شعیب ملک کے ساتھ ملکر غیر متوقع طور پر کچھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی اور دو چار چوکے لگائے اور ایک چھکا بھی ان کے بیٹ سے اچانک لگا تو امید پیدا ہوئی کہ شاید کوئی ”چمتکار“ہوجائے لیکن جو اپنی قسمت میں شکست لکھوا کر آئے ہوں کامیابی بھی ان سے کوسوں دور رہتی ہے ۔68کے مجموعی سکو رپر یہ دونوں آؤٹ ہوئے تو مرلی دھرن نے باقی دوشکارکرکے نہ صرف اپنی ٹیم کو سیریز میں فتح دلائی بلکہ انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں500وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔

مرلی دھرن کو وسیم اکرم کا 502وکٹوں کا عالمی ریکارڈ توڑنے کیلئے مزید تین وکٹوں کی ضرورت ہے۔ ایک طویل عرصے بعد قذافی سٹیڈیم میں شائقین کا جوش وخروش نظر آیا ،35ہزار کے قریب شائقین کے موجودگی میں سری لنکن ٹیم نے میزبان بیٹسمینوں کو بے بس کرکے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہوتو کامیابی خود چل کر سامنے آتی ہے۔پاکستان کرکٹ میں اس وقت سب سے بڑا فقدان خلوص نیت کا ہے ۔

کپتان چاہتا ہے کہ میں ہی ٹیم میں رہوں ،پوری ٹیم میری مرضی سے بنے ،ڈی جی کچھ اور چاہتے ہیں ،چیئرمین صاحب کی اپنی مجبوریاں ہیں ،چیف آپریٹنگ آفیسر ابھی تک بدلہ لینے میں لگے ہوئے ،چیف سلیکٹرکہتے ہیں میرے اختیار سے باہر ہے اور سینئر کھلاڑی کہتے ہیں ہمارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے جہاں ایسے حالات ہوں وہاں 75تو کیا 35پر بھی ٹیم آؤ ٹ ہوجائے تو کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جائے گی ۔

ذلت آمیز شکست کے بعد پی سی بی کے کرتا دھرتا کہہ رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں ،ہار جیت کھیل کا حصہ ہے مگر اچھی بات تو یہ ہے کرکٹ دوبارہ پاکستان میں لوٹ آئی ہے ،غیرملکی ٹیمیں پاکستان آرہی ہیں لہذا یہ شکست کوئی بڑی بات نہیں۔حالانکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ 35ہزار شائقین گراؤنڈ سے انتہائی افسردگی کے عالم میں نکلے ،لاکھوں لوگوں نے ٹی وی پر میچ دیکھ کر خود کو مایوسی اور اداسی میں دھکیلا ،لہذا یہ کہہ دینا کہ شکست کی خیر ہے،چلو کرکٹ توشروع ہوئی انتہائی غیر مناسب اور بزدلانہ بات ہے ۔

گوکہ ہر روز امریکہ ہم پر ڈرون اٹیک کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دنیا میں کوئی عزت و رتبہ ہی نہیں رکھتے ۔پاکستانی عوام ایسی بے حس بھی نہیں ہے کہ ”کرکٹ واپس لوٹ آئی ہے“ کی آڑ میں تاریخ کی ذلت آمیز شکست برداشت کو کرلے۔شعیب ملک اور شاہدآفریدی کیلئے یہ شکست معمولی شکست ہوسکتی ہے مگران لاکھوں پاکستانیوں کیلئے نہیں جو اپنی ٹیم کی کامیابی کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔

نسیم اشرف اور شہریار خان نے کرکٹ کے ذریعے اس ملک کو بدنام کرنے اور اس کی عزت کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لہذا خدارا آپ بھی اُن کے نقش قدم پر مت چلیں اور پاکستان کی عزت کا خیال رکھیں اور ذاتی پسند نا پسند کو جڑ سے مٹا کر میرٹ کو ترجیح دیں تاکہ آنے والے دنوں میں دوبارہ ایسی ذلت نہ اٹھانی پڑے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments