Pakistan will enter in new era of information technology-Anusha rehman

تھری جی نیلامی سے ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوا، اگلے پانچ سالوں میں9لاکھ ملازمتیں میسر آئیں گی

Pakistan will enter in new era of information technology-Anusha rehman

وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں تھر ی جی اور فور جی سپیکٹرم کی کا میاب اور شفاف نیلامی سے پوری قوم کی ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ایک مزدور سے لے کر ٹیلی کام انجینئر تک سب کو یکساں طور پر روزگار کے مواقع میسر آئیں ۔ ایک سٹڈی کے مطابق اگلے پانچ سالوں میں9لاکھ ملازمتیں میسر آئیں گی، کاروباری اور معاشی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔

خبر رساں ادارے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں آئی ٹی کی ترقی کا باب تحریر کرنے اور اب اسے عملی جامہ پہنانے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا ۔ہمارا عزم تھا کہ پاکستان کے عوام کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسی ٹیلی کام کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے اللہ تعا ٰلی کا شکر ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور اپنی حکومت کے پہلے ہی سال میں اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔

(جاری ہے)

وزیر مملکت نے کہا کہ تھری جی اور فور جی کی نیلامی کے عمل کی خوش اسلوبی سے مکمل ہونے کے بعداب ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کہ ملک کے دوردراز علاقوں میں بھی اس کا فروغ کروائیں تاکہ ان علاقوں میں رہنے والے بھی آن لائن صحت، تعلیم زراعت اورتجارت کی سہولتوں سے مستفید ہو سکیں۔ایک سوال کے جواب میں انوشہ رحمان نے کہا کہ ماضی کی طرح اب منصوبے صرف فائلوں میں بند نہیں رہیں گے بلکہ عمل درآمد ہو گا اور سب کو نظر آئے گا انہوں نے کہا تھری جی اور4جی کے لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنیوں سے بہت جلد75فیصدرقم بجٹ سے پیشتر ملنے کی توقع ہے ۔

تھری جی اورفورجی اسپکٹرم کی نیلامی سے ہمارا سفر شروع ہوا ہے، وزیراعظم نواز شریف نیلامی کے نتائج سے مطمئن اورخوش ہیں۔پوری قوم اس کوکامیابی کے طورپرمنارہی ہے جدید موبائل ٹیکنالوجی سے زراعت، تعلیم اورصحت کے شعبوں میں انقلاب آئیگا۔ انہوں نے کہاکہ زونگ نے اپنے لائسنسوں کی 100فیصدفیس کی ادائیگی پرآمادگی ظاہر کی ہے اور وہ یہ رقم ڈالرز کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگلے دو تین سال میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب آئیگاہمارے پاس تین قسم کے فنڈ موجود ہیں جن میں یو ایس ایف، آر این ڈی اور پاکستان سافٹ ویئرایکسپورٹ بورڈ شامل ہیں ۔ یو ایس ایف بورڈ کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹیلی سنٹر کے قیام ،آپٹک فائیبر کی تنصیب اور رورل ٹیلی فونی جیسے تین بڑے پراجیکٹ پر کام کریں گے ۔ فاٹامیں بھی فون سروس شروع کی جائے گی اب وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ہنگامی بنیادوں پر کام ہو گا اسلام آباد ،لاہور اورکراچی میں ٹیکنالوجی پارک بنائے جائیں گے

انہوں نے کہاکہ اب ایسی اپلیکیشنزپر توجہ ہونی چاہئیے جس کے ذریعے لوگ اپنے موبائل فون سے ہی صحت ،تعلیم،زراعت اور سیکیورٹی کی سہولیات حاصل کرسکیں انہوں نے کہاکہ ابھی صرف انفراسٹرکچر بڑھانے پرکام ہو رہا ہے جتنی موبائل کمپنیوں سے بات ہوئی ہے وہ ای ہیلتھ،ای ایجوکیشن،ای ایگریکلچر ،ای گورنمنٹ ،ٹیلی میڈیسن اور ایم کامرس جیسے منصوبوں میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں موبائل فون کی تیاری سے لوگوں کو سستے موبائل ملیں گے کیونکہ اس پر امپورٹ ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اس حوالے سے ہم نے مختلف کمپنیوں کو پاکستان میں مقامی مینو فیکچرنگ کی دعوت دی ہے کہ وہ ٹیلی فون انڈسٹریز پاکستان میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے موبائل فون کی تیاری کریں۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ سمارٹ فون بنانے والی تمام کمپنیوں کو ملک میں سیلزسینٹرکھولنے کی دعوت دے رہے ہیں، تاکہ ملک میں سمگل شدہ فون کی فروخت روکی جا سکے اور کمپنیاں بعد از فروخت سروس،گارنٹی جیسی سہولیات صارفین کو مہیا کریں اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جائز طریقے سے اپنا کاروبار چلائیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائسنس فیس کی ادائیگی کے بعد لائسنسز کااجراء کر دیا جائے گا اور لائسنس جاری ہوتے ہی 3-Gسروسز کا آغاز ہو جائے گا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کمیونیکیشن کا یہ ہائی وے شہروں اور دیہاتوں کو مساوی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں ٹیلی کام کا حصہ 1.8فیصد تک متوقع ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-04-27

Your Thoughts and Comments