Hackers receive client list casino via a thermometer

تھرما میٹر کی مدد سے جوئے خانے کا اہم ڈیٹا ہیکروں کے ہتھے لگ گیا

Hackers receive client list casino via a thermometer

ایک سائبر سیکورٹی کمپنی ڈارک ٹریس کی سی ای او نکول ایجان نے ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہیکروں نے ایک تھرما میٹر سے جوئے خانے میں جوا کھیلنے والے بڑے کھلاڑیوں کو ڈیٹا ہیک کر لیا۔
سننے میں شاید یہ آپ کو کافی عجیب لگے لیکن اگر آپ انٹرنیٹ آف تھنگز کے شعبے میں ہونےو الی ترقی اور اس حوالے سے سامنے آنے والے ماہرین کے تحظات کے بارے میں خبر رکھتے ہیں تو یہ آپ کے لیے عجیب نہیں ہو گا۔


ڈیٹاہیکنگ کی اس کاروائی میں ہیکروں نے ایک جوئے خانے کے ایکوریم میں لگے تھرما میٹر کو نشانہ بنایا۔ انٹرنیٹ سے جڑے اس سمارٹ تھرما میٹر کی مدد سے ہیکر جوئے خانےکے نیٹ ورک میں داخل ہوئے اور پھر جو چاہا حاصل کر لیا۔
نیٹ ورک میں داخل ہو کر ہیکروں نے جوئے خانے میں زیادہ خرچ کرنے والے افراد کی لسٹ اڑا لی۔

(جاری ہے)

ڈارک ٹریس کی سی ای او نے یہ تو نہیں بتایا کہ جوئے خانے کو اس واردات کا کیسے پتا چلا لیکن یہ پتا چل گیا کہ روایتی سیکورٹی کمپنیاں بہت سی عام نظر آنے والی چیزوں پر توجہ نہیں دیتی اور ہیکر انہیں کا استعمال کرتے ہوئے سسٹم میں گھس جاتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کیمرے، ٹمپریچر سسٹم، ائیر کنڈیشن، فریزر حتیٰ کہ ایمزون ایکو بھی نیٹ ورک میں ہیکروں کے داخلے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز کی سیکورٹی کے لیے ایک سٹینڈرڈ معیار ہونا چاہیے۔ آپ اسے مارکیٹ یعنی ڈیوائسز بنانے والوں پر چھوڑ سکتے ہیں لیکن وہ ایسے معیار لاگو نہیں کر رہے۔ برطانوی جی سی ایچ کیو کے ایک سابق باس نے بتایا کہ ایک بنک میں ڈکیتی کی واردات صرف اس وجہ سے کامیاب ہوئی ، کیونکہ بنک نے پیسے بچانے کے لیے سستے سیکورٹی کیمرہ استعمال کیے تھے۔

تاریخ اشاعت: 2018-04-15

Your Thoughts and Comments