پاکستان کرکٹ کو ایک اوردھچکا،محمد یوسف نے آئی سی ایل جوائن کرلی

Yousuf Join Icl

سٹاربیٹسمین ابوظہبی سیریزکیلئے قومی سکواڈمیں شامل ہونے کے باوجود بھارت چلے گئے محمد یوسف پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد ،پاکستان تاریخ کے عظیم ترین بیٹسمین سے محروم ہوگیا

منگل 4 نومبر 2008

اعجاز وسیم باکھری : پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر اور ریکارڈ ساز بیٹسمین محمد یوسف نے باغی انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل )جوائن کر لی ہے۔یہ خبر یوسف کے چاہنے والوں کیلئے کسی دھماکے سے کم نہیں ہے بلکہ اس خبر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جڑیں ایک بارپھر ہلا کررکھ دیں ہیں۔پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکر خان نے گزشتہ روز قذافی سٹیڈیم لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران یوسف کے باغی لیگ جوائن کرنے کی تصدیق کی ۔

34سالہ محمد یوسف کے انڈین کرکٹ لیگ جوائن کرنے کی اطلاع ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی جب سلیکٹرز نے صرف چند گھنٹے پہلے انکا نام ابو ظہبی سیریز کے لئے قومی ٹیم میں شامل کیا تھا ۔ذاکر خان نے بتایا کہ محمد یوسف نے کرکٹ بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو اپنی بھارت روانگی کے بارے میں اطلاع دی تاہم ہم نے یوسف کی اہلیہ سے بات کی ہے اور انہوں نے تصدیق کی یوسف آئی سی ایل کھیلنے کی غرض سے سرحدپار چلے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس سے پہلے بھی محمد یوسف نے گز شتہ برس ٹونٹی 20عالمی کپ کے لئے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے بعد دلبر داشتہ ہو کر آئی سی ایل جوائن کی تھی تاہم انہیں سابق چےئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف نے آئی سی ایل جوائن کرنے سے منع کیا اور انہیں ہرطرح کی سپورٹ دینے کا وعدہ کیا لیکن نسیم اشرف کی جانب سے کچھ ایسے وعدے جو وفا نہ ہو سکے یوسف کافی دلبرداشتہ تھے۔ بعد ازاں آئی سی ایل کی جانب سے قانونی کاروائی کے نتیجہ میں محمد یوسف انڈین پریمےئر لیگ کھیلنے سے بھی محروم رہے اور یہ معاملہ تاحال بھارتی عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

ذاکر خان نے یوسف پر دوسرے باغی کھلاڑیوں کی طرح پابندی کا عندیہ دیتے ہوے کہا کہ بیٹسمین کے خلاف کاروائی بورڈ کے قانون کے مطابق ہو گی جس سے واضع جھلک رہا ہے کہ یوسف کیلئے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہوچکے ہیں اور یہ سچ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان تاریخ کی عظیم ترین بیٹسمین سے محروم ہوگیا ہے۔پاکستان کی جانب 79ٹیسٹ میچوں میں 55کی ریکارڈ اوسط سے 6770اور269ایک روزہ بین الاقوامی میچوں 9242رنز بنانے والے محمد یوسف کا انٹرنیشنل کیر ئیر اب بظاہر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 23اور ون ڈے کرکٹ میں 15سنچریاں سکور کرنے والے یوسف کو پاکستان کرکٹ کا دیو مالائی کردار سمجھا جاتا ہے ان کا شمارعہد حاضر کے عظیم بیٹسمینوں میں کیا جاتا ہے۔پاکستان کرکٹ کیلئے یہ بھی ایک اعزاز تھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے یوسف واحد ایسے کھلاڑی تھے جو ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ کے ٹاپ ٹین بیٹسمینوں کی فہرست میں پاکستان کی نمائندگی کرتے چلے آرہے تھے ۔

یہ بات درست ہے کہ محمدیوسف گزشتہ میچز میں خاطر خواہ کھیل پیش کرنے میں ناکام چلے آرہے تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ پاکستان کرکٹ کی واحد امید تھے اور بطور بیٹسمین یوسف پاکستان کی تاریخ میں جاوید میانداد اور انضمام الحق کے پائے کی بلے بازکی چیثیت رکھتے ہیں۔یوسف کی کرکٹ بورڈ کے ساتھ رنجش کا آغاز ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سکواڈ میں انہیں ڈراپ کیے جانے پر شروع ہوا۔

ڈیڑھ برس تک چلنے والی اس رنجش میں کرکٹ بورڈ نے بجائے کہ یوسف کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے کرتا نسیم اشرف انتظامیہ سٹاربیٹسمین کو محض تسلیاں دیتی چلی آرہی تھی اور وہ اکیلے بھارتی عدالتوں میں اپنے کیس لڑتے رہے حالانکہ نسیم اشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یوسف کا ہرطرح سے خیال رکھیں گے لیکن یہ محض سیاسی بیان ثابت ہوا اور یوسف کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جاتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا وہ انتہائی دلبرداشتہ ہوکر باغی لیگ میں چلے گئے۔

قومی ٹیم کے سٹار بلے بازمحمد یوسف نے پاکستان کو کئی میچز میں فتح دلائی اور مشکل حالات میں ٹیم کیلئے فائٹ کی۔یوسف کے مخالفین ان پر سپاٹ اور سیدھی وکٹوں کے بیٹسمین ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن جنور ی 2006سے لیکر دسمبر 2006تک انہوں نے لاہور سے لیکر لارڈز سے ہوتے ہوئے کراچی کے میدان تک سنچریوں کی قطار لگا کر ناقدین کے نہ صرف منہ بند کردیے بلکہ انہیں اپنے خیالات بدلنے پر بھی مجبو ر کردیا۔

محمدیوسف نے ویسٹ انڈیز کیخلاف کراچی ٹیسٹ میں سرویون رچرڈز کا ایک سال میں ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 1710رنزکے عالمی ریکاڈز تو ڑ کر 1788رنزبناکر اپنے نام کیا،ایک سال میں 9ٹیسٹ سنچریاں سکور کرنے کا منفرد اعزاز بھی محمد یوسف کو حاصل ہے۔اس بات میں کوئی بعید نہیں کہ جب سے انہوں نے عیسائیت ترک کرکے دائرہ اسلام میں قدم رکھا تو ان کی کاکردگی میں واضح تبدیلی پیداہوئی اورپاکستانی بیٹسمین کا سب کچھ ہی بدل گیا۔

کیونکہ ماضی میں وہ کسی بھی کامیابی کے لمحے سینے پر صلیب کے نشان سے اشارہ کرکے شکر بجا لاتے تھے لیکن اسلام قبول کرلینے کے بعد انہیں ہر موقع پر سجدے میں جاتے ہوئے دیکھا جاتا رہا۔ستمبر 2005ء میں اسلام قبول کرنے سے قبل 59 ٹیسٹ میچوں میں 47.46کی اوسط سے وہ رنز سکور کررہے تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد 14ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 80رنزفی اننگز سے بھی تجاوز کرگئی۔

یوسف کی کرکٹ کے کھیل میں آمد انتہائی چونکا دینے کاسبب بنی تھی جب لاہور کے ریلوے پلیٹ فارم سوئیپر کے بیٹے نے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ایک مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے قدم رکھا تو تب سے ان کی زندگی کا ڈھب اور طور طریقے تبدیل ہونا شروع ہوئے۔اپنے کیرئیر کے ابتدائی عرصے میں انہیں تھوڑی بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کی ایک وجہ ان کی واجبی سی کارکردگی اوراسٹروکس کھیلنے کی غیرضروری کوشش میں وکٹ گنوا دینے کی خامی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب انہوں نے اپنی بیٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے والے نقص نکال باہرکیے تو تب سے وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا لازمی حصہ ہوکررہ گئے ۔

ایک ہی وقت میں کئی سنیئر کھلاڑیوں کے منظر عام سے اوجھل ہونے کے بعد ا ن کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور یوسف نے ہرمشکل چیلنج کو قبول کرتے ہوئے بلندی کی جانب اپنا سفر جاری رکھا اورانہوں نے اپنی ذاتی کارکردگی سے پاکستان بیٹنگ لائن کو استحکام دے رکھا تھا تو تب اچانک ستمبر 2005میں قومی اخبارات میں ان کے اسلام قبول کرنے کی خبروں نے ہرطرف ہلچل مچا دی۔

کہاجاتاہے کہ محمد یوسف نے یہ فیصلہ تین برس قبل ہی کرلیا تھا جونہی انہوں نے اعلان کیا تو ان کا کیرئیر ایک نئی راہ پہ گامزن ہوگیا۔طویل اننگز کھیلنے کے حوالے سے ان کی اہلیت پر انگلی پہلے بھی اٹھائی جاتی تھی لیکن اپنے آخری 10ٹیسٹ میچز میں دوڈبل سنچریوں اور دوبار نروس ون نائنٹیز کا شکار ہوکر انہوں نے اس بات پر تصدیق ثبت کردی کہ عصرحاضر کا عظیم ترین بیٹسمین ہے۔

محمد یوسف دونوں طرز کی کرکٹ میں ایک موثر بلے باز اور قابل اعتبار بیٹسمین کے حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں اور ان کا اپنے عروج کے ایام میں اس طرح پاکستانی کرکٹ سے روٹھ جانا یقینا پاکستان کرکٹ کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔کیونکہ آئی سی ایل میں کھیلنے والا ہرکھلاڑی اپنے ملک کی جانب سے کرکٹ کھیلنے سے محروم کردیا جاتا ہے چونکہ آئی سی ایل کو تاحال آئی سی سی نے تسلیم نہیں کیا اور آئی سی سی نے تمام ممالک کے کرکٹ بورڈز کو واضح حکم دے رکھا ہے کہ آئی سی ایل کھیلنے والے کسی بھی کرکٹر کو نیشنل ٹیم کا حصہ نہ بنایا جائے ،ایسی صورتحال میں عبدالرزاق اور عمران نذیر کی طرح اب محمد یوسف بھی شاید پاکستان کیلئے دوبارہ نہ کھیل سکیں۔

گوکہ ٹی وی ناظرین یوسف کو آئی سی ایل کے میدانوں میں کھیلتے دیکھ کر ان کی بیٹنگ سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے لیکن پاکستانی ٹیم میں ان عدم موجودگی کا خلاء کبھی پورا نہ ہوگا اور نہ ہی پاکستان کو دوبارہ یوسف جیسا سٹائلش بیٹسمین ملے گا کیونکہ ایسے نایاب کھلاڑ ی بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments