مولانا فضل الرحمان سیاست ایک طرف رکھیں اور آزادی مارچ میں کشمیر کا اضافہ کریں،فی الحال اپنی توانائی بھارت پر مرکوز رکھیں، مولاناکشمیر سے تھوڑی وفا کر لیں ، وہ 10 سے 15سال انجوائے کرتے رہے اور تنخواہ لیتے رہے، اب تنخواہ حلال کرنے کا وقت آ گیا ہے

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2019ء) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سیاست ایک طرف رکھیں اور آزادی مارچ میں کشمیر کا اضافہ کریں،فی الحال اپنی توانائی بھارت پر مرکوزکر یں، مولاناکشمیر سے تھوڑی وفا کر لیں جس کو وہ 10 سے 15سال انجوائے کرتے رہے اور تنخواہ لیتے رہے، اب تنخواہ حلال کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا ٹریبونلز کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹریبونلز کا مقصد کسی کے خلاف جعلی خبر کا تدارک کرنا ہے، میڈیا کی اہمیت سے ہر کوئی واقف ہے اور دو تین سوشل میڈیا موومنٹ میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹریبونلز کا مقصد میڈیا کو مضبوط کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں کو آپس کے اختلافات بھلا کر ایک پیج پر آنا چاہیے، صدر مملکت نے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کی بات کی لیکن اپوزیشن نے نہیں سنی جو کہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں سکول کی بچیوں کیلئے حجاب لازمی قرار دینے کے فیصلے کو احسن اقدام قرار دیا اور کہا یہ عین اسلام اور مدنی ریاست کے مطابق ہے، عجلت میں اس فیصلے کو واپس لینے پر میں متفق نہیں، فیصلہ بحال کیا جائے ، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی سے بھی اس پر بات کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے شیریں مزاری سے کوئی اختلاف نہیں، انہوں نے اپنی رائے دی ہے اس کا غلط مطلب نہ نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ فرانس سمیت کئی ممالک میں مسلم خواتین حجاب کیلئے لڑ رہی ہیں پاکستان تو ہے ہی اسلامی ملک اس میں اسلامی نظام ہی رائج ہونا چاہیے، قرآن میں بھی پردے کا حکم ہے تاکہ آپ کو تکلیف نہ پہنچے مردوں کو بھی اپنی آنکھیں نیچے رکھنے کا حکم ہے، جو اللہ کا حکم ہے اس کا مذاق نہ اڑایا جائے۔

Your Thoughts and Comments