3g and 4g auction dates announced

تھری جی اور فور جی کی نیلامی 23 اپریل کو کی جائے گی

3g and 4g auction dates announced

اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسپیکٹرم آکشن ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان، وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود اور سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اخلاق تارڑ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں تھری اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، حکام نے وزیر خزانہ کو بتایا کہ تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی 23 اپریل کو ہوگی جبکہ تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی خریداری کے لئے خواہشمند کمپنیاں سیل شُدہ بڈز 14 اپریل 2014 تک پی ٹی اے کو جمع کرواسکیں گی۔



اس موقع پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ صارفین کو بین الاقوامی معیار کی سروسز فراہم کی جائیں، انہوں نے چیرمین پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ تھری اور فور جی ٹیکنالوجی اور اس کے فوائد کے حوالے سے عوام میں آگاہی مہم شروع کی جائے اور اسپیکٹرم کی نیلامی کے تمام مراحل مکمل طور پر صاف وشفاف طریقے سے مکمل کئے جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلی نسل کے لئے موبائل نیٹ ورک ترقی(نیکسٹ جنریشن موبائل نیٹ ورک ڈویلپمنٹ) کے لئے پی ٹی اے تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی مسابقتی نیلامی کو یقینی بنائے گا۔

اجلاس میں چئرمین پی ٹی اے سید اسماعیل شاہ نے تھری جی اور فور جی کے لائنسنسز کی نیلامی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تھری جی اور فور جی کے آنے کے بعد ڈیٹا ڈاؤن لوڈنگ کی اسپیڈ میں اضافہ ہوگا اور صارفین کے لئے مختلف قسم کی نئی ایپلیکیشنز دستیاب ہوں گی، اس ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


اس سے قبل اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ موبائل آپریٹرز کو اس نیلامی پر سخت تحفظات ہیں، اور وہ نہیں چاہتے کہ حکومتی شرائط پر نیلامی ہو.ملک میں بڑے ٹیلی کام آپریٹروں کی جانب سے بنیادی اعتراضات میں تھری جی لائسنسوں کی قیمت،ادائیگی، ادائیگیوں کے طریقہ کار لائسنسوں کے حصول،قیمت اور ادائیگی کے حوالے سے شرائط اور ان لائسنسوں کی تعداد جیسے معاملات شامل تھے،ملک میں بڑے ٹیلی کام آپریٹروں کو سب سے بڑا اعتراض اس امر پر ہے کہ وہ ٹیلی کام آپریٹروں جو کہ پہلے ہی مارکیٹ میں کام کررہے ہیں اور ٹوجی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ان کو تھری جی اور فور جی سہولیات کی فراہمی کیلئے علیحدہ سے لائسنس لینا ہوگا اس نئے لائسنس کے حصول کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ لائسنس سے ہٹ کر بھی علیحدہ سے ایک فریم ورک تشکیل دینا پڑے گا.

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت نے ان تمام اعتراضات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے کہ نہیں. اگر نہیں کروائی تو اس نیلامی پر بہت سے شکوک و شبہات جنم لیں گے.

تاریخ اشاعت: 2014-03-13

Your Thoughts and Comments