AI-algorithms identify pedophiles for the police — here’s how it works

مصنوعی ذہانت کا الگورتھم بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے سکتا ہے

AI-algorithms identify pedophiles for the police — here’s how it works
بچوں سے زیادتی  کے کیسز میں، خاص کر جب ان کی فوٹیج انٹرنیٹ پر پھیلا دی جائے،  بعض دفعہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے کونے میں رکھا پلاسٹک بیگ اور فرش کا قالین بھی  مجرموں کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کرتے ہیں۔
ایک ڈچ شہری لیون ڈی کو 2011 میں ایک چرچ کی کھڑکی کی وجہ سے گرفتار کیا جا سکا تھا ۔ لیون پر دو نوجوانوں سے زیادتی اور اس کی فوٹیج پھیلانے کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

لیون  ڈی کی پھیلائی گئی  پورنو گرافک ویڈیوز میں کمرے کے باہر ایک چرچ کی کھڑکی دکھائی دیتی تھی۔ ڈچ پولیس نے محققین کے ساتھ مل کر ایک الگورتھم بنایا اور گوگل ارتھ کی مدد سے اس چرچ کو ڈھونڈ نکالا۔ یہ چرچ ایک چھوٹے سے قصبے ڈین بومل میں واقع تھا اور لیون ڈی کا گھر اس کے ساتھ ہی گلی کے پار تھا۔
اسی طرح 83 بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ڈے کیئر سنٹر کے ملازم روبرٹ ایم کا کیس بھی یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے محققین نے مارسل وورنگ کی قیادت  میں  حل کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

وورنگ یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم میں انفارمیٹکس انسٹی ٹیوٹ کےڈائریکٹر اور بزنس اینا لیٹکس کے لیے ڈیٹا سائنس کے پروفیسر  ہیں۔
وورنگ اور ان کی ٹیم نے ایک الگورتھم ڈویلپ کیا ہے۔ یہ الگورتھم پورنوگرافک ویڈیو میں موجود چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے بستر اور ٹیڈی بیئر کو شناخت کر سکتا ہے۔
یہ ویسا ہی سسٹم ہے جیسا گوگل فوٹو تصاویر کی درجہ بندی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔


کمپیوٹر کو بچوں سے زیادتی کے حوالے سے سکھا کر ماہرین بہت سی تصاویر سے زیادتی والی تصاویر شناخت کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پرائیویسی وجوہات کی بنا پر ماہرین کے ساتھ ایسی تصاویر زیادہ شیئر نہیں کی جاتی۔
یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے محققین ایک دوسرے الگورتھم پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ الگورتھم تصاویر کو ٹیکسٹ میں بدلتا ہے یعنی تصویر میں ہونے واقعے کو ٹیکسٹ کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

اگر یہ الگورتھم ”بچہ بستر پر ہے“ جیسے فقرے بتائے تو محققین کی تلاش آسان ہو جاتی ہے۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جیسے گوگل، آئی بی ای اور فیس بک، اپنے طور پر اس طرح کے ٹولز پر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر یہ ٹولز سب سے لیے اوپن بھی ہوتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کی تخلیق PhotoDNA بھی ہر تصویر، ویڈیو یا آڈیو فائل پر سگنیچر (یا ہیش) شامل کر کے ان کا دوسرے مواد سے تقابل کرتا ہے۔

اسی طرح گوگل کا ایک ٹولز بھی نئے مواد کا پہلے سے موجود مواد سے تقابل کرتا ہے۔
ڈچ پولیس کے لیے کام کرنے والے محقق پیٹر ڈوئن نے بتایا کہ مائیکروسافٹ اور گوگل کےٹولز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستیاب ہیں لیکن انہیں استعمال کرنا الگ مسئلہ ہے۔ پیٹر نے بتایا کہ چاہے گوگل کلاؤڈ جتنا مرضی محفوظ ہو، پرائیویسی کی وجوہات کی بنا پر وہ تصاویر کو اپ لوڈ نہیں کر سکتے۔ پیٹر نے بتایا کہ جب انہیں 100 فیصد یقین ہو کہ وہ گوگل پراڈکٹ کے استعمال سے کیس حل کر لیں گے تو پھر وہ گوگل کلاؤڈ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2018-11-08

Your Thoughts and Comments