بند کریں
بدھ جون

مزید مضامین

حالیہ تبصرے

اویس رضا 30-03-2018 12:41:06

مجھے شامی کے موبائل اچھے لگتے ہیں اور اردو پوائنٹ کی خبریں آسان اور اردو میں ہوتی ہیں، آسان ویپ سائیڈ ہے ٹیکنالوجی ٹپش تیمور میری ویب سائیڈ ہے

  مضمون دیکھئیے
dr anwar kama ch 06-03-2018 15:26:22

very fruit full

  مضمون دیکھئیے
Ar. Tauseef Amjad Meer. 25-01-2018 11:30:55

Its IT Technology day by day improvements, thank you for acknlowdge publicly awareness

  مضمون دیکھئیے
Shafiq rehman 31-08-2017 11:15:33

Agr yh Sach Hai to Boht hii A6i Khabr Hai Agr fake hai to Fitty Muh

  مضمون دیکھئیے
muhammad ather 11-08-2017 14:28:02

mjhe technology sikhne ka bht shok he sir

  مضمون دیکھئیے
Syed Mudasar Hassan Shah 12-06-2017 11:15:24

good news

  مضمون دیکھئیے
چینی حکام نے آئی فون ڈیٹا چوروں کو دھر لیا
چوری شدہ ڈیٹا کی فروخت سے چوروں نے کئی ملین ڈالر کما لیے

بلیک مارکیٹ میں صارفین کا ڈیٹا ہاتھوں خریدا جاتا ہے۔ویسے تو صارفین کا ڈیٹا کئی طرح کی ڈیوائس اور سورسز سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن آج کل سمارٹ فون اس کا سب سے اہم سورس ہے۔ اسی کی مدد سے صارفین کی حساس معلومات چرا کر فروخت کی جاتی ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین میں یہ کام زوروں پر ہے۔
چین کے صوبے ژجیانگ میں حکام نے مئی میں 22 مشتبہ چوروں کو پکڑا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایپل کے ڈیٹا بیس سے صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے فروخت کیا ہے۔ یہ تمام چور اصل میں ایپل کے تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹر تھے اور ان کی ایپل کے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی تھی۔ اس ڈیٹا میں فون نمبر اور ایپل آئی ڈیز وغیرہ شامل ہیں۔
یہ چور ایک صارف کا ڈیٹا 1.50 ڈالر سے 26 ڈالر تک فروخت کرتے تھے۔ اس کام سےانہوں نے 7.3 ملین ڈالر کمائے ہیں۔ ان چوریوں سے متاثر ہونے والے صارفین کی تعداد کا معلوم نہیں ہوا اور نہ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا ہے اُن کا تعلق چین سے ہے یا چین سے باہر کسی ملک سے۔
یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ایپل نے ان گرفتاریوں کے بعد کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔

یہ خبر اُردو پوائنٹ پر شائع کی گئی۔ خبر کی مزید تفصیل پڑھنے کیلئے کلک کیجئے
تاریخ اشاعت: 2017-06-13

: متعلقہ عنوان

متعلقہ مضامین