بند کریں
منگل اپریل

مزید مضامین

حالیہ تبصرے

اویس رضا 30-03-2018 12:41:06

مجھے شامی کے موبائل اچھے لگتے ہیں اور اردو پوائنٹ کی خبریں آسان اور اردو میں ہوتی ہیں، آسان ویپ سائیڈ ہے ٹیکنالوجی ٹپش تیمور میری ویب سائیڈ ہے

  مضمون دیکھئیے
dr anwar kama ch 06-03-2018 15:26:22

very fruit full

  مضمون دیکھئیے
Ar. Tauseef Amjad Meer. 25-01-2018 11:30:55

Its IT Technology day by day improvements, thank you for acknlowdge publicly awareness

  مضمون دیکھئیے
Shafiq rehman 31-08-2017 11:15:33

Agr yh Sach Hai to Boht hii A6i Khabr Hai Agr fake hai to Fitty Muh

  مضمون دیکھئیے
muhammad ather 11-08-2017 14:28:02

mjhe technology sikhne ka bht shok he sir

  مضمون دیکھئیے
Syed Mudasar Hassan Shah 12-06-2017 11:15:24

good news

  مضمون دیکھئیے
فیس زم ایپلی کیشن سے کسی بھی اجنبی شخص کو چند سیکنڈوں میں شناخت کرنے کا دعویٰ جھوٹ نکلا
ایپلی کیشن کا دعویٰ تھا کہ کسی اجنبی کی تصویر بنا کر سیکنڈوں اس کا فیس بک پروفائل دیکھا جا سکتا ہے

کچھ دنوں پہلے ایک برطانوی کاروباری شخص نے ایسی ایپلی کیشن بنانے کا دعویٰ کیا تھا ، جس سے کوئی بھی شخص کسی بھی اجنبی کی تصویر بنا کر سیکنڈوں میں اس کے فیس بک پروفائل کا یوآرایل جا ن سکتا تھا۔
فیس زم(Facezam) نامی اس ایپلی کیشن کو 21 مارچ کو آئی او ایس کےلیے جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔فیس زم کا دعویٰ تھا کہ یہ ڈیٹابیس فار ڈویلپرز کے ذریعے فیس بک کی اربوں تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتےہیں۔


فیس زم کی ویب سائٹ کا دعویٰ تھا کہ ایپلی کیشن کسی بھی تصویر کو 70 فیصد درستی کے ساتھ فیس بک سے ڈھونڈ سکتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر کسی نے تصویر میں ہیٹ یا عینک پہنی ہو یا سر پر بال ہوں تو درستی کا تناسب55 فیصد تک ہوتا ہے۔فیس زم کا دعویٰ تھا کہ ٹرین میں ملنے والی کسی خوبصورت لڑکی کی تصویر بنا کر ایپلی کیشن کی مدد سے صرف چند سیکنڈوں میں اس کے فیس بک پروفائل تک پہنچا جا سکتا ہے۔


فیس زم کا اعلان ہوتے ہی پرائیویسی کے حوالے سےحساس گروپوں نے اس پر کافی تنقید بھی کی تھی۔ فیس بک کا بھی کہنا تھا کہ اس طرح کی ایپلی کیشن ڈویلپ کرنا فیس بک کے شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔معاملہ اس حد تک بڑھا کہ فیس بک اور انسٹا گرام کو اس ہفتے ایک نئی پالیسی متعارف کرانی پڑی ، جس کے تحت لوگوں کو پوسٹوں کو اُن کی جاسوسی کےلیے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔


کئی دن تک خبروں میں رہنے کے بعد فیس زم کا پول کھل ہی گیا۔ اب معلوم ہوگیا ہے کہ یہ ایپلی کیشن برطانوی مارکیٹنگ ایجنسی کا شہرت حاصل کرنے کا سٹنٹ تھا۔
فیس بک کے ڈپٹی چیف پرائیویسی آفیسر روب شرمن نے بھی اپنی ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ یہ ایپ توجہ حاصل کرنے کی افواہ تھی، نہ کہ حقیقت میں ایسی کوئی ایپ متعارف کرائی جا رہی ہے۔
فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لوگ ہم پر اپنی پرائیویسی اور معلومات کی حفاظت کے حوالے سے اعتماد کرتےہیں اور اس طرح کی سرگرمی ہماری شرائط کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے فائنڈ فیس نام سے اسی طرح کی ایک ایپلی کیشن روسی سوشل میڈیا سائٹ VK.com کے لیے بھی متعارف کرائی جا چکی ہے۔

یہ خبر اُردو پوائنٹ پر شائع کی گئی۔ خبر کی مزید تفصیل پڑھنے کیلئے کلک کیجئے
تاریخ اشاعت: 2017-03-15

: متعلقہ عنوان

مینوفیکچرر کا نام     :     فیس بک

فیس بک کے مزید عنوان پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

متعلقہ مضامین