PTA Receives Notice from FBR

تھری اور فورجی نیلامی، 10ارب 88 کروڑ کا ایڈوانس ٹیکس نہ دینے پر پی ٹی اے کو نوٹس جاری

PTA Receives Notice from FBR

ایف بی آر نے تھری جی اورفورجی اسپیکٹرم کی نیلامی کی رقم پر10 ارب 88 کروڑ33لاکھ79ہزار600روپے ایڈوانس ٹیکس کی عدم ادائیگی پرپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کو شوکاز نوٹس جاری کردیااورٹیکس جمع کروانے کا ثبوت فراہم نہ کرنے پرٹیکس ڈیفالٹر قرار دے کرڈیفالٹ سرچارج وصول کرنے کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے پرنسپل آفیسر کو جاری کردہ شوکاز نوٹس کی کاپی کے مطابق ایف بی آرکی طرف سیپی ٹی اے سے کہا گیاہے کہ اس سے قبل لارج ٹیکس پیئریونٹ(ایل ٹی یو) کے چیف کمشنر کی طرف سے18اپریل 2014کولکھے جانے والے لیٹر نمبر CC/LTU/2014/2564کے ذریعے پی ٹی اے سے کہا گیاتھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 236اے کے تحت پاکستان میں وفاقی حکومت،مقامی حکومت،کسی بھی اتھارٹی یا سیکشن اسی کی ذیلی شق نمبر2کی کلاز بی کی ذیلی کلاز6کے تحت کمپنی قرار پانے والی غیرملکی ایسوسی ایشن یاغیر ملکی کنٹریکٹروکنسلٹنٹ یا کنسورشیئم کی جانے والی کسی بھی قسم کی نیلامی کی فائنل پرائس پر10فیصد ایڈوانس ٹیکس عائدہوتاہے جو کہ متعلقہ ادارے نے کٹوتی کرکے قومی خزانے میں جمع کرواناہوتاہے اور یہ10فیصد ایڈوانس ٹیکس نیلام کی جانے والی جائیداد ،یا کسی بھی چیزکی سیل پرائس پرلگایاجاتاہے ۔

(جاری ہے)


لہٰذا پی ٹی اے کی طرف سے فروخت کیے جانیوالے تھری جی اور فور جی کے لائنسنس کی مجموعی مالیت ایک کھرب 8 ارب 83کروڑ37لاکھ 96ہزار روپے بنتی ہے جس پر10ارب 88کروڑ33لاکھ 79ہزار600روپے ایڈوانس ٹیکس بنتاہے،لیٹر میں پی ٹی اے سے کہا گیاکہ اگر پی ٹی اے نے مذکورہ ایڈوانس ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروایاہے تو ٹیکس پیمنٹ چالان اورچی پی آر کی صورت میں اس کاثبوت فراہم کیاجائے.
ایف بی آرکی طرف سے پی ٹی اے کولکھے گئے لیٹر میں مزیدکہا گیاکہ اگرمذکورہ ٹیکس کی رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کاثبوت فراہم نہ کیاگیا تواس صورت میں انکم ٹیکس آرڈیننس2001کی سیکشن 161کے تحت ٹیکس نادہندہ قرار دیا جائے گا اور ٹیکس نادہندہ ہونے کی صورت میں انکم ٹیکس آرڈیننس2001کی سیکشن205کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی وصول کیا جائے گا.

تاریخ اشاعت: 2014-05-02

Your Thoughts and Comments