Puma wants to let you try its new Fi self-lacing shoes

پوما کے نئے جوتوں میں تسمے باندھنےکی ضرورت نہیں۔ یہ کام خود جوتا کرے گا

Puma wants to let you try its new Fi self-lacing shoes
نائیک نے 350 ڈالر میں تسمے باندھنے میں خود کار جوتے  ایڈاپٹ  بی بی (Adapt BB) متعارف کرائے تو پوما نے بھی  اپنے مخالف کے مقابلے میں خود  کار جوتے متعارف کرا دئیے ہیں ۔دونوں کمپنیوں نے اس سے پہلے بھی 2015ء میں خود کارطور پر تسمے بندھنے والے جوتے متعارف کرائے تھے لیکن اس وقت وہ زیادہ بھاری اور عام صارفین کی پہنچ سےباہر تھے۔ اب پوما نے فائی (Fi) یا ایف آئی (F-I) یا  فٹ انٹیلی جنس (Fit Intelligence) جوتے تخلیق کیے ہیں۔


پوما نے ان جوتوں کی تیاری میں تین سال لگائے ہیں۔ انہیں 2020 کے بہار کے موسم میں صارفین کےلیے پیش کیا جائے گا۔ تب ان جوتوں کے ایک جوڑے کی قیمت 330 ڈالر ہوگی۔
نائیک کے برعکس پوما کےجوتوں کا انحصار اس کی اوپری طرف موجود کورڈلیس موٹر پر ہے۔ اس کے تسموں کے لیے جو میٹریل استعمال کیا گیا ہے وہ دفاعی اور تجارتی ماہی گیری میں استعمال ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

جوتوں کی بیٹری کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ بیٹری کو Qi وائرلیس چارجنگ سے بھی چارج کیا سکتا ہے یا باہر نکال کر ڈوئل بیٹری چارجنگ کیس میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
اس جوتے کو استعمال کرنا کافی آسان ہے۔ جوتوں کےتسمے باندھنے کے لیے اس کی سٹریپ پر سوائپ کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد باقی کام موٹر خود کر لیتی ہے۔ جوتوں کو آئی فون یا آئی واچ ایپ سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ایپ سے جوتوں کی بیٹری کا سٹیٹس بھی معلوم ہوجاتا ہے۔
پوما کا کہنا ہے کہ فائی کے ہر جوتے کا وزن 428 گرام ہے، جس میں سے 45 گرام تو الیکٹرونکس اور مکینیکل پارٹس کا وزن ہے۔ ان جوتوں کی بیٹری ایک بار چارج ہونے کے بعد پانچ سے سات دن چل سکتی ہے۔ ایک دفعہ بیٹری کی چارجنگ ختم ہوجائے تو اسے دوبارہ چارج کرنے میں 90 سے 120 منٹ لگتے ہیں۔
چونکہ یہ جوتے اگلے سال بہار کے موسم میں عام صارفین کے لیے پیش کیے جائیں گے تب تک کمپنی نہیں بیٹا پروگرام کےتحت صارفین کو فراہم کرے گی تاکہ اُن کے فیڈ بیک سے اس میں نئے فیچرز بھی شامل کیے جا سکیں۔
Puma wants to let you try its new Fi self-lacing shoes
تاریخ اشاعت: 2019-02-02

Your Thoughts and Comments