Hackers and governments can see you through your phone

ہیکرز کے لیے سمارٹ فونز ہیک کرنا کتنا آسان ہے؟

Hackers and governments can see you through your phone

کسی کے لیے سمارٹ فون ہیک کرنا اور فون کا کیمرہ آن کر کے صارفین کی حرکات پر نظر رکھنا کتنا آسان ہے ؟
مشہور کتاب The Art of Invisibility کے مصنف کیون مٹنک نے ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فون ہیک کرنے کے دو آسان طریقےہیں۔ پہلا تو یہ کہ کوئی آپ کے فون تک حقیقت میں رسائی رکھتا ہو۔مثال کے طور پر کوئی آپ کے آئی فون تک رسائی رکھتا ہو اور اسے اس کا پاس کوڈ بھی معلوم ہو تووہ انٹرنیٹ کی کسی ویب سائٹ سے سپائی سافٹ وئیر کی مدد سے سمارٹ فون صارف پر نظر رکھ سکتا ہے۔

وہ شخص ایس ایم ایس پڑھ سکتا ہے، کیمرہ چلا سکتا ہے، حتیٰ کہ وہ میسج بھی پڑھ سکتاہے جو ڈیلیٹ کیےجا چکے ہوں، اس کے علاوہ صارف کی فون کالز بھی سنی جا سکتیں ہیں۔ اس طریقے کی مدد سے صارف کی لوکیشن بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ ایسا کرنے کے لیے فون تک اصل میں رسائی ہونا ضروری ہے۔اس طریقہ کو زیادہ تر شکی مزاج شوہر یا بیوی استعمال کرتےہیں۔


فون کو ہیک کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فون میں آپریٹنگ سسٹم کی خرابی کو استعمال میں لاتےہوئے ریموٹلی فون کو کنٹرول کرنا۔ یہ طریقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، جیسے ایف بی آئی یا این ایس اے وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ادارے فون کے آپریٹنگ سسٹم میں موجود خرابیوں کی کھوج میں بھی رہتےہیں۔ آئی او ایس کی خرابی استعمال کرنے پر 15 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔

اینڈروئیڈ فون کو ہیک کرنا نسبتاً سستا ہے۔ اس کے لیے ایجنسیوں کے دو لاکھ ڈالر تک خرچ ہوتے ہیں، جو ظاہر ہے کہ لامحدود ذرائع رکھنے والے ملکوں کے لیے زیادہ بڑی رقم نہیں ہے۔ حکومتی ادارے کسی بھی شخص کا فون اس خفیہ طریقے سے ہیک کرتے ہیں کہ فون استعمال کرنے والے کو اس کا شک تک نہیں ہوتا۔ فون میں مال وئیر ہے یا نہیں، یہ معلوم کرنے کا کوئی موثر طریقہ نہیں۔

ہاں شک ہونے پر یا وقتاً فوقتاً صارفین کو حفاظتی اقدامات کرنے چاہیے۔سب سے پہلے تو صارفین کو جدید ترین آپریٹنگ سسٹم پر اپ گریڈ کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایسا مضبوط پاس کوڈ یا پاس ورڈ استعمال کرنا چاہیے جو کسی دوسرے کو معلوم نہ ہو۔ جب بھی آپ کو شک گزرے کہ فون میں مال وئیر ہے تو فوراً ہی اسے فیکٹری سیٹنگ پر ری سٹور کردینا چاہیے۔ بہتر تو یہی ہے کہ ہر کچھ ماہ بعد فون کو فیکٹری سیٹنگ پر ری لوڈ کر دیا جائے تاکہ اس میں جو بھی مال وئیر ہوں وہ آف ہو جائیں۔

تاریخ اشاعت: 2017-03-07

Your Thoughts and Comments