فیصل آباد: موسمیاتی تبدیلیاں ، غیر یقینی صورتحال ، درجہ حرارت میں اضافہ

بے موسمی بارشوں، ژالہ باری اور تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کے کاشتی امور پر اثر انداز ہورہی ہیں ۔ بدلتے موسمی حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، موسمی حالات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام اور کاشتی امور ہی اس کا بہترین اور اولین حل ہے ،چوہدری ساجد اقبال سندھو چئیرمین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اگرانومی

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 اکتوبر2019ء) موسمیاتی تبدیلیاں ، غیر یقینی صورتحال ، درجہ حرارت میں اضافہ ، بے موسمی بارشوں، ژالہ باری اور تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں فصلوں کے کاشتی امور پر اثر انداز ہورہی ہیں ۔ بدلتے موسمی حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ موسمی حالات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام اور کاشتی امور ہی اس کا بہترین اور اولین حل ہے۔

ان خیالات کا اظہارچوہدری ساجد اقبال سندھو چئیرمین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اگرانومی نے شعبہ اگرانومی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زیر اہتمام ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر حافظ محمد اکرم ڈائریکٹر اگرانومی ، ڈاکٹر محمد طارق نمائندہ پرائیوٹ سیڈ کمپنی ،عباس علی گلِ اسسٹنٹ اگرانومسٹ ، ڈاکٹر محمد رفیق اسسٹنٹ اگرانومسٹ ، ڈاکٹر فقیر محمد انجم ، ڈاکٹر نور محمد مجاہد اسسٹنٹ اگرانومسٹ، ڈاکٹر کاشف منیر کے علاوہ زرعی ماہرین اور کاشتکاروں کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر حافظ محمد اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی پیداوار پر موسمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کے لیے زراعت کو بہتر کرنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کاشتکاروں کو زرعی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی جبکہ کم دورانیہ کی اقسام اور زیروٹیلج کے طریقہ کاشت کوبھی ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیرو ٹیلج ٹیکنالوجی سے پانی کی بچت اور زمین کی ساخت بہتر ہونے کے علاوہ زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوگا ۔ گوبر کی کھاد کا استعمال دوبارہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلائمیٹ چینج ریسرچ یونٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments