ان پریڈیکٹیبل ٹیم پاکستان

Unpredictable Team Pakistan

ورلڈ کپ 2019 کا اہم میچ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلا جا رہا تھا، پاکستان کے لیے میچ جیتنا انتہائی ضروری تھا، ہدف کم تھا اور مخالف ٹیم بھی کمزور تھی.

Shehryar Abbasi شہریار عباسی جمعہ جولائی

Unpredictable Team Pakistan
ورلڈ کپ 2019 کا اہم میچ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلا جا رہا تھا، پاکستان کے لیے میچ جیتنا انتہائی ضروری تھا، ہدف کم تھا اور مخالف ٹیم بھی کمزور تھی.
لیکن ہماری ٹیم نے آخری اوور کی چوتھی گیند پر ہدف مکمل کیا. ان کی اس کارکردگی سے قوم کو مایوسی تو ہوئی لیکن ماضی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کرکٹ ٹیم ایسی بہت سی مثالیں پیش کرتی نظر آئے گی، اسی لیے تو اسے "ان پریڈیکٹیبل" ٹیم کہتے ہیں.

اس میچ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے بارے میں ریسرچ کی تو چند اہم باتیں سامنے آئیں جس سے یہ ٹیم واقعی "ان پریڈیکٹیبل" کہلائی جاسکتی ہے. ماضی میں متعدد ایسے میچز ہوئے جن میں نتیجہ ہر کسی کے لیے حیران کُن رہا.

(جاری ہے)

1986 میں شارجہ میں جاوید میانداد کے آخری بال پر چھکے سے لیکر شاہد آفریدی کے 2014 ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف دو چھکوں تک اس ٹیم نے ہمیشہ ہی کوئی سرپرائز دیا ہے.

1992 میں کسی کو امید نہیں تھی کہ یہ ٹیم سیمی فائنل تک کوالیفائی کرے گی اور عمران خان کی قیادت میں یہ ورلڈ کپ جیت گئے. عمران خان نے اس ورلڈ کپ میں انضمام الحق اور وسیم اکرم جیسے ستارے پاکستان کو دیے. 1999 ورلڈ کپ میں ایک جاندار ٹیم وسیم اکرم کی قیادت میں فائنل میچ میں آسٹریلیا کے خلاف
صرف131رنز بنا سکی. 2007 میں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہوا اور فائنل میں بھارت کے خلاف ہارا ہوا میچ آخر تک لے کر گئے اور پھر آخری اوور میں ہار کر قوم کو مایوس کیا.

2009 ورلڈ کپ میں جیسے تیسے کر کے سیمی فائنل میں پہنچے اور ساؤتھ افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو ناک آؤٹ کردیا اور پھر فائنل میں سری لنکا کو با آسانی شکست دے کر ورلڈ چیمپئن بن گئے.
2010 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف جیتا ہوا سیمی فائنل آخری اوور میں ان کی جھولی میں ڈال دیا.
مائیک ہسی نے آخری اوور میں سعید اجمل کو لگاتار تین چھکے لگا کر پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کروا دیا.

2010 کی پاکستان-افریقہ سیریز کے دوسرے ون ڈے میں عبدالرزاق نے پاکستان ٹیم کی واضح شکست کو کامیابی میں بدل دیا. عبدالرزاق نے ہارے ہوئے میچ میں دس چھکے لگا کر پاکستان کو ایک گیند قبل فتح دلوا دی تھی. اپنی "ان پریڈیکٹیبل" کی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ٹیم نے 2011 ورلڈ کپ میں بھرپور کارکردگی دکھائی اور پھر سیمی فائنل میں بھارت کا مقابلہ نہ کر سکے.
رواں برس ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ سے چار-صفر سے سیریز ہارنے کے بعد ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں انگلینڈ کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا اور پھر ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو ہرا کر اپنے سیمی فائنل میں جانے کی آس زندہ رکھی.

اب افغانستان جیسی ٹیم سے بھی یہ مشکل سے جیتے ہیں اور جنوبی افریقہ کو آسانی سے ہرا دیا تھا... یہ سچ میں لوگوں کو ہارٹ اٹیک کرواتے رہیں گے اور اپنا "ان-پریڈیکٹیبل" کا لیبل ہمیشہ قائم رکھیں گے. لیکن اب تو اِن کے سیمی فائنل میں جانے کی آس تقریباً ختم ہوچکی ہے لیکن کیا پتہ کل یہ کوئی انہونی کر دیں، لیکن اس ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا کہ ہماری ٹیم ایک تسلسل کیوں نہیں قائم رکھ سکتی؟ کم از کم اب تو کرکٹ ماہرین کو اور سابق سٹارز کو اس ٹیم کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2020 میں ہم یہ اُمید کر سکیں کہ ہمیں اس ٹیم کی جانب سے کوئی اچھی خبر ملے.

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments