رات کے اندھیرے میں فریال تالپور کو اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا، نیب کاکالا قانون پولیٹیکل انجینئرنگ کے لئے بنایا گیا ،ہماری یہ خواہش ہے کہ پارلیمنٹ مدت پوری کرے، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتا ہوں

پاکستان پیپلز پارٹی کے کے چیئرمین مین بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رات کے اندھیرے میں فریال تالپور کو اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا، نیب کاکالا قانون پولیٹیکل انجینئرنگ کے لئے بنایا گیا ،ہماری یہ خواہش ہے کہ پارلیمنٹ مدت پوری کرے، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملہ پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے نیب کے ذریعہ ختم کرایا گیا۔ اہم موقعہ پر مریم نواز کو گرفتار کیا گیا۔میں عید کی نماز پڑھنے مظفر آباد جا رہا تھا تو رات کے اندھیرے میں فریال تالپور کو اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا۔آج سینیٹ کے اہم سیمینار کے دوران خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

تا کہ کشمیر کی ناکامی پر بات کرنے کے بجائے توجہ بدل جائے ۔کشمیر کے معاملہ پر جو لڑائی لڑنا پڑی ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کے اکتوبر دھرنے کی اخلاقی حمایت کا اعلان کیا۔قابل عمل لائحہ عمل بنانے کے لئے مولانا کے پاس وفد بھیج رہا ہوں۔ ہر صورت میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھا جائے آئین کی بالادستی ہو۔18ویں ترمیم کا تحفظ اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ہم چاہتے ہیں کہ تمام سرکاری اداروں کا احتساب ایک ہی طریقہ کار کے مطابق ہوہم انسانی و جمہوری حقوق کی لڑائی جاری رکھیں گے۔جلد پنجاب میں رابطہ مہم شور کریں گے۔ اکتوبر میں اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی حمایت کی ہے۔رہبر کمیٹی میں ہم نے جو اعتراضات اٹھائے وہ ابھی تک ایڈریس نہیں ہوئے۔ہم اپنے نمائندے مولانا فضل الرحمن کی طرف بھیج رہے ہیں ۔

ہم نے رہبر کمیٹی میں بھی بات کی اور اب بھی مولانافضل الرحمن کے سامنے رکھیں گے کہ پارلیمانی نظام سلامت رہے۔ہم ایسا احتساب کا نظام چاہتے ہیں جو یکساں ہو۔جو بھی سرکاری تنخواہ لیتا ہے ان سب کا ایک ہی احتساب کا ادارہ ہو۔کسی بھی صورت کسی پی این اے جیسے الائنس کا حصہ نہیں بن سکتا ، اپنے ملک میں سیاسی مخالفین کو قید کر کے مقبوضہ کشمیر ر میں کرفیو اور کشمیریوں کیسے وہاں انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھائے گا ۔

بلاول بھٹو زرداری کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ہم ماضی میں کسی دھرنے کا حصہ بنے نہ آئندہ کسی دھرنے کا حصہ بنیں گے۔ ہماری یہ خواہش ہے کہ پارلیمنٹ مدت پوری کرے، عمران خان بوجھ بن چکے ہیں۔سندھ حکومت ہٹانے کی آج کی نہیں ایک سال سے کوشش ہو رہی ہے۔پارلیمان نہیں رہے گی تو حکومت کون چلائے گا ۔ربر اسٹمپ پارلیمنٹ اور ربر اسٹمپ اسپیکر ہے اور کٹھ پتلی حکومت ہے۔میں قطعی پی این اے جیسی تحریک کی حمایت نہیں کرسکتا۔

Your Thoughts and Comments