کراچی،شدید طوفانی ہوائوں کے باعث مختلف حادثات و واقعات میں3افراد جاں بحق جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے

گرد آلود تیزہوائیں چلنے سے سائن بورڈز، درخت اورکھمبے گر گئے، کے الیکٹرک کی ہائی ٹینشن لائن بھی ٹرپ کرگئی، کئی علاقوں میں گھنٹوں تک بجلی غائب رہی

کراچی،شدید طوفانی ہوائوں کے باعث مختلف حادثات و واقعات میں3افراد جاں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اپریل2019ء)شہرقائد میں شدید طوفانی ہوائوں کے باعث مختلف حادثات و واقعات میں3افراد جاں بحق جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں، گرد آلود تیزہوائیں چلنے سے سائن بورڈز، درخت اورکھمبے گر گئے، کے الیکٹرک کی ہائی ٹینشن لائن بھی ٹرپ کرگئی، کئی علاقوں میں گھنٹوں تک بجلی غائب رہی۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں گرد آلود تیزہوائوں نے کراچی کا رخ کرلیا،فضا میں دھول مٹی کی مقدار معمول سے کئی گنا بڑھ گئی اور حد نگاہ کم ہوگئی ہے۔

گرد آلود ہوائوں کی وجہ سے شہر میں جگہ جگہ درخت زمین اکھڑکرگرپڑے کئی علاقوں میں بجلی کی تاریں بھی ٹوٹ گئی ہیں جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق گرومندر کے قریب تیز ہوا سے درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

(جاری ہے)

نارتھ ناظم آباد میں پیپلز چورنگی کے قریب بھی درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔نارتھ ناظم آباد عبداللہ کالج کے قریب تیز ہوائوں کے باعث بجلی کا تار چلتی گاڑی پر گرا جس سے فوری آگ بھڑک اٹھی اور اس میں سوار افراد جھلس کر زخمی گئے۔

مذکورہ افراد اورنگی ٹائون میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔گزشتہ شب تیز ہوائوں کے باعث کورنگی ڈھائی نمبر کے حاجی مرید گوٹھ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 5سالہ بچی مہک جان کی بازی ہار گئی تھی جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق شدید طوفانی ہوائوں سے جامع مسجد فش ہاربر کی چھت اڑ گئی، جس سے موذن زخمی ہوگیا۔

سمندر کے کنارے واقع مسجد کی چھت فائبر اور پائپوں کی مدد سے عارضی طور پر بنائی گئی تھی جو شدید ہوا کا دبائو برداشت نہیں کر سکی، طوفانی ہوا سے فائبر شیٹس اور پائپوں کا ملبہ اطراف میں پھیل گیا۔بہادر آباد میں ٹیپوسلطان سگنل کے قریب ایک نجی اسکول کی عارضی چھت گر گئی، ریسکیو ذرائع کے مطابق پائپس اور شیڈ سے بنائی گئی چھت شدید طوفانی ہوائوں کا دبائو برداشت نہ کر سکی، حادثے میں متعدد بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

کلفٹن میں تین تلوار کے قریب بجلی کا پول گر گیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے، حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔طوفانی ہوائوں سے لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں دینی مدرسے کی عارضی چھت گرنے سے متعدد بچے زخمی ہوگئے ہیں۔سرجانی ٹائون میں لیاری ایکسپریس وے کے مکینوں کی بستی میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے ملبے تلے متعدد افراد کے دب کر زخمی ہوگئے۔

تیز ہوائوں سے کئی علاقوں میں بجلی کی تار ٹوٹ گئے جس سے بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ تیز ہوا کے ساتھ ہلکی بارش نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ سڑکوں پر نکلنے والے موٹر سائیکل سوار پھسلتے رہے تو گھروں میں بیٹھے شہری گرمی میں بجلی سے محروم ہوگئے۔گرد آلود اور تیز ہواں کی وجہ سے ماہی گیروں کی کشتی ڈوب گئی تاہم ماہی گیروں نے جانیں بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگیں لگائیں اور تمام 13 ماہی گیر بحفاظت اپنے اپنے گھروں تک پہنچ گئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے راستے ایران سے بارش کا نیا سسٹم داخل ہوا ہے جس کے تحت مزید 2 روز بارشوں اور طوفانی ہواں کا سلسلہ جاری رہے گا۔جاتی، ٹھٹھہ، ٹنڈوجام سمیت ساحلی علاقوں میں بھی تیز ہواں کے ساتھ مٹی کا طوفان جاری ہے جس سے متعدد کچے مکانات کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کی جانب سے چلنے والی ہواں کی رفتار 80 کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی زائد ہے۔

Your Thoughts and Comments