یونس خان کا بڑا کارنامہ اور ویسٹ انڈیز سے جیت

Younis Khan Ka Bara Karnama

پاکستان ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والا یہ50واں ٹیسٹ میچ تھا جس میں نقادوں کی تنقید کے باوجود یونس خان 10ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی اور13ویں دُنیا کے بلے باز بن گئے۔ مصباح الحق ملک سے باہر25 میچ جیتنے والے پہلے کپتان بن گئے

Arif Jameel عارف‌جمیل بدھ اپریل

Younis Khan Ka Bara Karnama
پاکستان ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والا یہ50واں ٹیسٹ میچ تھا جس میں نقادوں کی تنقید کے باوجود یونس خان 10ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی اور13ویں دُنیا کے بلے باز بن گئے۔ مصباح الحق ملک سے باہر25 میچ جیتنے والے پہلے کپتان بن گئے۔ساتھ میں اُنھوں نے اس ٹیسٹ میں 5ہزار رنز اور وکٹ کیپرسرفراز احمد نے2ہزار رنز بنانے کا سنگ ِمیل بھی عبور کر لیا۔

یونس خان و مصباح الحق کی کامیابی اور محمد عامر و یاسر شاہ کی شاندار کارکردگی چیف سلیکٹر انضمام الحق کی کاوشوں کا نتیجہ بھی ہے۔
مختصر تجزیہ:
21 اپریل تا 25 اپریل2017ء تک کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی نے پاکستان کے قدم چُومے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی20اور ایک روزہ میچوں کی سیریز جیتنے کے بعد 3 ٹیسٹ کی سیریز میں بھی کامیابی کی اُمید نظر آئی ۔

(جاری ہے)


پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اس ٹیسٹ میچ کو شامل کر کے اب تک50ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان19اور ویسٹ انڈیز 16جیتی ہے اور 15برابر ی پر ختم ہو ئے۔لہذا پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔
پہلے ٹیسٹ میں کامیابی کے باوجود اس ٹیسٹ سیریزمیں اوپنرسمیع اسلم اور سہیل خان کا ٹیم اسکوڈ میں شامل نہ ہو نے کا افسوس بھی ہے۔ دوسری طرف محمد حفیظ بحیثیت باؤ لر بھی اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں۔

اُنکی کمی پہلی اننگز سے ہی اُس وقت محسوس ہونا شروع ہو ئی جب ویسٹ انڈیز کے71اسکور پر 5کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اوروکٹ پر یاسر شاہ کی گیند نے سپین لینا شروع کر دیا تھا۔لیکن دوسرا سپن باؤلر نہ ہو نے کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کے مڈل آرڈر کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم کے اسکور میں اضافہ کرنے کا موقع مل گیا۔کیونکہ اُس وقت یاسر شاہ زیادہ سپین کروانے کی کی بجائے اُونچی شارٹ کھیلا کر وکٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔


دوسری طرف دونوں اننگز میں پاکستان اوپنرز کی ناکامی پر کہا جا سکتا ہے کہ محمد حفیظ باؤلنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی موجودہ فارم کے تحت اچھی کارکردگی دکھا سکتے تھے۔ فاسٹ باؤلر محمد عباس کا ڈبیو میچ تھا جس میں اُنھوں نے اچھی باؤلنگ کی اورمیچ میں3وکٹیں لینے میں کا میاب ہو گئے۔ بابر اعظم نے 72رنز کی اچھی اننگز کھیلی اور دوسری اننگز میں 9رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔


مصباح الحق 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہنے والے پاکستان کے پہلے اور دُنیا کے6ویں بلے باز بن گئے اور دوسری اننگز میں وننگ شارٹس میں لگا تار 2 چھکے لگا کر سب کو حیران بھی کر دیا۔
دوسرے اور تیسرے دِن بارش کی وجہ سے وکٹ کو خشک کرنے کیلئے روایتی طریقہ اپناتے ہوئے ٹین کی چادر میں دہکتے ہوئے کوئلے رکھ کر پچ کی نمی دور کرنے کی کوشش کی گئی ۔اُس کے بعد پچ کی صورت ِحال پر شارٹ لگانا آسان نظر نہیں آرہا تھا ۔

لیکن بابر اعظم،یونس خان، مصباح الحق اور سرفرازحمد نے اپنے تجربے سے ویسٹ انڈیز کے پہلے اننگز کے اسکور پر برتری حاصل کر لی جو دوسری اننگز میں کامیابی کا باعث بن گئی۔بصورت ِدیگر پاکستان نے دوسری اننگز میں جیت کیلئے 32رنز کا ہدف بھی3وکٹیں گنوا کر حا صل کیا۔
بہرحال اسکے باوجود کپتان مصباح الحق کی قیادت میں یونس خان اور سرفراز احمد نے بھر پور ذمہداری نبھاتے ہوئے ٹیم کے موریل کو بلند رکھا اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میں اُنکے ملک میں شکست دے دی۔


یونس خان نے اس میچ میں 10 ہزاررنز مکمل کرایک بڑا کارنامہ او ر پاکستان کا ایک عظیم کھلاڑی ہو نے کا حق ادا کر دیا ۔اُنکی اس کامیابی پر اُن نقادوں کو اپنے رویئے پر غور کرنا چاہیئے جو الیکٹرونک میڈ یا پر صرف ٹیم کے کھلاڑیوں کا موریل ڈاؤن کرنے کیلئے بیٹھے ہو تے ہیں۔جسطرح وہ یونس خان پر تنقید کرتے رہے اگر یونس خان دِل برداشتہ ہو کر کھیلنا چھوڑ دیتے یا کرکٹ بورڈ اُنکو سلیکٹ نہ کرتا رہتا تو آج بھی پاکستان کے پاس اتنا بڑا اعزاز نہ ہو تاجو پاکستان کا فخر بن گیا ہے۔


شاہد آفریدی جیسے گلیمر کھلاڑی بھی ان تنقید کرنے والوں کی نذر ہو چکے ہیں جو دُنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہیں لیکن پاکستانی نقاد اُنکو آج تک پہچان ہی نہیں سکے۔محمد حفیظ نے بھی اُن تنقید کرنے والوں کو اپنی موجودہ کارکردگی سے شرمندہ کیا ہے۔
پہلے ٹیسٹ کیلئے پاکستان کرکٹ ٹیم:
اظہر علی۔ احمد شہزاد۔بابر اعظم۔

یونس خان۔ مصباح الحق(کپتان)، اسدشفیق، وکٹ کیپر سرفراز احمد۔محمد عامر۔وہاب ریاض۔یاسر شاہ اور محمد عباس( نئی ٹیسٹ کیپ)۔( کپتان )جیسن ہولڈر
پہلے ٹیسٹ کیلئے ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم:
گریگ برتھویٹ۔ کیرون پاؤل۔شہمر ون ہیٹمائر۔شائی ہوپ۔ وشال سنگھ۔روسٹن چیز۔وکٹ کیپر شنن ڈورچ ۔( کپتان )جیسن ہولڈر۔ دویندرا بشو۔شنن گیبریل اور الرزای جوزف۔


پہلا ٹیسٹ میچ کنگسٹن کی گراؤنڈ سبائناپارک میں:
ویسٹ انڈیز میں پاکستان اور اُنکی کرکٹ ٹیم کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 21اپریل 2017ء کو کنگسٹن کی گراؤنڈ سبائناپارک میں شروع ہوا ۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی ۔ آغاز میں اُنکے بلے باز پاکستان فاسٹ باؤلرز کا سامنا نہ کر سکے اور ایک موقع پر 71کے مجموعی اسکور پر اُنکے 5بلے باز آؤٹ ہو گئے۔

جن میں سے محمد عامر نے3شاندار گیندوں پر آؤٹ کیئے۔ 1کو وہاب ریاض اور 1 کواپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے27سالہ محمد عباس نے آؤٹ کیا۔لیکن اُس کے بعد روسٹن چیز اور وکٹ کیپر شنن ڈورچ نے ذمہ داری سے بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم کے اسکور میں اضافہ کرنا شروع کیا اور دونوں نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
اس دوران پاکستان باؤلرز نے یہ جوڑی توڑنے کی بہت کوشش کی جس میں آخر کا لیگ سپین باؤلر یاسر شاہ کامیاب ہوئے اورکھیل کے آخری سیشن میں 118 رنز کی پارٹنر شپ توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔

اُنھوں نے آر۔ چیز کو 63اور ایس ڈورچ کو56کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کر دیا۔دوسرے دِن کا کھیل بارش کی نذر ہو نے کی وجہ سے صرف تھوڑی دیر ہو سکا اور ویسٹ انڈیز نے 279کے اسکور پر مزید 2وکٹیں گنوا دیں۔ تیسرے دِن بھی خراب آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے کھیل تاخیر سے شروع ہوا اور ویسٹ انڈیز مزید7رنز کا اضافہ کر سکی اور 286کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئی۔محمد عامر نے کیرئیر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے44رنز کے عوض 6کھلاڑی آؤٹ کیئے۔


پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز بھی کچھ خاص اچھا نہ ہوا اور اور دونوں اوپنرز اظہر علی 15اور احمد شہزاد 31رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔جسکے بعد نوجوان بلے باز بابر اعظم اور مایہ ناز بلے باز یونس خان میدان میں اُترے اور ذمہداری سے کھیلتے ہوئے اسکور میں بھی اضافہ کرنا شروع کیا اور سب سے اہم یہ کہ یونس خان جنکو اپنے 10ہزار رنز مکمل کرنے کیلئے مزید23رنز درکار تھے اُس میں کامیاب ہو کر دُنیا کے13ویں لیجنڈکرکٹر بن گئے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

اُنھوں نے اس کامیابی پر اپنی شرٹ پر بنے ہوئے پاکستان کے ستارے کی طرف اشارہ کر کے اپنے ملک کی عظمت کو سلام کیا۔
تیسرے دِن کے اختتام پر یونس خان اور بابر اعظم کو بالترتیب58اور 72کے اسکور پر پویلین جانا پڑا اورنئی ذمہدار سنبھالی مصباح الحق اور اسد شفیق نے۔چوتھے دِن پہلی اننگز میں 201رنز 4کھلاڑی آؤٹ پر کھیل شروع ہوا اور اسد شفیق 22رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے ۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد نے کپتان کا ساتھ دیا اور 54رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے ۔ساتھ میں اُنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے2ہزار رنز بھی مکمل کیئے۔ اگلے کھلاڑی محمد عامر11،وہاب ریاض 9رنز بنا سکے اور یاسر شاہ 8رنز پر رَن آؤٹ ہو ئے۔
اب وکٹ پر تھے کپتان مصباح الحق اور آخری کھلاڑی آئے محمد عباس۔کپتان نے اس صورت ِحال میں مزید اسکور کرنے کی کوشش کی تو وہ99کے انفردی اسکور پر پہنچ گئے۔

اس دوران پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے محمد عباس 20گیندیں انتہائی محتاظ انداز میں کھیل کر 1اسکور بنا چکے تھے لیکن21ویں گیند میں ایل بی ڈبلیو ہوگئے ۔ مصباح الحق کپتانی اننگز تو کھیل گئے لیکن سنچری نہ کر سکے اور 99رنز پر ناٹ آؤٹ گئے۔ لیکن اُنھوں نے بھی اس میچ میں اپنے ٹیسٹ کرکٹ میں 5ہزار رنز مکمل کر لیئے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے گیبریل اور جوزف3,3 کھلاڑی آؤٹ کر کے ہم باؤلر رہے۔


407 رنزآل ٹیم آؤٹ ہونے پر پاکستان کو127رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔ لیکن دوسری اننگز میں بھی ویسٹ انڈیز ٹیم کوئی مقابلہ نما کھیل پیش نہ کر سکی اور چوتھے دِن کے آخر تک 4کھلاڑی آؤٹ اور پھر پانچویں دِ ن 152کے مجموعی اسکور پر ساری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔یاسر شاہ نے 63رنز دیکر6کھلاڑ ی آؤٹ کیئے ۔
پاکستان کو پہلا ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے32اسکور کرنے تھے۔

لیکن اوپنر احمد شہزاد6رنز اور اظہر علی1رَن پر غیر ذمہدارانہ شارٹز کھیلتے ہو ئے آؤٹ ہو گئے ۔24کے مجموعی اسکور پر یونس خان کو بھی6رنز پر ایل بی ڈبلیو دے دیا گیا۔کپتان مصباح الحق بیٹنگ کرنے آئے تو اُنکے ذہن میں تھا کہ اتنا آسان جیتنے والا میچ اتنا مشکل کیوں ہو گیا ؟لہذا اُنھوں نے اگلی دوگیندوں پر باؤلر دویندرا بشو کو لگاتار2چھکے مار کر 7وکٹوں سے پہلا ٹیسٹ جیت کر 3ٹیسٹ کی سیریز میں1۔0سے برتری حاصل کر لی۔ یاسر شاہ میچ میں 8وکٹیں لینے پر "مین آف دِی میچ"ہوئے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments