WikiLeaks opens its doors to whistleblowers

ویکی لیکس نے دوبارہ لیکس شروع کر دی

WikiLeaks opens its doors to whistleblowers

پانچ سال تک مشکلات کا شکار اور الزامات کی زد میں رہنے کے بعد ویکی لیکس نے دوبارہ سے خفیہ معلومات فراہم کرنی شروع کر دی ہیں۔ ویکی لیکس سائٹ کے نئے بیٹا ورژن میں آج سے” نامعلوم“ افراد نے ڈیٹا اپ لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔ویکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف جولین اسانج نے لند ن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں سیاسی پناہ لی ہوئی ہے، جسے ترک کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔


ویکی لیکس پر 2010 سے ہی برا وقت آیا ہواتھا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مدد سے ویکی لیکس پر لیک کرنے والوں پر نظر رکھی ہوئی تھی، اس سے ایسے تمام لوگ پریشان تھے جو ویکی لیکس پر لیک کرنا چاہتے تھے۔ویکی لیکس کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے لیکس بھیجنے والوں کی شناخت کو چھپانے کے لیے نیا سسٹم بنایا ہے، جس کی مدد سے لیکس کرنے والے اطمینان سے اپنا ڈیٹا ویکی لیکس کو بھیج سکیں گے۔

(جاری ہے)

نیا سسٹم ٹور براؤزر پر چلتا ہے۔
ویکی لیکس نے کچھ مہینے پہلے گوگل پر بھی مقدمہ کر دیا تھا۔ ویکی لیکس نے الزام لگایا تھا کہ گوگل نے اس کے ملازمین کا ای میل ریکارڈ ایف بی آئی اور دوسری ایجنسیوں کے حوالے کر دیا ہے(تفصیلات اس صفحے پر

تاریخ اشاعت: 2015-05-02

Your Thoughts and Comments