Lahore Traffic Police Experimenting With An E-Ticketing System

لاہور پولیس کا ٹریفک چالان کیلئے ای ٹکٹنگ سسٹم متعارف!!!

Lahore Traffic Police Experimenting With An E-Ticketing System

اگر آپ لاہور کے رہنے والے ہیں اور ٹریفک کے ضابطوں کی پاسداری کے حوالے لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو آپ کا اگلا چالان ڈیجیٹل فارمیٹ میں ہوگا۔لاہور کی ٹریفک پولیس تجرباتی طور پر الیکٹرانک ٹکٹنگ سسٹم پر کام کر رہی ہے۔
نئے نظام کے متعارف کرانے کا مقصد کاغذی چالان کے نظام میں موجودخامیوں کا سدباب ہے۔تخمینے کے مطابق لاہور میں ٹریفک کے نظام کو منظم رکھنے کے لیے 2200 ٹریفک وارڈن دن رات کام کر رہے ہیں۔

ان میں سے بہت سے افراد کو چالان بک کے غلط استعمال اور کچھ کو کاغذی ریکارڈ میں ردوبدل کرنےپر سزائیں اور جرمانے بھی ہوئے ہیں۔کاغذی چالان کے نظام میں شہریوں کو بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، سب سے زیادہ پریشانی تو اپنے ضبط شدہ کاغذات کی واپسی کے لیے اِدھر اُدھر دھکے کھانے کی ہے۔

(جاری ہے)


ای ٹکٹنگ کے نظام میں سڑکوں پر موجودافسران کے چالان کرنے کی تمام کاروائی کا ریکارڈ ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں رکھا جائے گا جس کی وجہ سے ردوبدل کا بھی کوئی چانس نہیں۔

جی پی ایس سسٹم کی بدولت وارڈن کی لوکیشن اور کارکردگی کا بھی پتہ چلتا رہے گا۔
ابتدائی مرحلے پر اس نظام کو ایک ماہ کے لیے چلایا جائے گا۔اس نظام پر کام کرنے کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈنے ٹریفک پولیس کو 20 اینڈریوڈ سمارٹ فونز اور 20 چھوٹے پرنٹردئیے ہیں ۔چیف ٹریفک آفیسر سہیل چوہدری نےکہاہے کہ ایک ماہ میں ٹریفک کے نظام میں موجود تمام خامیاں سامنے آ جائیں گی۔


اس نظام میں ورڈن اینڈریوڈ ایپلی کیشن کے مختلف آپشن منتخب کر کے اپنا کام تیزی سے سرانجام دے سکیں گے۔

ان آپشنز میں
· گاڑی کی قسم
· جرمانے کی رقم
· لائسنس کی کیفیت
شامل ہیں۔ اس کے بعد یہ تمام ڈیٹا ایک پرچی پر پرنٹ کر کے موقع پر ہی ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والے کے حوالےکر دیا جائے گا۔ اس نظام کا سب سے بڑا خاصہ یہ ہے کہ جرمانے کی رقم فوراً ہی موقع پر ادا کی جا سکے گی۔

جس سے شہری بنکوں کی لائنوں میں دھکے کھانے سے بچ جائیں گے۔جرمانے کی رقم جمع کرانے کی ذمہ دار ٹریفک آفیسر کے کندھوں پر آن پڑی ہے کہ وہ اسے اپنے ٹریفک سنٹر پر جمع کرائے گا۔
یہ نظام کتنا کارگر ہو گا ، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ اس نظام کی بدولت ٹریفک کے نظام میں موجود خامیاں ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائیں گی۔

تاریخ اشاعت: 2015-02-06

Your Thoughts and Comments