پاکستان میں بیس بال کا مستقبل روشن ہے، خاور شاہ

Pakistan Mian Baseball Ka Mustaqbil Roshan

بیس بال کرکٹ کی ”بہن گیم“ہے،ایشیا میں جلدچوتھی پوزیشن حاصل کرلینگے سالانہ 6لاکھ گرانٹ ملتی ہے لیکن خرچہ 35لاکھ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے سیکرٹری بیس بال فیڈریشن خاورشاہ کا ”اُردوپوائنٹ“ کیلئے خصوصی انٹرویو

منگل 5 اگست 2008

گفتگو۔اعجاز وسیم باکھری: پاکستان میں کرکٹ سب سے مقبول ترین کھیل ہے یہی وجہ ہے کہ ہاکی قومی کھیل ہونے کے باوجود وہ عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرسکا جو کرکٹ کو حاصل ہے۔حالانکہ کرکٹ میں پاکستان نے ایک ورلڈکپ جیتا جبکہ ہاکی میں پاکستان نے چار ورلڈکپ ،تین اولمپک گولڈمیڈل اور تین بار پاکستان نے چیمپئنزٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا مگر اس کے باوجود پاکستانی قوم کرکٹ کی دیوانی ہے اور کرکٹرز کو سب سے زیادہ محبت دی جاتی ہے۔

کرکٹ کے کھیل کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میں کئی دوسرے کھیل دب کر رہ گئے ہیں ان میں ایک کھیل کرکٹ سے ملتا جلتا “بیس بال “ہے۔بیس بال آہستہ آہستہ پاکستان میں مقبولیت حاصل کررہا ہے اور اس آغاز سکول اور کالج لیول پر ہوچکا ہے ۔ بیس بال کے کھیل کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے اور یہ کھیل یہاں کب شروع اور اور کہا ں تک ترقی کرچکا ہے اس بارے میں پاکستان بیس بال فیڈریشن کے سیکرٹری خاور شاہ نے”اُردوپوائنٹ“کودئیے گئے خصوصی انٹرویو کا کہنا تھاکہ پاکستان میں بیس بال کے کھیل کا مستقبل روشن ہے تاہم محدود وسائل اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

(جاری ہے)

خاور شاہ نے بتایاکہ 1992ء کے اوائل انہوں نے ملک میں کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ اندازہ لگایاکہ اگریہاں بیس بال متعارف کرائی جائے تو اس کے بہترین نتائج سامنے آسکتے اور یہ کھیل پاکستان میں ترقی کرسکتا ہے ۔کیونکہ 90فیصد پاکستانی کرکٹ سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اوربیس بال کرکٹ سے ملتا جلتا کھیل ہے اگر یوں کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ بیس بال کرکٹ کی” بہن گیم “ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دوران انٹرنیشنل اولمپک نے بیس بال کو آفیشلز سٹیٹس دیا تو انہوں نے پاکستان میں بیس بال کے کھیل کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جو کہ انتہائی کامیاب تجربہ ثابت ہوا۔92ء میں گوجرانوالہ میں پہلی نیشنل چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کی ٹیمیں شریک ہوئیں جن کی تیاری کیلئے غیرملکی کوچز کو بلایا گیا، یہ ایونٹ پی ٹی وی پر براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوا اور پورے ملک میں اسے بے حد پسندکیا گیا اس کے بعد سے لیکر اب تک بیس بال فیڈریشن سالانہ نیشنل چیمپئن شپ کا انعقاد کرتی چلی آرہی ہے اور اب تک 16نیشنل چیمپئن شپ منعقد کی جاچکی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خاور شاہ نے بتایاکہ پاکستان کی قومی بیس بال کی ٹیم کا قیام 1997ء عمل میں آیا اور پاکستان نے پہلی بار ایشیا کپ میں شرکت کی جہاں قومی ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے دیگر حریف ٹیموں کو اپنی موجودگی کااحساس دلایا۔بعدازاں ہونیوالے ایونٹس میں پاکستان نے لگاتار تین بار دوسری پوزیشن حاصل کی اور 2006ء میں پاکستان ایشیا کپ کا چیمپئن بننے میں کامیاب ہوا۔

اس بار ایشیا کپ کی میزبانی فلپائن کے پاس ہے جہاں قومی ٹیم اپنے اعزاز کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔خاور شاہ نے مزید بتایا کہ پاکستان بیس بال کو اس وقت عروج حاصل ہوا جب موجودہ آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے بیس بال فیڈریشن کی صدرات سنبھالی اور وہ خود سیکرٹری کے عہدے پر فائزتھے ۔ہم دونوں نے ملکر بیس بال کو گراس روٹ پر لیجاکر نہ صرف شائقین میں بیس بال دیکھنے اور کھیلنے کی آمنگ پیدا کی بلکہ اس سے شاندار ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آیا اور اس وقت پاکستان میں چاروں صوبوں سمیت آرمی ،واپڈا،پولیس ،نیوی اور اسلام آباد کی ٹیمیں موجود ہیں جن سے بہترین کھلاڑیوں کو منتخب کرکے قومی ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے اور ایشیا لیول پر پاکستان کوریا ،جاپان اور تائیوان کے بعدچوتھی مضبوط ترین ٹیم سمجھی جاتی ہے۔

جاپان ،کوریا اور تائیوان دنیاکی ٹاپ پانچ ٹیموں میں شامل ہیں اور ایشیا میں ہم ان کے بعدمضبوط ترین حریف سمجھے جاتے ہیں جو کہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے۔انہوں نے کہاکہ ان کی سب سے اولین ترجیح ایشیا میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنا ہے تاہم اس سے قبل پاکستان کو سنیئر ایشین چیمپئن شپ کیلئے کوالیفائی کرنا ہے جو اگلے دو سال تک پاکستان کرنے میں کامیاب ہوجائیگا۔

خاور شاہ نے بتایا انہیں پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے سالانہ 6لاکھ گرانٹ ملتی ہے لیکن سالانہ خرچہ 35لاکھ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے جو وہ اپنی مددآپ کے تحت اور اسپانسر کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہرسال نیشنل چیمپئن شپ کا انعقاد،یوتھ چیمپئن شپ،وویمن چیمپئن شپ اور انٹرڈسٹرکٹ کے ایونٹس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ایک ٹیم کو باہربھیجنے کیلئے 20لاکھ روپے کے قریب خرچہ آتا ہے جو وہ بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان میں دن بدن بیس بال کا کھیل مقبولیت حاصل کررہا ہے۔

خاور شاہ نے کہاکہ وہ پاکستان بین الاقومی ایونٹ منعقد کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی مناسب گراؤنڈ نہیں ہے اگر یہاں گراؤنڈز کی سہولیات میسر ہوں تو پاکستان ایک سال ایک اندر ایشیا میں چوتھی پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کے پاس بیس بال کے چار ہزار گراؤنڈ ہیں اور پاکستان کے پاس ایک بھی نہیں ہے اس کے باوجود ہم ایشیاکپ کے فاتح ہیں۔

خاور شاہ نے کہاکہ وہ بھارتی ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دے چکے ہیں اور اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان ہرسال میں سیریز کا انعقاد ممکن ہوجاتا ہے تو اس سے تمام مالی مسائل حل ہوجائیں گے۔خاور شاہ نے بتایا کہ سپورٹس بورڈ بیس بال کیلئے گراؤنڈ تیار کرنے کا پروگرام شرو ع کرچکا ہے جب گراؤنڈ ز تیار ہوجائیں گے تو بھارت سمیت تمام دیگر بین الاقومی ٹیموں کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائیگی۔

انہوں نے کہاکہ وہ پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ کرکٹ ون ڈے گیم ہے اور بیس بال ٹونٹی ٹونٹی کھیل ہے اور اب یہ ٹونٹی کرکٹ کی مقبولیت سے ثابت بھی ہوچکا ہے ۔خاورشاہ کے مطابق کہ وہ گراس روٹ لیول سے بیس بال کی ترقی کیلئے محنت کررہے ہیں تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ ایک بہترین سسٹم لایا جائے اوریہ سسٹم لانا محض فیڈریشن کے بس کی بات نہیں ہے اس کیلئے حکومتی سطح پراقدامات اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم محدود وسائل کے باوجود محنت کررہے ہیں اورانہیں پورا یقین ہے کہ مستقبل قریب میں کرکٹ کے بعد بیس بال پاکستان کا دوسرا بڑا مقبول ترین کھیل ہوگا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments