ریسلرکین " دِی بِگ ریڈ مشین"

Wrestler Kane

ڈبلیو ڈبلیو ای میں سب سے زیادہ مقابلے 2478سے زیادہ لڑنے کا اعزاز کین کو حاصل ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر اگست

Wrestler Kane
ریسلر کین آگ سے مشابہ سُرخ اور سیاہ رنگ میں ڈیزائن کیا ہوا لباس بمعہ چہرے کا ماسک پہن کر اسٹوری لائن کے مطابق ریسلنگ کے رِنگ میں مقابلے کے دوران ایک ایسے وحشت ناک اوررُعب دار شخص کا کردار ادا کرتے کہ اُنکے مداح اُنھیں" دِی بِگ ریڈ مشین" کے لقب سے زور زور سے پُکارتے ۔اسی وحشت میں وہ مدِمقابل کے ساتھ آگ کا خطرناک کھیل کھیلنے سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔

بعض دفعہ ریسلنگ میں اُنھیں چوٹیں بھی لگ جاتیں جس سے مقابلہ اسٹوری لائن سے ہٹ کر حقیقت کا رنگ اختیار کر لیتا۔یہی وہ نڈرپن کی نشانی تھی کہ جلد ہی بڑے ریسلرز میں اپنا نام لکھوا لیا۔بلکہ اُنکا ڈائزین کردہ ریسلنگ لباس ،ماسک اور اُس میں کین کے رُوپ کو ا تنی شہرت ملی کہ دوسرے کئی ریسلرز وخواتین ریسلرز ڈرامائی انداز میں ویسا ہی حُلیہ بنا کر اُنکے ہی سامنے رِنگ میں آجاتے۔

(جاری ہے)

دوسرا اگرپیشہ وارانہ ریسلنگ میں ریسلر کین کا ذکر نہ آئے تو ریسلر انڈر ٹیکر کی ریسلنگ کا آد ھا دور نامکمل ہے۔انڈرٹیکر ایک بڑا نام ہے لیکن کین کیساتھ اُنکی ٹیگ ٹیم" دِی برادرز آف ڈسٹرکشن " اور مدِمقابل ریسلنگ مقابلے اُنکے مداحوں کیلئے نا قابل فراموش رہیں گے۔خصوصاً آگ کے کھیل ۔لیکن یہ خیال رہے کہ دونوں ریسلرز کا آپس میں کوئی ذاتی رشتہ نہیں ہے۔

ریسلر کین کی شخصیت اُس یورپین اسٹائل سے بھرپور نظر آتی ہے جس میں نسل ،اصول پسندی اوررسمی انداز کے مطابق لباس زیب تن کر نا یورپین کی پہچان ہے۔ گوکہ اُنکے والدین امریکن ہیں لیکن اُنکے رِنگ نام " کین" کی کُنیت آئر ش نژاد ہے جسکا مطلب " جنگ" ہے۔ لہذا انکی زندگی گزارنے کے طریقے سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اُنکے آباؤاجداد یورپین ہوں۔ کیونکہ اچھی تعلیم ،اعلیٰ ترین کھلاڑی، کھیل کے لباس کے علاوہ زیادہ تر سوٹ پہننا اور نیک ٹائی لگا کر رکھنا، ایک شادی کرنا ،فلاحی اقدام خصوصاً ذہنی مریضوں کیلئے اور مدبر سیاست دان کی حیثیت میں اُنکا قد اُونچا نظر آتا ہے۔

کین کا اصل نام " گلین تھامس جیکبز"ہے۔لیکن ریسلنگ کے میدان میں مختلف رِنگ نامو ں سے جانے جاتے ہیں: جن میں چند یہ ہیں: ڈیزل،ڈومز ڈے ،اسحاق یانکم ،یونابم اور کین ۔ وہ امریکی پیشہ ور ریسلر کے ساتھ اداکار ، مصنف ، تاجر اور سیاستدان بھی ہیں اور بطور امریکن ر یپبلیکن پارٹی ممبر ، وہ نینی کاوٴنٹی ، ٹینیسی میں میئر کی ذمہداریاں بھی نبھا رہے ہیں۔

لیکن بنیادی طور پر وہ ڈبلیو ڈبلیو ای میں اپنے رِنگ نام" کین" سے ہی ایک جنگجو کی حیثیت میں پہچان بنا نے میں کامیاب ہو ئے۔ اس قبل 1992ء میں اُنھوں نے اِنڈیپن ڈنٹ سرکٹ سے اپنے پیشہ ورانہ ریسلنگ کیریئر کا آغاز کیا۔ پھر سموکی ماوٴنٹین ریسلنگ (ایس ایم ڈبلیو) اور ریاستہائے متحدہ ریسلنگ ایسوسی ایشن (یو ایس ڈبلیو اے) جیسے ریسلنگ پروموشن اداروں کے مقابلوں میں حصہ لیا ۔

کین سپین کے قصبہ ٹورجین ڈی اردوز " دارلخلافہ میڈرڈ" میں 26 ِاپریل1967ء کو پیدا ہوئے۔ اُنکے والد کی ملازمت امریکن ائیر فورس میں تھی اور اس ادارے کا اثر رسوخ قصبہ کی ائیر فورس بیس سے تھا۔ لہذا کین کی پیدائش کے دِنوں میں اُنکے والد وہاں ٹرنسفر تھے ۔ اُنکے والد نے 21سال ملٹری سروس میں گزارے اور اس دوران دُنیا کے اہم مقام جن میں کوریا اور ویت نام بھی شامل ہیں وہاں جانا ہوا۔

لیکن اُنکو اپنی بیوی جو ایک گھریلو خاتون تھیں اور بچوں کی تعلیم کی فکر تھی ۔ لہذااُنھوں نے سینٹ لوئس ، ریاست میسوری ،امریکہ میں رہائش کا انتظام کیا اور کین کو میسوری کے شہربولنگ گرین کے ہائی اسکول میں داخل کروا دیا۔وہاں اُنھوں نے فٹ بال اور باسکٹ بال میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ایک ذہین طالب علم بھی تھے لہذا نورتھ ایسٹ مسوری اسٹیٹ یونیورسٹی سے ا نگلش لٹریچر میں ڈگری حاصل کی ۔

اُنکی ایک انتہائی ذہین اور تعلیم یافتہ بہن اور ایک قابل بھائی بھی ہیں۔ کین کو بچپن سے ہی ایک ایتھلیٹ بننے کا شوق تھا اور کھیل کی وجہ سے ہی وظیفہ پر تعلیم اداروں میں داخلہ مل جاتا تھا ۔اُنھیں جب نیشنل فُٹ بال لیگ میں کھیلنے کا موقع میسر آنے کی اُمید ہو گئی تھی تو گھٹنے پر شدید چوٹ نے اُنکا یہ خواب توڑ دیا اور ساتھ میں ایک اچھا اتھلیٹ بننے کا بھی۔

اب تھا عملی زندگی میں قدم رکھنا ۔پہلے عام نوعیت کی ملازمتیں کیں اور پھر انگلش ٹیچر کی حیثیت میں ایک دو تعلیمی اداروں میں کچھ وقت گزارہ۔دِل کواطمینان نہ ہوا تو ایک ذہنی مریضوں کے ہسپتال میں ملازمت اختیار کر لی جہاں پر بڑی عمر کے دماغی مریضوں کا خیال رکھنا تھا۔اُس ماحول میں ملازمت سے زیادہ ذاتی طورپر ذمہداری نبھانے کا شوق ہو گیا ۔

اس دوران ہی اُنکا جسمانی قد کاٹھ دیکھ کر وہاں پر ہی ایک کام کرنیوالے نے اُنھیں پیشہ ور ریسلر بننے کیلئے کہا۔اُنھیں کچھ خاص تجربہ تو نہیں تھا لیکن اُنھیں مشورہ پسند آیا ۔ کین کا قد 6.8انچ لیکن ریسلنگ اداروں کے مطابق7 فُٹ اور وزن147 کلو گرام،جسم کے چُست اور پُھرتیلے ۔یعنی ایک ریسلر کی وہ خوبیاں جو وقت کے ساتھ اُن میں واضح بھی ہو تی رہیں ۔

بہرحال ریسلر بننے کے شوق میں کچھ متعلقہ افراد کے ہاتھوں خوار بھی ہو تے اور کئی کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا اور آمدن کوئی خاص نہ ہوتی ۔کبھی کسی ساتھی کی وین میں سو جاتے یا اگر ہوٹل میں رہنا پڑتا تو دو یا تین ساتھی ملا لیتے تاکہ کرایہ مِل کر ادا کریں۔1992ء میں اُنھوں نے ریسلنگ میں اپنا ڈبیو کر لیا ہوا تھا لہذا اب ریسلنگ سے متعلقہ افراد اُنکی صلاحیتوں کا فائدہ اُٹھاتے ہو ئے اُ نھیں دوسرے ممالک میں بھی لیکر جانا شروع ہو گئے۔

سب سے پہلے ڈومینیکن ریپبلک اسکے علاوہ جاپان اور پورٹو ریکومیں ریسکنگ مقابلے کروائے لیکن جیب خالی ہو نے کے برابر۔کین اُس دور میں کچھ پریشان رہے لیکن وہ اُن محنتی اور لگن رکھنے والے افراد میں شامل ہو چکے تھے کہ کچھ بن کر دکھانا ہے ایک دفعہ تکلیف برداشت کر ہی لیتے ہیں۔چونکہ وہ امریکہ کی بھی مختلف ریسلنگ پرموشن میں مقابلے کر رہے تھے۔

لہذا ڈبلیو سی ڈبلیو میں اُنکا سامنا ریسلر اسٹنگ سے ہو گیا جس میں اُنکو شکست ہو گئی ۔ کچھ مدت بعد ایس ایم ڈبلیو میں انڈر ٹیکر سے زور آزمائی کا موقع ملا تو اُس میں بھی اُنکو شکست ہوگئی پر بڑے ریسلرز کے ناموں نے اُنھیں ڈبلیو ڈبلیو ایف/ای سے معاہدہ کرنے میں آسانی کر دی۔ کین نے پہلے دو تین مختلف رِنگ ناموں سے ڈبلیو ڈبلیو ایف / ای میں ریسلنگ کا آغا ز کیا جن میں وہاں پر 20ِفروری1995ء کو ڈبیو مقابلہ کیا ریسلر رینو رِگنس کو ہرا کر اور پھر پہلی دفعہ اُنکا ٹی وی پر دکھایا جانے والا مقابلہ تھا جیری لولاکے ساتھ۔

جب اُنھیں ریسلر بریٹ ہارٹ کیساتھ ایک بڑے ایونٹ میں مقابلے کا موقع ملا تو اُنھیں شکست تو ہوگئی لیکن ادارے کے مالک میک موہن کو اُنکے لیئے ایک نئی اسٹوری لائن ذہن میں آئی۔جسکے لیئے پہلے کچھ مدت انتظار کیا گیا اور پھر ایک ایسی کہانی بنا کر اُنکے رِی ڈبیو مقابلے کا پروگرام پیش کرنے کا اعلان کیا گیا جس میں رِنگ نام " کین" کے ساتھ ایک ایسا شخص متعارف کروایا جانا تھا جو انڈرٹیکر کا سوتیلا بھائی تھااور آگ لگنے کے واقعہ میں اُسکے سمیت سب جل گئے تھے۔

لیکن پھر اُس وقت معلوم پڑا کہ وہ شخص زندہ ہے جب 5 ِاکتوبر1997 ء کو " ہیل اینڈسیل" کے مقابلے میں انڈرٹیکر اور شان مائیکل کے درمیان خونین مقابلہ جاری تھا اور انڈرٹیکر شان مائیکل کو رِنگ میں پھینکنے کے بعد شکست کیلئے داؤ لگانے ہی والا تھے کہ اچانک لائٹز بند ہو ئیں اور ہلکی سی موسیقی میں آگ سے مشابہ سُرخ اور سیاہ ڈئزائن کا لباس پہنے ہو ئے اور چہرے پر بھی اُسی ڈئزائن کا ماسک لگائے ہوئے ایک قد آور شخص رِنگ کی طرف بڑھنا شروع ہو ااور اُسکے پیچھے آگے کے شعلے بھی بلند ہو ئے۔

ساتھ ہی آوازیں آئیں "کین" زندہ ہے انڈر ٹیکر کا سوتیلا بھائی زندہ ہے۔سوال تھا کہ چہرے پر ماسک کیوں پہنا ہوا؟ بعد میں معلوم پڑا وہ بچ تو گئے تھے لیکن آگ کی وجہ سے چہرے کا کچھ حصہ جُلس گیا تھا۔ ایک شور میں کین نے پنجرے کا دروازہ توڑا اور اندر داخل ہو کر ریفری کو اُٹھا کر ایک طرف پھینکا ۔ انڈرٹیکر یہ سب کچھ حیرانگی سے دیکھ رہے تھے کہ کین اُنکے سامنے آکر کھڑے ہو گئے۔

کین نے پہلے اپنے بازؤں کو اُوپر نیچے کیا تو رِنگ کے ارد گرد شعلوں کی روشنی ہو ئی ۔پھراُنھوں نے انڈرٹیکر کو کک ماری اور اُلٹا اُٹھا کر نیچے پھینکا اور واپس چلے گئے۔شان مائیکل نے فائدہ اُٹھایا اور رِنگ پر گرے ہوئے انڈ ٹیکر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور ریفری نے ایک دو تین کہہ کر شان مائیکل کو کامیاب قرار دے دیا۔ کین نے جس سال ڈبلیوڈبلیوایف/ای سے معاہدہ کیا اُسی سال مشرقی ٹینیسی میں اُنکی ملاقات اپنے سے تقریباً 7سال بڑی لڑکی کرسٹل مارسیا گوئنز سے ہوئی جو اُنکو ایک ہی نظر میں اتنی پسند آگئی کہ نفسیات میں ماسٹر ڈگری رکھنے والی اس لڑکی سے کین نے 23ِ اگست1995 ء کو شادی بھی کر لی اوراُن کے ہاں2 بیٹیاں پیدا ہوئیں جنکی بھی اب شادی ہو چکی ہے اورکین نانا بن چکے ہیں۔

کین کی انڈرٹیکر کے سوتیلے بھائی کی حیثیت میں کامیاب اسٹوری لائن کی مقبولیت کو دیکھ کر مالک میک موہن کو ایک اور نئی سوچ آئی اور اُنھوں نے یہ واضح کرتے ہو ئے کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے " دِی برادرز آف ڈسٹرکشن "کے نام سے اُنکی ٹیگ ٹیم بنا دی۔پہلے دونوں آپس میں خونین ریسلنگ کرتے تھے اور اب دوسرے ریسلرز کا وہ حال کرنے لگے کہ ریسلنگ کی دُنیا کے شائقین کی ایک بڑی تعداد اُنکو واقعی اصلی زندگی میں بھی بھائی سمجھنے لگی۔

حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا پر جوڑی تاریخی طور پر نہ کہ ہٹ ہو گئی بلکہ مختلف سالوں میں رِنگ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ تی رہی۔کین ابھی تک ریسلنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور اُنھوں نے اپنے25 سالہ دور میں وقت کے ہر بڑے ریسلرز کے خلاف زورآزمائی کی اور بہت سی اہم چیمپئن شپ اپنا نام کیں۔کیج میچ . نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ڈبلیو ای میں سب سے زیادہ مقابلے 2478سے زیادہ لڑنے کا اعزاز کین کو حاصل ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments