وانا ،طوفانی بارشوں اور ژالہ باری نے تباہی مچادی،8افراد جاںبحق ،9افراد کو بچا لیا گیا

دو قصاب خانے ، ایک گاڑی اور تین پک اپ سنگل کیبن گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں، کھڑی فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا

وانا ،طوفانی بارشوں اور ژالہ باری نے تباہی مچادی،8افراد جاںبحق ،9افراد ..
وانا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اپریل2019ء) ضلع جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کواٹر وانا میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں8افراد جاںبحق جبکہ انتظامیہ ،سیکورٹی فورسز اور عوام نے نو افراد کو بچالیا ،وانا بازار میں دو قصاب خانوں کے علاوہ مختلف مقامات پر ایک موٹر کار اور تین عدد پک اپ سنگل کیبن گاڑیاں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئیں ،ژالہ باری سے وانا اور برمل تحصیلوں میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ۔

ہفتہ کو اسسٹنٹ کمشنر وانا امیر نواز نے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز وانا میں ہونے والی طوفانی بارشوں کی وجہ سے تحصیل توئی خلہ خان کوٹ گلہ خان کلے میں باراتیوں سے بھری پیکپ سیلابی ریلے میں پھنس گئیں جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ خواتین جن میں زلیخہ ،گل جانہ بی بی ،جمالہ بی بی ،ناٹہ بی بی،کتانہ بی بی اور گل پارو شامل تھیں جان بحق ہوکر انکی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دیگر 5افراد کو مقامی لوگوں اور لیویز فورس نے بچالیا جن میں ایک خاتون ،تین بچے اور ڈرائیور شامل ہے مر نے والوں کا تعلق میاں خیل قبیلے سے ہے انکی لاشیں جب آبائی گاؤں گلہ خان کلے پہنچیں تو کہرام مچ گیا اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھیں ۔

(جاری ہے)

نمازجنازہ میں ہزاروں لوگوں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں و افسران نے شرکت کی۔دوسری جانب وانا کے علاقہ وچہ خواڑہ میں 6 افراد سیلابی ریلے کی زد میں آگئے جس میں سے دو بچے جان بحق اور دیگر چار افراد کو سکاؤٹس فورس اور لیویز فورس نے ریسکیوکرکے ہسپتال منتقل کردیا جہاں انکا علاج شروع کر دیا گیا ۔ادھر رستم بازار وانا میں دو قصاب خانے کے علاوہ مختلف مقامات پر ایک سراچہ گاڑی اور تین پک اپ سنگل کیبن گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں ۔

طوفانی بارشوں کے ساتھ ساتھ تحصیل وانا اور تحصیل برمل میں مختلف جگہوں پر ژالہ باری کی وجہ سے کھڑی فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ۔وانا کے زمینداروں نے جانی نقصان کے ازالے کے ساتھ ساتھ مالی نقصان پورا کرنے کیلئے اعلیٰ حکام سے تعاون کی اپیل کی ۔واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہیڈکواٹر وانا کی ذرخیز زمینیں مسلسل ژالہ باری کی لپیٹ میں ہیں اور یہاں کے لوگوں کا دارومدار بھی انہی کھیت اور باغات پر ہیں جن کے ساتھ آج تک حکومت کی طرف سے کوئی مالی تعاون نہیں کیا گیا ہے ۔

Your Thoughts and Comments