ایشیا کرکٹ کپ بھارت کا اور پاکستان کی کارکردگی

Asia Cup 2018, Comparitive Analysis Of India And Pakistan's Performance

28ِستمبر2018ء کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایشیاکرکٹ کپ کا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کا فائنل کھیلا گیا جس میں دفاعی چیمپئین بھارت کے بلے بازوں نے دلچسپ مقابلے کے بعد میچ کی آخری گیند پر7 ویں دفعہ ایشیا کپ جیت لیا۔ پاکستانی کرکٹ شائقین کے چہرے اُداس رہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس ٹورنامنٹ میں شکست کے باعث۔خصوصی طور پر بھارت سے دومیچوں میں مسلسل شکست سے۔پاکستان اب تک یہ کپ صرف 2دفعہ جیت سکا ہے۔

Arif Jameel عارف‌جمیل ہفتہ ستمبر

Asia Cup 2018, Comparitive Analysis Of India And Pakistan's Performance

28ِستمبر2018ء کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایشیاکرکٹ کپ کا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کا فائنل کھیلا گیا جس میں دفاعی چیمپئین بھارت کے بلے بازوں نے دلچسپ مقابلے کے بعد میچ کی آخری گیند پر7 ویں دفعہ ایشیا کپ جیت لیا۔ پاکستانی کرکٹ شائقین کے چہرے اُداس رہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس ٹورنامنٹ میں شکست کے باعث۔خصوصی طور پر بھارت سے دومیچوں میں مسلسل شکست سے۔پاکستان اب تک یہ کپ صرف 2دفعہ جیت سکا ہے۔
ایشیا کرکٹ کپ2018: 15ِستمبر2018ء کو یو اے ای میں شروع ہونے والے ایک روزہ انٹرنیشنل ایشیا کرکٹ کپ میں پاکستان کو پہلے راؤنڈ میں اپنے گروپ کی 2مدِ مقابل ٹیموں میں سے ہانگ کانگ سے میچ میں جیت ملی اور بھارت سے ہار۔لیکن ہانگ کانگ کو بھارت سے بھی شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو نا پڑا۔

(جاری ہے)

اگلے مرحلے سُپر فور میں پہنچے پاکستان اور بھارت۔ دوسرے گروپ میں سری لنکا کو اپنے گروپ کی دونوں ٹیموں سے شکست کا سامنا کرتے ہوئے ایشیا کپ کے پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہو نا پڑ گیا اور افغانستان اور بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے سُپر فور میں رسائی حاصل ہو گئی۔ سُپر فور کا مرحلہ: پاکستانی کرکٹ مداحوں کو بڑی اُمید تھی کہ پاکستان اس راؤنڈ میں بھارت کو ہرا کے پہلی شکست کا بدلہ برابر کر لے گالیکن شکست ایک دفعہ پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے حصے آئی اور دوسری طرف اپنے اگلے میچ میں بھی افغانستان کے خلاف آخری اوور میں کامیابی حاصل ہوئی۔ پاکستان کی اس فتح سے ایک دفعہ پھر کرکٹ کے شائقین ، پاکستان کرکٹ بورڈاور پاکستان کے سابق کرکٹرز کو اُمید نظر آئی کہ اگر آخری میچ میں بنگلہ دیش کو پاکستان ہرا دے تو ایک پاکستان کرکٹ ٹیم فائنل میں پہنچ جائے گی اور دوسرا بھارت جو اُس وقت تک ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست تھا اُسکے ساتھ تیسری دفعہ ٹکراؤ ہو جائے گا جو ایک نئی دِلچسپی ہو گی۔ 26ِستمبر2018ء کو پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ اس ٹورنامنٹ میں پہلا ٹکراؤ ہوا اور بنگلہ دیش کی ٹکر بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم نہ سہ سکی اور سُپر فور کے راؤنڈ میں ہی پاکستان کی اس ٹیم سے اُمید رکھنے والوں کے خواب ٹوٹ گئے۔بلکہ بعض کو یہ دُکھ ہوا کہ افغانستا ن کی کرکٹ ٹیم جو اس ٹورنامنٹ میں بہت اعلیٰ پرفارمنس دے رہی تھی وہ ایسے ہی پاکستان سے ہارنے کی وجہ سے فائنل تک نہ پہنچ سکی ۔کیونکہ بھارت کے ساتھ افغانستان کا میچ ٹائی ہو گیا تھا۔بہرحال فائنل میں بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں آگیا کیونکہ اُس نے افغانستان کو بھی میچ ہرا دیا تھا۔
تجزیہ:
ایشیا کرکٹ کپ تو جیت گیابھارت۔لیکن پاکستان کے تجزیہ نگاروں اور شائقین کیلئے زیرِ بحث آگیا کہ پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں ایسی بُری شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟حالانکہ ابھی گزشتہ سال ہی آئی سی سی چیمپئین ٹرافی میں بھارت کو فائنل میں ہرا کر ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں کُل 5میچ کھیلے جن میں 2جیتے اور وہ بھی ہانگ کانگ اور افغانستان سے ۔2میں شکست کھائی بھارت سے اورایک میں بنگلہ دیش سے۔کسی کے مطابق کپتان سرفراز احمد اپنے مدِ مقابل ٹیموں پر گرفت نہ کر پائے اور کسی کے مطابق اُنکی اپنی پرفارمنس بھی ٹیم کی ناکامی کا باعث بنی۔ بلکہ کپتان سرفراز احمد نے یو اے ای کے موسم اور وکٹوں پر کھیلنا بھی ایک اہم عُنصر قرار دے دیا۔شاید پاکستان کرکٹ ٹیم پہلی دفعہ وہاں کھیلنے گئی تھی۔
بیٹنگ میں بلے باوزں کو ذمہدار ٹھرایا گیا ، باؤلنگ میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا بھی اہم نقطہ سمجھا گیا اور آخرمیں ان دونوں شعبوں کو مکمل طور پر لاچار کر دینے کا قصور فیلڈنگ پر آیا۔
سلیکشن کمیٹی کا کردار اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی ٹریننگ پر بھی نقطہ اعتراض اُٹھایا گیا اور ہیڈ کوچ کی ماضی کی کارکردگی کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراًہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایک بڑی کامیابی پاکستان کے شائقینِ کرکٹ کو ایسا مدہوش کر دیتی ہے کہ وہ اُس دوران مختلف میچوں میں خصوصی طور پر بین الااقوامی ممالک میں جا کر کھیلنے اور شکست سے دوچار ہونے کی گنتی بھول جاتے ہیں۔اسکی ایک وجہ کامیابی کے بعد ظاہری طور پر سلیکشن کمیٹی کا رویہ بھی ہوتا ہے جو اُس ایک کامیابی پر ٹیم کے کھلاڑیوں کو سرہانے کی بجائے اپنی خوبی سمجھ بیٹھتے ہیں اور اگلے میچوں کیلئے اپنی مرضی کے نئے کھلاڑیوں کو بھی سلیکٹ کر لیتے ہیں۔
اب ایشیا کپ میں حصہ لینے والی ٹیم میں دیکھیں محمد حفیظ کو باہر کر دیا۔ عماد وسیم جیسے اُبھرتے ہوئے کھلاڑی کو نظر انداز کر دیا گیا۔احمد شہزاد، کامران اکمل کی پرفارمنس ملکی ٹورنومنٹ تک محدود نظر آئی۔شعیب ملک کے علاوہ تجربہ نظر نہ آیااور فخر زمان،حسن علی ، محمد عامراور شاداب خان جیسے اہم کھلاڑی بالکل ناکام نظر آئے۔اگر نوجوان باؤلر شاہین آفریدی کی باؤلنگ سے کیچ اُچھل ہی گئے تو فیلڈروں کے ہاتھوں سے بھی کچ پکڑنے کی بجائے اُچھلتے رہے۔بلکہ اُنھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی پہلی وکٹ آخر کا بولڈ کر کے حاصل کی۔
اس دفعہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست پر جیتنے بھی تبصرے اور تجیزیئے ہو ئے اُن میں بہت سے اہم پہلو قابلِ ذکر سمجھ کر مستقبل کیلئے اچھے کھلاڑیوں کا جوڑ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کھلاڑی سب بہترین ہیں اور نوجوان ہیں کہیں موریل کی کمی ہو سکتی ہے۔اس کا حل ہیڈ کوچ مکی آرتھراور کپتان سرفراز احمد نکالیں۔ بیٹنگ ،باؤلنگ اور خصوصی طور پر فیلڈنگ پر تربیت کی حد تک زور دیں حُکم کی حد تک نہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments