کہانی ایک والی بال ٹورنامنٹ کی

Story Of A Vollyball Match

دنیا بھر میں کھیلے جانے والے مختلف کھیلوں میں سے ایک پرانا کھیل والی بال بھی ہے۔ والی بال دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل ہے۔

جمعہ فروری

Story Of A Vollyball Match

تحریر/ سہیل احمد ضیاء
دنیا بھر میں کھیلے جانے والے مختلف کھیلوں میں سے ایک پرانا کھیل والی بال بھی ہے۔ والی بال دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل ہے۔ 1895ءکی سردیوں میں امریکی ریاست "میساچسٹس" میں واقع عیسائی نوجوانوں کی مشینری ایسوسی ایشنyoung, Men Association Young Men's Christian (YMCA) کے ڈائریکٹر ایجوکیشن ولیم جی مورگن نے ادارے کے نسبتاً بڑی عمر کے اسٹوڈنٹس کے لیے منٹونیٹ نامی ایک کھیل تخلیق کیا۔ ابتدائی طور پر یہ ان ڈور گیم تھا بعد ازاں یہ آو¿ٹ ڈور گیم کی شکل اختیار کر گیا۔ والی بال کا پہلا نمائشی میچ 7جولائی 1896ءمیںاسپرنگفیلڈکالج امریکامیںکھیلاگیا۔اس میچ کے دوران ایک مبصر Alfred Halstead نے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی نیٹ کے اوپر سے ایک دوسرے کے پیچھے اور سامنے پھینکنے کے لیے”والی انگ“ کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ولیم مورگن کو یہ لفظ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس کھیل کا نام منٹونیٹ سے تبدیل کر کے ”والی بال“ رکھ دیا۔ والی بال کی پہلی آفیشل گیند 1896ءمیں اسپالڈنگ نامی کمپنی نے بنائی۔ 1900 ءمیں امریکا کے بعد کینیڈا پہلا ملک تھا جس میں والی بال کھیلا گیا تاہم پھر بھی اس کھیل کو کوئی خاص قابلِ ذکر پذیرائی نہیں ملی۔ پھر 1919ءمیں امریکی مہم جو فورسز نے دنیا بھر میں تعینات اپنے سپاہیوں میں تقریباً 16000 والی بالز تقسیم کیے جس سے مختلف ممالک میں والی بال کے کھیل کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1924ءمیں پیرس اولمپکس کے موقع پر پہلی مرتبہ والی بال کے کھیل کو بھی ایک ”غیر سرکاری“ کھیل کے طور پر شامل کیا گیا۔1928میں امریکا میں والی بال کی پہلی ٹیم بنائی گئی اور اسی سال امریکا میں پہلی قومی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا۔ 1947ءمیں فیڈریشن آف انٹرنیشنل والی بال (FIVB) قائم کی گئی۔ اسی فیڈریشن نے مردوں کی والی بال ٹیم کیلئے قواعدوضوابط طے کئے جس کے بعد اس کھیل کے عالمی چیمپئن شپ مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ 1949ءمیں پہلی مرتبہ مردوں کے عالمی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا بعد ازاں 1952ءمیں خواتین کے ورلڈ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا۔ 1964میں والی بال کی ٹیموں نے اولمپک مقابلوں میں سرکاری طور پر شرکت کی۔ والی بال اولمپک کا واحد کھیل ہے جس کے کھلاڑیوں کو زیادہ پیراہن پہننے کی ممانعت ہے۔ یوں اب 124 سالہ پرانا یہ کھیل امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، فرانس اٹلی، چین، بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں خاصا مقبول کھیل بن چکا ہے۔ پاکستان میں والی بال کے کھیل کاآغاز 1954سے ہوا۔ 1955میں پاکستان والی بال فیڈریشن قائم کی گئی جس کے بعد اس کے قومی سطح کے مقابلوں کا انعقاد ہونے لگا، اسی سال پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور عالمی والی بال فیڈریشن نے پاکستان والی بال فیڈریشن کی تنظیم کی سرکاری طور پرمنظوری دی۔ پچاس اورساٹھ کی دہائی کے دوران پاکستان کی والی بال ٹیم کو ایشیائی ممالک میں بلند مقام حاصل تھا۔ 1955ءسے 1958ءتک پاکستان میں والی بال کے مقامی سطح کے ہی ٹورنامنٹ کرائے گئے جن میں نئے کھلاڑیوں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ حصّہ لیا۔ 1958ءمیں پاکستان کی ٹیم نے ایران کا دورہ کیا جہاں اس نے حریف ٹیم کو پانچ میچوں کی سیریز میں شکست فاش سے دوچار کرکے ایشین چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کیا۔ ان مختصر کامیابیوں کے بعد قومی والی بال ٹیم سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہونے لگی اور تمغوں کی دوڑ میں کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔پاکستان میں اب اس کھیل کو ملک بھر کے مختلف علاقائی سپورٹس کمیٹیوں نے فروغ دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انہی فعال کمیٹیوں میں سے ایک "سپورٹس کمیٹی کلی سرخانزی" بھی ہے جو ہر سال والی بال کے مختلف ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتی ہیں جس سے نہ صرف اس کھیل کو فروغ ملتا ہے بلکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی بھی ایک دوسرے سے متعارف ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ سال 25 نومبر کو حاجی ناصر خان ترین اور ان کے برادران کی سرپرستی میں "آل بلوچستان سی ڈی 70 والی بال ٹورنامنٹ" کا انعقاد ہوا، جس میں صوبہ بھر کی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا۔ "ملکیار" اور "شرنہ" (مسلم باغ) والی بال ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔فائنل کے سنسنی خیز مقابلے میں "شرنہ" کی ٹیم نے میچ میں فتح حاصل کر کے نہ صرف 70 موٹر سائیکل حاصل بلکہ صوبہ بلوچستان کے چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ ٹورنامنٹ کے مہمان خصوصی حاجی شراف الدین خان ترین (زونل چیف ZTBL برائے ڈیرہ مراد جمالی) اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبد الباری ترین تھے۔ جنہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے اور شرکاءسے خطاب بھی کیا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments