خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس،مختلف اداروں کے آڈٹ کے حوالے سے تفصیلی بحث

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 ستمبر2019ء)خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بدھ کے روز منعقدہ اجلاس میں 2011-12 کے دوران مختلف اداروں جن میں زیادہ تر کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے کے لیے پولیس کی خدمات کے سلسلے میں 69 ملین روپے کی وصولی کے لئے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے کمیٹی نے مزید ہدایت کی ہے کہ ایسے اداروں کے ساتھ باقاعدہ دستخط شدہ معاہدے کئے جائیں تاکہ مذکورہ رقوم، زیرالتوا رکھنے کی بجائے صوبائی حکومت کو ماہانہ طور پر ادائیگی ہوتی رہے۔

کمیٹی نے اکتوبر 2012 میں آڈٹ کے دوران ریکارڈ شدہ آڈٹ پیرا کو بھی اٹھایا ہے اور ان مذکورہ اداروںمیں واپڈا، پی ٹی وی،ریڈیو پاکستان اور نادرا شامل ہیں اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیٹی کی ہدایات کے پیش نظر1243947 روپے کی رقم وصول کرلی گئی ہے جبکہ بقیہ دیرینہ واجبات ابھی تک زیر ادائیگی میں ہیں۔

(جاری ہے)

اسلام آباد میں منعقد ہونے والے کمیٹی کے اجلاس کے ساتھ ساتھ یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کے زیراہتمام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ایک تربیتی نشست کا انعقاد بھی کیا گیا جن کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی جبکہ اس میں پی اے سی ممبران نگہت اورکزئی، عنایت اللہ خان، سردار محمد یوسف،خوشدل خان، محمد ادریس خان اور سید فخر جہان نے بھی شرکت کی اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سیکرٹری اور سینئر پولیس افسران بھی شرکاء میں شامل تھے۔

کمیٹی نے متعلقہ حکام کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ وضاحت کریں کہ کسی قانون اور کسی مقصد کیلئے 2010-11 اور2011-12 کے دوران پولیس اہلکاروں کی عارضی تقرریوں سے مختلف کٹوتیاں کی گئیں مناسب طور پر پوزیشن کی وضاحت پر کمیٹی نے دہشت گردوں کے خلاف مختلف آپریشنز کے دوران پولیس کی جانب سے کئے گئے مختلف اخراجات سے متعلق کثیر تعداد میں آڈٹ پیراز نمٹا دئے۔

پی اے سی نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مختلف حکومتی اداروں سے 50/- ملین روپے سے زائد رقوم وصول کر لی گئی ہیں اور پی اے سی کی گزشتہ حالیہ ہدایات کے مطابق مختلف حکومتی اداروں کے خلاف قانونی اور انضباتی دونوں کا روائیاں بھی کی گئی ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلپمنت پروگرام (UNDP ) نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ممبران کی استعداد کار میں اضافے کیلئے اسلام آباد میں ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا ہے جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی بھی شرکت کر رہے ہیں جو پی اے سی کے چیئرمین بھی ہے۔

یو این ڈی پی کی ایک سینئر ٹیم اپنے لیجسلیٹیو کنسلٹنٹ محسن عباس کی زیر قیادت یہ تربیت فراہم کر رہی ہے اور یہ پی اے سی کی اہمیت ذمہ داریوں اور کار گزاری پر مبنی ہے۔ جیسا کہ دنیا بھر میں خاص کر جمہوری طور پر مستحکم اور باشعور ممالک میں عمل در آمد کیا گیا۔قبل ازیں یو این ڈی پی کی جانب سے خیبر پختونخوا کے ممبران اسمبلی کیلئے کثیر تعداد میں ایسے سیشنز کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال جولائی میںبھوربن میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی ٹاسک فورس کیلئے روڈ میپ طے کرنے پر ایک پالیسی مزاکرے، سمیت دیگر اقدامات کئے گئے ہیں جن میں رولز آف بزنس کے طریقہ کار اور انعقاد کے دوبارہ جائزے اور نظر ثانی کیلئے اسلام آباد میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی ٹیکنیکل کمیٹی کے سیکرٹریٹ، خواتین کی پارلیمانی کاکس کے اجلاس کا گزشتہ ماہ اسلام آباد میں انعقاداور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الصوبائی پارلیمانی ورکشاپ کا گزشتہ ماہ بھوربن میں انعقاد شامل ہے۔

Your Thoughts and Comments