یونس کی سنچری سے پی سی بی کی ورلڈکپ تیاریاں بے نقاب

Younis Ki Century Se Pcb Ki World Cup Tiyariyaan Be Naqab

تین ہفتے پہلے یونس کو بوجھ قرار دینے والے معین خان کیلئے یونس کا سنچری کی شکل میں طمانچہ پی سی بی کو ورلڈکپ کی تیاری کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، ورنہ شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر 2 فروری 2015

اعجازوسیم باکھری: کرکٹ ورلڈکپ سرپہ آن پہنچا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ تاحال کنفیوژن کا شکار ہے کہ کس کو ورلڈکپ میں موقع دیا جائے اور کس پر انحصار کرنا نقصان دہ ہوگا۔ دنیا کی دوسری ٹیمیں گزشتہ ایک سال سے ورلڈکپ کی پلاننگ کرکے آگے بڑھ رہی ہیں تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ دنیا کا واحد بورڈ ہے جسے ابھی تک سمجھ ہی نہیں آرہی کہ تیاری کیسی کرنی ہے اور پلاننگ کیا ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ورلڈکپ کی تیاریوں میں سنجیدگی کا عنصر کتنا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چیف سلیکٹر معین خان نے سری لنکا کیخلاف سیریز میں صرف ایک میچ کھیلنے والے یونس خان کو آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز سے یہ کہہ کرڈراپ کردیا کہ ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے یونس خان کو فارغ کیاہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ورلڈکپ سے پہلے ایک بہتر ٹیم تیار کی جاسکے۔

(جاری ہے)

پی سی بی کے اس فیصلے کے بعد یونس خان نے احتجاج اور ماہرین نے کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس کے باوجود کرکٹ بورڈ نے ہوش کے ناخن نہ لیے، بعدازاں آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز میں بدترین اندازمیں وائٹ واش ہونے کے بعد پی سی بی کو خیال آیا کہ یونس خان موقع دینا چاہئے اور ورلڈکپ کی تیاریوں کیلئے جو جھوٹے دعوے کیے جارہے تھے خود ہی بورڈ نے یونس خان کو ٹیم میں دوبارہ شامل کرکے ان دعوؤں کی نفی کردی۔

کہتے ہیں کہ جب پاور مل جائے تو اقتدار میں نشے میں عقل پر پردہ پڑجاتا ہے یہی سب کچھ چیف سلیکٹر و منیجر معین خان کے ساتھ ہورہا ہے۔ معین خان وہ شخص ہیں جو مسلسل پانچ سال پاکستان کرکٹ بورڈ پر کڑی تنقید کرتے رہے اور ان کی تنقید کا کوئی سرپیر بھی نہیں ہوتا تھا، ٹیم ہار جاتی یا فتحیاب ہوتی معین خان کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ کیڑے نکالنے سے کبھی باز نہیں آئے تھے کیونکہ بنیادی طور پر وہ بورڈ میں آنا چاہتے تھے اور انہیں نجم سیٹھی کا مشکور ہونا چاہئے کہ بدترین شکستوں کے باوجود معین خان کو نہ صرف نوکری پر بحال رکھا بلکہ بھاری تنخواہ کے عوض ٹیم منیجر بھی بنادیا۔

اب معین خان سب کچھ ہیں ، وہ بھی کریں کرکٹ بورڈ اس پر سوال نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی معین خان نے حساب کتاب لیا گیا۔ گزشتہ دونوں گورننگ باڈی میں کچھ ملکی کرکٹ کا درد رکھنے والے ممبران نے پی سی بی چیئرمین سے سوال کیا تاہم خوشامدیوں کے فوج نے اسی سالہ چیئرمین کو اختیار دیدیا کہ وہ معین خان کے دوعہدوں کا فیصلہ کریں۔ کرکٹ بورڈ میں سزا و جزا ہوتی یا ملک کی عزت کو مقدم رکھنے والے لوگ بیٹھے ہوتے تو جس دن یونس خان نے سنچری کی شکل میں معین خان کے منہ پر طمانچہ مارا اُسی دن برطرفی کا پروانہ تھما دیا جاتا کہ جناب ہم نے ورلڈکپ کھیلنا ہے اور آپ جیسے اہل دانش ہمیں مروا ڈالیں گے لہذا آپ کی یہ آخری سیریز ہے اس مکمل کریں اور گھر جائیں۔

لیکن معین خان کی خوش قسمتی دیکھیں کہ بورڈ میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جن کی نظروں میں صرف معین خان ہی آتے ہیں تو ایسے میں معین خان کو کسی بات کی کیا پروا۔ یونس خان کو داد دینا ہوگی کہ اُس نے ثابت کردیا کہ وہ عصر حاضر میں اعلیٰ پائے کا بلے باز ہے۔ آسٹریلیا کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں دبئی میں صرف 7 رنز پر 2 وکٹیں گنوانے والے پاکستان کو 12 سال قبل کی یادیں ڈرانے لگیں، جب یونس خان نے میدان میں قدم رکھا۔

یہ 2002ء کے بعد متحدہ عرب امارات میں پہلا پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ تھا، اور اس سے پاکستان کی کوئی اچھی یادیں وابستہ نہیں۔ شارجہ میں کھیلے گئے اْس ٹیسٹ میں پاکستان پہلی اننگز میں 59اور دوسری میں 53 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا اور یونس خان دونوں بار دہرے ہندسے میں بھی نہیں پہنچ سکے تھے۔ اب دبئی میں وہ محض چوتھے اوور میں میدان میں اترے، دیکھا بھالا، سنبھلے، جمے اور بالآخر اپنے کیریئر کی ریکارڈ 25 ویں اور آسٹریلیا کے خلاف پہلی سنچری داغ ڈالی۔

یوں نہ صرف پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز بن گئے بلکہ تمام ٹیسٹ ممالک کے خلاف کم از کم ایک سنچری بنانے والے واحد پاکستانی کھلاڑی بھی قرار پائے۔92 ٹیسٹ میچز پر مشتمل کیریئر میں 51 سے زیادہ کا اوسط رکھنے والے یونس خان کے لیے سب سے مشکل حریف آسٹریلیا رہا ہے۔ وہ کبھی آسٹریلیا کے خلاف تہرے ہندسے کی اننگز نہیں کھیل سکے تھے اور آج جب پاکستان کو ان کی سخت ضرورت تھی تو انہوں نے یہ کارنامہ بھی انجام دے ڈالا اور انضمام الحق کا سب سے زیادہ 25 سنچریوں کا قومی ریکارڈ برابر کر ڈالا۔

یونس نے سنچریوں کا آغاز فروری 2000ء میں اپنے پہلے ہی ٹیسٹ کردیا تھا جب سری لنکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 107 رنز کی اننگز کے ذریعے میچ بچانے کی زبردست کوشش کی۔ پاکستانی باؤلرز سری لنکا کو 220 رنز کا ہدف حاصل کرنے سے تو نہ روک سکے اور سری لنکا مقابلہ 2 وکٹوں سے جیت گیا لیکن یونس کے لیے راہ متعین ہو چکی تھی، اور انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

وہ سری لنکا ہی کے خلاف اب تک 7 سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔ جس میں کیریئر کی بہترین 313 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔ یونس نے 25 میں سے 5سنچریاں بھارت کے خلاف بنا رکھی ہیں جبکہ ، جنوبی افریقہ کے خلاف 4، ویسٹ انڈیز، انگلستان اور بنگلہ دیش کے خلاف دو، دو اور نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور زمبابوے کے خلاف ایک، ایک بار تہرے ہندسے کی اننگز کھیلی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں یونس خان نے سنچری بناکر ثابت کردیا کہ وہ اس وقت بھی ٹیم کی ناکارہ بیٹنگ کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا سکتاہے، قومی ٹیم میں یونس خان اور مصباح الحق جیسے قابل اعتبار بلے باز جب تک موجود ہیں اس ٹیم کو کمزور نہیں کہا جاسکتا، اگر ورلڈکپ میں یہ دونوں چل پڑے تو قومی ٹیم باآسانی سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

یونس خان کے ساتھ پی سی بی نے جو سلوک کیا وہ اس سلوک کے مستحق نہیں تھے۔ ون ڈے کارکردگی پر سوالات اٹھنے کے بعد یونس نے محض چند ماہ کے فرق سے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے کیونکہ ورلڈ کپ میں بہت کم ہفتے رہ گئے ہیں۔ اگر پی سی بی نے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ورلڈکپ میں شرمندگی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئیگا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments