نوجوان باڈی بلڈنگ میں نام پیدا کرنے کیلئے غیرممنوعہ ادویات کے استعمال سے گریز کر یں ،یحییٰ بٹ

Yayhabutt

چیمپئن بننے پرمحض چار سو کی ٹرافی تھما دینا سب سے بڑی حوصلہ شکنی ہے ” موجودہ دور میں نوجوانوں کی تیار ی اور حکومتی سرپرستی ”کے عنوان پر مسٹرایشیا اور مسٹرپاکستان اولمپیا ”یحییٰ بٹ “کی باتیں

بدھ جولائی

Yayhabutt
گفتگو:اعجاز وسیم باکھری: .....باڈی بلڈنگ پاکستانی نوجوان کا مقبول ترین مشغلہ ہے جس میں نام پیدا کرنے کیلئے آج کل کے نوجوان ہر طریقہ اپنانے کو تیار پھرتے ہیں اور باڈی بلڈنگ میں ٹائٹل جیتنے کی خواہش میں کئی نوجوان غیرممنوعہ ادویات کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جن کی حوصلہ افزائی کیلئے ملک بھر میں ایسے ”جم کلب”موجود ہیں جو نوجوانوں کو انتہائی بھاری بھر اور جعلی میڈیسن فراہم کرکے ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

لیکن اس صورتحال میں جہاں لڑکوں کو غلط مشورے دیکر ان سے ناجائز رقم وصول کی جاتی ہے وہی اس غیرقانونی اقدام سے پاک جم کلبوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جہاں نوجوانوں کی ہر طرح سے دیکھ بھال کی جاتی ہے اور انہیں ہر طرح کی گائیڈنس فراہم کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

لاہور میں ”یحییٰ بٹ “جوکہ سابق مسٹرپاکستان مسٹرایشیا اور مسٹرپاکستان اولمپیا رہ چکے ہیں اپنی نگرانی میں ”یحییٰ ٹریننگ سنٹر“کے نام سے ایک جم چلا رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو ہر طرح کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل سطح لیول کے مطابق ٹریننگ دی جاتی ہے اور نوجوانوں کو مضر صحت ادویات کے بارے میں گائیڈ بھی کیا جاتا ہے۔

یحییٰ بٹ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں وہ باڈی بلڈنگ سے وابستہ تمام نیشنل اور انٹرنیشنل اعزاز جیت چکے ہیں ۔گزشتہ دنوں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ باڈی بلڈنگ چیمپئن کے اعزاز جیتنے والے عظیم باڈی بلڈر سے” موجودہ دور میں نوجوانوں کی تیار ی اور حکومتی سرپرستی ”کے بارے میں مختصر گفتگو ہوئی جس میں یحییٰ بٹ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آجکل کے نوجوانوں میں ٹائٹل جیتنے کا جنون سوار ہوچکا ہے اور وہ اس میں کامیاب ہونے کیلئے ہر جائزناجائز طریقہ اپنانے کو بھی ہوتے ہیں ۔

نوجوانوں کے اس شوق سے بعض کلب مالکوں نے انتہائی غیر قانونی طریقے اختیار کرکے ایک کاروبار کی شکل اپنا لی ہے اور نوجوانوں کو دھوکے میں رکھ کر ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ہمارے دور میں نوجوان محنت کرتے تھے اور ان کے استاد انتہائی سمجھ دار اور اس پیشہ سے محبت کرنے والے لوگ تھے آجکل کے دور میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں نوجوانوں کی رہنمائی کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس آجکل اخراجات کی کمی ہے اور مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے توایسے میں لڑکوں کیلئے مناسب خوارک کا حصول دشوار ہوچکا ہے اور وہ شارٹ کٹ راستے اختیار کرنے کیلئے میڈیسن کا استعمال کرتے ہیں جس سے اتنہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کام میں سب سے زیادہ ذمہ داری ان نااہل کلب مالکان پر عائد ہوتی ہے جو نوجوانوں کو ایسی ادویات فراہم کرتے ہیں کہ( دینے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ میں کیا دے رہا ہوں اور لے کر کھانے والے کو بھی یہ پتہ ہرگزنہیں ہوتا کہ میں کیا استعمال کررہا ہوں) ۔

یہی وجہ ہے کہ اب والدین بچوں کو اس پیشے سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں ۔آجکل جم والے نوجوانوں سے دو دو تین تین ہزار روپے لیکر مختلف قسم کے پروگرام کرنے کو کہتے ہیں اور ایسے ہی اس سلسلے کو مزید آگے بڑھا کر لڑکوں کومزید ایک سے ایک پروگرام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور جو لڑکاپہلے اتنا وقت لگا چکا ہوتا ہے وہ اس امید پر کہ پہلے بہت کچھ صرف کرچکا ہوں اب مزید خرچہ نہ کرنے سے پہلے کی محنت اور اخراجات ضائع کرنے کے مترادف ہے وہ اسی بات کو مدنظر رکھ غیرممنوعہ ادویات کا استعمال بھی کرتے ہیں جس کا آہستہ آہستہ منفی اثر ہوتا ہے۔

یحییٰ بٹ نے مزید کہا کہ اس تمام قصے کی اصل وجہ حکومتی عدم دلچسپی ہے کیونکہ باڈی بلڈنگ فیڈریشن میں ایسے لوگوں کو لاکر بٹھایا گیا ہے جو کہ اس شعبے کے بارے میں مکمل طور پر معلومات بھی نہیں رکھتے اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک مخصوص طبقہ اس کام میں مشغول ہے جس کا کردار انتہائی محدود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی انا اور چپقلیش کی وجہ سے فیڈریشن نے کئی باصلاحیت نوجوانوں پر پابندی عائد کررکھی ہے حالانکہ وہ کئی بار یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ غیرممنوعہ ادویات کا استعمال نہیں کرتے جس کیلئے وہ اپنے کئی بار ٹیسٹ بھی کراچکے ہیں لیکن اس کے باوجود فیڈریشن محض ذاتی پسندناپسندکی وجہ سے ان کو پاکستان میں مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے گریزاں ہے جس کا صرف اور صرف ان نوجوانوں اور ملک کا نقصان ہورہا ہے۔

یحییٰ بٹ نے مزید ذکرکرتے ہوئے کہا کہ معصوم بٹ اس بات کی واضع مثال ہیں کہ فیڈریشن نے ان پر پاکستان میں بین کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان چھوڑ کر پہلے امریکہ اور آجکل انگلینڈ میں مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور گزشتہ دنوں نے انہوں نے مسلسل پانچ ٹائٹل جیتے۔ہمارے دور میں بھی حکومت کی کوئی سرپرستی نہیں تھی ہم بھی اپنے آپ محنت کرکے اس مقام تک پہنچے انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب ہم پر بلاوجہ غیرملکی کمپٹیشن میں پابندی عائد کردی جاتی تھی تو کبھی فیڈریشن نے اس بات پر احتجاج نہیں کیا تھا۔

پاکستان کی تاریخ کے نمبر ون باڈی بلڈر نے مزید کہا کہ باڈی بلڈنگ دن بدن نوجوانوں میں اپنی مقبولیت پیدا کررہا ہے اس کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی راہنمائی کرے ۔آجکل جم اور خوراک کے اخراجات ایک نوجوان کے لیے برادشت کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے کئی باصلاحیت لڑکے اس کھیل سے پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔یحییٰ بٹ نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو جم فراہم کرے اور جو کسی بھی لیول پر چیمپئن بن چکے ہیں یا جو آنے والے وقتوں میں بنیں گے ان کو نوکریاں دی جائیں کیونکہ جو بھی نوجوان اس مقام تک پہنچتا ہے وہ اپنا گھر خالی کرکے پہنچتا ہے اس کی کامیابی پر محض چارسو کی ٹرافی تھما دینا نہ صرف انتہائی زیادتی ہے بلکہ یہ اقدام اس چیمپئن سمیت سبھی نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments