موسم برسات میں بجلی کے استعمال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے،

بارش کے موسم میں بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں اوران کوچھونے سے گریزکریں، گھرکے اندرکسی بھی گیلی یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کریں، ترجمان پاور ڈویژن

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جولائی2019ء) ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ موسم برسات میں بجلی کے استعمال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، بارش کے موسم میں بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں اوران کوچھونے سے گریزکریں، کھمبوں کے قریب کھڑے ہوئے پانی میں بھی بعض اوقات کرنٹ ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے بچ کر گزریں، گھرکے اندرکسی بھی گیلی یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کریں۔

منگل کو ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ برسات کے موسم میں عوام الناس کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے موسم میں بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں اوران کوچھونے سے گریزکریں، کھمبوں کے قریب کھڑے ہوئے پانی میں بھی بعض اوقات کرنٹ ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے بچ کر گزریں، گھرکے اندرکسی بھی گیلی یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گیلے ہاتھوں،کپڑوں یاجوتوں کی موجودگی میں سوئچ، بجلی کی تار یا پنکھے وغیرہ کوہرگزنہ چھوئیں، پیڈسٹل پنکھے کوکبھی بھی چالوحالت میں اِدھر اٴْدھر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب لائن سٹاف کام کر رہا ہو تو ان کے قریب نہ کھڑے ہوں، اگر گھر میں پانی داخل ہوجائے تو بجلی کے مین سوئچ بند کردیں۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کو بجلی کے کھمبوں یا انہیں سہارا دینے والے تار سے نہ باندھیں، ٹرانسفارمر یا بجلی کی ہائی ٹینشن تاروں کے نیچے مویشی نہ باندھیں، بجلی کی ہائی ٹینشن تاروں کے نیچے تعمیرات نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بارش کا پانی گھر میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے تو برقی آلات اور قیمتی سامان کو بالائی منزل پر پہنچا دیں۔ انہوں نے کہا کہ کپڑے خشک کرنے کے لئے دھاتی تار کی بجائے پلاسٹک کی رسی یا ڈوری پر ڈالیں۔ برقی آلات کے ساتھ تین پن والے شو استعمال کریں اور ان کو ارتھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ استری کرتے اور کپڑے دھوتے وقت پائوں کے نیچے موٹا سوتی کپڑا، کمبل کاکپڑا، لکڑی یا ربڑ میٹ کا کوئی خشک کپڑا ضرور رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کوپلگ سے شو کو الگ کروانے سے مکمل گریزکریں، کسی بھی حادثے یا شارٹ سرکٹ کی صورت میں فوری طورپر متعلقہ شکایات دفترمیں شکایت درج کروائیں۔

Your Thoughts and Comments